Daily Mashriq


عوام غریب‘ سیاستدان کروڑ پتی

عوام غریب‘ سیاستدان کروڑ پتی

اگرچہ قیام پاکستان کے وقت بھی عوام غریب اور انگریز کے پروردہ مخدوم‘ سردار‘ وڈیرے‘ ٹوانے اور کئی اور قسم کے لوگ اسی طرح امیر و دولت مند تھے جس طرح آج ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ہے بلکہ آج کے یہ امراء ‘ وزراء اور جاگیر دار زیادہ تر ان ہی کی اولادوں میں سے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل بھارت میں مسلمانوں کی معاشی حالت کی ابتری زیادہ تر تجارت اور معاشی سر گرمیوں پر ہندو ساہو کاروں‘ صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے غلبہ اور قبضہ کے سبب تھی۔ انگریز نے ڈیڑھ صدی میں مسلمانان ہند کو ہر لحاظ سے دیوار سے لگا کر بہت کمزور کیا لیکن معیشت کے میدان سے تو بالکل نکال باہر کیا۔ قائد اعظم‘ لیاقت علی خان‘ سردار عبدالرب نشتر جیسی شخصیات کے سامنے پاکستان سے مراد ایک ایسی مملکت کا قیام تھا جس میں سارے اہل وطن کو اپنی صلاحیت‘ استعداد اور کوائف کے مطابق حلال اور جائز روزی روٹی کمانے کے مواقع میسر ہوں۔ یہ تب ممکن تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظام معیشت رائج کیاجاتا۔ اسلامی نظام معیشت کا نفاذ شریعت کے نفاذ ہی سے ممکن تھا۔ قائد اعظم اس حوالے سے کتنے پر جوش اور پختہ اور واضح عزم کے حامل تھے اس کا اندازہ کراچی میں سٹیٹ بنک کے افتتاح کے موقع پر تقریر کو پڑھ کر لگایا جاسکتا ہے جس میں واضح طور پر بغیر کسی لگی لپٹی کے بتایاہے کہ دنیا نے سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام ہائے معیشت کا تماشا دیکھ لیا ہے۔ پاکستان میں ہم اسلامی نظام معاشیات کا نفاذ کرکے پاکستان کے ہر شہری کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کو دنیا کو دکھا کر رہیں گے۔ لیکن وائے ناکامی ! اور شومئی قسمت کہ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی میں ان دونوں قائدین کو تعمیر پاکستان کا موقع ہی نہیں دیاگیا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ بابائے قوم کو ائیر پورٹ سے سخت بیماری کی حالت میں لانے کے لئے جو ایمبولینس جاتی ہے وہ اتنی پھٹیچر ہے کہ راستے میں وہ خراب ہو جاتی ہے اور بابائے قوم ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی آخری سانسیں لیتیہیں۔ لیاقت علی خان کے لئے افغانستان سے جاہل اکبر خان کو کون لے آیا اور پھر اسے گرفتار کرکے پورا پلان حاصل کرنے کے بجائے پولیس افسران اسے گولی مار کر ہمیشہ کے لئے اس قصہ کو ختم کر دیتے ہیں۔ اور پیچھے رہ جاتے ہیں آج کے یہ اونے پونے بونے جو دھن دولت اور دھونس دھاندلی کے ذریعے اسمبلیوں میں پہنچ توجاتے ہیں لیکن بنیادی اخلاقی‘ تعلیمی اور سیاسی استعداد کے حامل نہ ہونے کے سبب عوام کے لئے کسی مثبت و تعمیری سوچ کے نہ اہل ہوتے ہیں نہ روادار‘ الا ماشاء اللہ۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ محتاط اندازے کے مطابق ساٹھ ستر فیصد اراکین اسمبلی (صوبائی و قومی) پانچ برسوں میں کسی اہم قومی اور عوامی مسئلہ‘ قانون سازی یا پوائنٹ آف آرڈر پر کوئی بات ہی نہیں کرپائے۔ کیونکہ ان میں بنیادی صلاحیت ہی نہیں تھی۔ ان کے اخلاقی معیار کا اندازہ اسمبلیوں میں ایک دوسرے پر تنقید اور ٹی وی چینلز پر ایک دوسرے کو گالم گلوچ کے علاوہ ہاتھا پائی اور دھمکیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔اب اس وقت الیکشن کمیشن کا انتخابی فارم بھرنے کی مجبوری کے تحت جھوٹ زیادہ اور سچ کم ملا کر ان بڑی پارٹیوں کے بڑے بڑوں کے اثاثوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں کیا یورپ کے کسی ملک میں کسی سیاستدان کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ کیا کسی غریب ملک میں جہاں کے عوام پانی‘ روٹی‘ علاج اور تعلیم کے لئے ترستے ہوں ان کے سیاسی رہنما اس غریب ملک میں اتنے امیر کہ ملک تو ملک ‘ ملک سے باہر بھی اربوں کے اثاثوں کے مالک ہیں اور ملک کا یہ حال ہے کہ معاشی بد حالی اور ابتری کے سبب معاشی ماہرین پانچ برسوں کے اندر دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں۔ یہودی ساہو کاروں سے سود مرکب پر ملک چلانے کے لئے قرض خودکشی اور خود سوزی کے مترادف ہے۔ معلوم نہیں یہ سیاستدان کس منہ سے غریب عوام کے ساتھ ہمدردی کا دم بھرتے ہیں اور اپنا ایک پیسہ اربوں میںسے نکال کر (جو انہوں نے پاکستان کے سبب اور زیادہ تر نے کرپشن کے ذریعے کمایا ہے) عوام کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرنے کے روادار نہیں۔ اگر ہر ارب پتی سیاستدان سالانہ صرف پانچ فیصد عوام کے لئے خرچ کرتا تو آج پبلک سیکٹر پر اتنا دبائو نہ ہوتا۔چلو دفع کرو‘ یہ انگریز کی دی ہوئی جاگیروں اور اپنے مناصب اور سیاسی عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کمائی میں سے عوام کے لئے کچھ خرچ نہ کریں لیکن خدارا انتخابی مہم پر لاکھوں کروڑوں تو خرچ نہ کریں کہ پھر منتخب ہونے کے بعد پہلی ترجیح یہ قرار پاتی ہے کہ کس طرح ڈبل ٹرپل کرکے وہ خرچہ نکال سکیں۔ سیاستدانوں کو یاد رکھناہوگاکہ اب کے اور ساٹھ ستر کی دہائیوں کے ووٹرز میں شعوری بیداری کے لحاظ سے بڑا فرق واقع ہواہے۔ پچھلے دنوں سرائیکی بیلٹ کے نوجوانوں نے پانچ برس منہ دکھانے والے سیاستدان کا جو حشر کیا ہے وہ کسی بھی اس دوسرے سیاستدان کا ہوسکتا ہے جو ووٹ لیکر کرپشن کا مرتکب ہو یا شفاف طریقے سے عوامی خدمت کے بجائے اسلام آباد میں ڈیرے جمانے والا ہو۔ پاکستان کے عوام اب بہت تنگ آچکے ہیں اور مزید اپنے ملک و قوم کی بے عزتی و بربادی برداشت کرنے والے نہیں۔ لہٰذا 2018ء کے انتخابات میں اترنے والوں کو خیال رکھنا ہوگا۔ کیونکہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہوا کہ عوام کھنگال اور سیاستدان ارب پتی؟۔

متعلقہ خبریں