Daily Mashriq


پاکستان کا اہم جُغرافیائی محل وقوع

پاکستان کا اہم جُغرافیائی محل وقوع

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ انتہائی اچھی جُغرافیائی اور سٹریٹجک حیثیت بھی دی ہوئی ہے۔ پاکستان خلیج فا رس کے قریب ہے جہاں سے دنیا کا 65 فی صد تیل نکلتا ہے ۔ پاکستان دو طا قتوں روس اور چین کے درمیان واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اتحادی افغانستان پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور وہ افغانستان سے نہ صرف ان طاقتوں یعنی روس اور چین کو قابو کرنا چاہتے ہیں بلکہ وسطی ایشیائی ریا ستوں کے وسائل پر قبضہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ہم غور کرلیں تو امریکہ کا افغانستان پر قبضہ کرنے کا مقصد جُغرافیائی اور سٹریٹجک علاقے پر قبضہ کرنا ، چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی یعنی ۹ فی صد کی شرح کو روکنا ، امریکہ کا عراق ، لیبیا اور شام کی طرح افغا نستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں حملہ آورہونا، بھارت جسکی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اس کی مارکیٹ پر قبضہ کرکے اس سے فائدہ اُٹھانا، بھارت کے ساتھ سٹریٹجی اور دفاعی نو عیت کے تعلقات رکھ کر بھارت اور امریکہ کا علاقہ اور دنیا کا دادا گیر بننا اور اسکے علاوہ اور بھی ان گنت منفی عزائم ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی جُغرافیائی حیثیت پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا جُغرافیائی محل وقو ع انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2340 کلومیٹر طویل سرحد ہے چین کے ساتھ پاکستان کی سرحد 596 کلومیٹر، بھارت کے ساتھ 2240 کلومیٹر ، لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 909 کلومیٹر طویل ہے اور پاکستان کا واخان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں سے بھی رابطہ ہے۔اگر ہم مزید غور کریں تو امریکہ اور اتحادی، وسطی ایشیائی ریاستوں اُزبکستان، قازقستان، تاجکستان، کر غزستان اور ترکمانستان کے معدنی وسائل اور تیل اور گیس پر کسی نہ کسی صورت قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔اور یہ گریٹ گیم کا حصہ بھی ہے۔ اگر ہم پاکستان کے جُغرافیائی محل وقوع پر نظر ڈالیں تو یہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے بُہت قریب ہے جو ایران سے شروع ہو کر سعودی عرب تک وسیع علاقہ ہے ۔ اگر مزید غور کریں تو پاکستان تیل کی شپمنٹ میں کلیدی کر دار ادا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستا ن کی ہر ملک کے ساتھ جُغرافیائی سر حدیں ملی ہوئی ہیں۔ اسی طرح ایران بھی اس کو شش میں ہے کہ وہ سر پلس تیل اور گیس قطر پاکستان ترکمانستان کو ایکسپورٹ کرے اور اسی مقصد کے لئے پاکستان کلیدی کر دار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ، بھارت اور ترکمانستان کو توانائی کی کمی کا سامنا ہے ۔ اور چین کی بھی کو شش ہے کہ وہ بحر ہند اور بحیرہ عرب تک قراقرم کا راستہ اختیار کرے ۔ یہاں یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اپنی جُغرافیائی حیثیت سے فائدہ اُٹھا کر لینڈ لاک یعنی ہر لحا ظ سے کٹے ہوئے ملک افغانستان کے لئے ٹرانزٹ تجارت کا انتظام کرسکتا ہے۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو چین جسکی اقتصادی شرح 9 فی صد ہے یہ سنکیانگ سے 4500کلومیٹر دور ہے اور گوادر چین سے 2500 کلومیٹر یعنی کم فاصلے پر واقع ہے ۔ تو چین پاکستان کی جُغرافیائی حیثیت سے مزید فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں سے ایران یا تُر کی کے راستے بالترتیب 4500 اور 6000 کلومیٹر دور ہے اور وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کا فا صلہ اسکے بجائے 2500 کلومیٹر بنتا ہے جو ترکی اور ایران سے کم فا صلے پر ہے۔تو وسطی ایشیائی ریاستیں اور سائوتھ ایشین ممالک بھی پاکستان کے جُغرافیائی محل وقوع سے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ گوا در گہرے سمندر کی وجہ سے چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے انتہائی اہم ہے ۔ ا گر ہم پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ایک طرف یہ وسطی ایشیائی ریاستوں ، ایران چین اور جنوبی افریقہ کی طرف پہنچتا ہے۔ ان تمام باتوں کا حا صل یہ ہے کہ پاکستان کا جُغرافیائی محل وقوع اس کے وسائل سے اہم ہے اور اس محل وقوع اور وسائل سے زیادہ فا ئدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے پڑو سیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے اور ساتھ ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو بھی بہتر بنائے کیونکہ جب تک خارجہ پالیسی بہتر نہیں ہوگی اُس وقت تک پاکستان کے وسائل اور پاکستان کے جُغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اُٹھایا نہیں جا سکتا ۔ کیو نکہ خارجہ پالیسی کا ملکوں کی ترقی میں اہم کردار ہو تا ہے۔ نواز شریف کے پو رے دور حکومت میں پاکستان کا فُل ٹائم وزیر خا رجہ نہیں تھا اور اُنہوں نے یہ قلم دان بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں پاکستان کو بے تحا شا سفارتی مسائل نے آن گھیرا مگر بد قسمتی سے ہمارے پا س اسکے لئے کوئی حل نہیں تھا جب تک ہمارے اپنے پڑوسی ممالک سے سفارت کا ری اور خارجہ پالیسی اچھی نہیں ہو گی اس وقت تک ہم اپنے وسائل اور پاکستان کے جُغرافیائی محل وقوع سے اچھے طریقے سے مُستفید نہیں ہو سکتے ۔پاکستان کو اپنے جُغرافیائی محل وقوع سے ہر حالت میں فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ اگر پاکستان کے حکمران عقل مند ہوتے تو پاکستان کے لئے اس جُغرافیائی محل وقوع کی آمدن سے بڑ ھ کر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں