Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ہارون رشید نے اپنے ایک خادم کو حکم دے کر کہا: ’’ جب رات ہو جائے تو فلاں حجرے کے پاس جا کر اسے کھولنا اور تمہیں اس میں جو بھی شخص نظر آئے اسے پکڑ کر لانا۔ پھر فلاں صحرا کی کھائی میں اسے پھینک کر مٹی سے ڈھانپ لینا اور تمہارے ساتھ فلاں دربان بھی ہونا چاہئے۔چنانچہ خادم حجرے کے دروازے کے پاس آیا اور اسے کھولا‘ اس میں ایک نوجوان تھا جو ایسامعلوم ہوتا تھا گویا وہ طلوع ہوتا ہوا سورج ہے تو خادم نے اسے زور سے کھینچا۔اس نے کہا: اللہ سے ڈرو میں رسولؐ کی اولاد میں سے ہوں‘ اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘ اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘ اس بات سے ڈرو کہ تم اس کے سامنے میرے خون میں رنگے ہوئے حاضر ہو تو خادم نے ان کی بات کا کوئی دھیان نہ دیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر انہیں مقررہ جگہ پر لے گیا۔ وہاں پہنچ کر قریب ہی تھا کہ لڑکا ہلاک ہوجاتا اور اس نے وہ کھائی بھی دیکھ لی جس میں اس کو ڈالنا تھا تو اس نے ہارون رشید کے خادم سے کہا:اے شخص! جو کام تم نے ابھی کیا نہیں ‘ اس سے تو رجوع ہوسکتا ہے لیکن جو کچھ ہو چکا اس سے رجوع نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو اور پھر جو تم حکم کرو گے میں کرلوں گا۔اس نے کہا: ’’ جیسے تمہاری مرضی‘‘۔پھر نوجوان نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دعا کی :ترجمہ: ’’ اے وہ ذات! جو چھپے ہوئے بھی مہربانیاں اور احسان کرتا رہتا ہے‘ اس وقت تو میری مدد کر اور اپنی پوشیدہ مہربانی سے مجھ پر رحم کر میں تجھ ہی سے فریاد کرتا ہوں۔‘‘ اللہ کی قسم! ابھی وہ اپنی دعا پوری ہی کر پایا تھا کہ ہوا چلی اور غبار اڑا۔ حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھنے بھی نہ پائے تو وہ سب اپنے چہروں کے بل گر پڑے اور اپنے میں مشغول ہو کر نوجوان سے غافل ہوگئے۔ پھر وہ ہوا رک گئی۔ انہوں نے نوجوان کو ڈھونڈا تو وہ تھا ہی نہیں اور اس کی رسیاں پھینکی ہوئی تھیں۔خادم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ہم تو برباد ہوگئے۔ امیر المومنین تو یہ سمجھیں گے کہ ہم نے اسے رہا کردیا تو ہم انہیں کیا جواب دیں گے؟اگرہم جھوٹ بول بھی دیں گے تو پھر بھی نہیں چھوٹ سکتے کیونکہ ان کو نوجوان کی خبر پہنچ ہی جائے گی تو وہ ہمیں مار ڈالیں گے اور ہم سچ بول دیں تو کوئی ناگوار بات فوری طور پر پیش آئے گی‘‘۔اس کے ایک عقل مند ساتھی نے کہا:’’ حکما کہتے ہیں: اگر جھوٹ بچاتا ہے تو سچ تو اس سے بھی بڑھ کر پر امید ہے اور وہ تو جھوٹ سے بھی زیادہ بچانے والا ہے‘‘۔پھر وہ جب ہارون رشید کے سامنے حاضر ہوئے تو ہارون رشید نے ان سے کہا: ’’ میں نے تمہیں جو حکم دیا اس کی کیا تعمیل کی؟‘‘خادم نے عرض کیا: اے امیر المومنین! میں آپ سے بالکل سچ کہوں گا اور مجھ جیسا آدمی آپ کے دربار میں جھوٹ بولنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا‘ لہٰذا واقعہ اس طرح ہے اور پورا واقعہ بیان کردیا‘‘۔ تو ہارون رشید نے کہا :’’اللہ کی مہربانی اس کے ساتھ شامل ہوگئی‘ اللہ کی قسم! میں اسے سب سے پہلے اپنی دعا میں یاد رکھوں گا۔ اپنے کام میں لگو اور جو کچھ ہوچکا اسے راز میں رکھو۔

(کتاب حل العقال40-41)

متعلقہ خبریں