Daily Mashriq

میثاق معیشت درست این آر او نہیں

میثاق معیشت درست این آر او نہیں

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کیساتھ میثاق معیشت طے کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے اعلیٰ سطحی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی، امکان ہے کہ میثاق معیشت کمیٹی میں سینیٹ وقومی اسمبلی کے تمام سیاسی جماعتوں سے اراکین شامل کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ میثاق معیشت کمیٹی کے قیام کی تجویز اپوزیشن جماعتوں نے دی تھی تاکہ سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما ملکی معیشت میں بہتری کیلئے تجاویز دے سکیں۔ میثاق معیشت کی پیشکش حزب اختلاف کے قائد میاں شہباز شریف نے اپنے بجٹ تقریر میں بھی کی تھی، وزیراعظم عمران خان کا حزب اختلاف کی جماعتوں کی تجویز پر میثاق معیشت پر آمادگی نہ صرف ملک کی معاشی صورتحال کو مشاورت، ہم آہنگی اور تعاون کی فضا میں چلانے کی سعی ہوگی بلکہ اس سے حکومتی تناؤ کی کیفیت میں بھی کمی ممکن ہے۔ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اچانک ایک دوسرے کی بات سننے سے اس کی ابتدا لگتی ہے، سیاسی معاملات معاشی معاملات پر اثرانداز ہوتے ہیں حزب اختلاف اور حکومت کے تعلقات، قومی اسمبلی وسینیٹ میں بحث ومباحثہ اور خاص طور پر وہاں کا ماحول سٹاک ایکسچینج کے اُتار چڑھاؤ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کار بھی سیاسی استحکام، حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی اور پالیسیوں کا تسلسل دیکھ کر ہی سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ کھایا پیا معاف قسم کی کوئی سودابازی ہوجائے، جو لوگ ملک وقوم کی امانت اور قومی خزانے میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں وہ حکومت کے نہیں قوم کے مجرم ہیں، ان کا کڑا احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن احتساب کی آڑ میں سیاسی مخاصمت اور احتساب کے عمل کو سیاست زدہ نہیں ہونا چاہئے۔ احتساب کا عمل سیاسی معاملات سے بالکل الگ رکھ کر زیادہ تشہیر سے اجتناب کرتے ہوئے خالصتاً قانونی طریقے سے ہونا چاہئے اور اس کا بلاامتیاز ہونا ہی اس کی کامیابی کی دلیل ہوگی۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان میثاق معیشت سے قبل اس امر کا تعین ہونا چاہئے کہ احتساب کا عمل رکے گا نہیں، البتہ الزام تراشی، طعنہ بازی اور غلط طور پر استعمال نہیں ہوگا۔ حزب اختلاف بھی معاشی معاملات کو پیالی میں طوفان لاکر عوام اور دنیا کے سامنے ملکی معاشی صورتحال کو سنگین سے سنگین تر صورتحال بنا کر پیش کرنے سے گریز کرے گی۔ اب اس امر کا تعین ہونا چاہئے کہ معاشی معاملات، بدعنوانی، کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال، خلاف قابلیت واستعداد بھرتیاں جیسے معاملات سیاسی نہیں اخلاقی وقانونی اور قومی جرائم ہیں جن کو موضوع بحث بنا کر اس کی شدت میں کمی لانے اور ان کو پروپیگنڈہ قرار دیئے جانے کے امکان کو بڑھانے کی بجائے بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس چلا کر الزام ثابت کیا جائے گا۔ سزا پانے والے کی حیثیت پہلے ملزم اور پھر مجرم کی ہوگی اور اسی حد تک ہی رہے گا، نہ اس میں سیاسی انتقام شامل ہوگا نہ میڈیا کو اسے اُچھالنے کی اجازت دی جائے گی، صرف قوم کو یہ بتایا جائے گا کہ کون کس الزام میں گرفتار تھا، ان کیخلاف کیا کیا الزامات تھے، کیا کیا الزامات ثابت ہوئے اور عدالت نے کتنی سزا دی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاستدان سیاسی معاملات کو سیاسی حد تک رکھنے اور ایشوز پر ایوان زیریں اور ایوان بالا ہی میں مفصل ومدلل بحث تک محدود رکھنے کا فیصلہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ سیاستدان لڑائی ٹی وی سکرینوں پر لڑ کر کسی اور کا نہیں خود اپنے ہی کپڑے گلی میں دھو رہے ہوتے ہیں۔ اب عوام کو اس امر کا بخوبی تجربہ ہو چکا ہے کہ کم وبیش سارے سیاستدان ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں اکثرتو ادھر ڈوبے ادھر نکلے قسم کے ہیں جن کا ضمیر پارٹی وفاداری کی تبدیلی کیساتھ خودکار طریقے سے اپنے پرانے لیڈروں کی خامیاں اور نئے کی مدح سرائی پر ذرا نہیں چوکتا۔ ان امور کی رعایت کیساتھ حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان میثاق معیشت کیلئے اعلیٰ سطحی پارلیمانی کمیٹی کا قیام حوصلہ افزاء اور زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ میثاق معیشت کی آڑ میں ایک اور این آو او کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی وزیراعظم کو کسی مصلحت کا شکار ہونا چاہئے۔ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے حکومت جن اقدامات پر عمل پیرا ہے اس میں اتنا خیال بہرحال ملحوظ خاطر رہے کہ لوگوں کی نجی معلومات اور ان کے املاک ودولت کی تفصیل غلط ہاتھوں میں نہ جا پائیں اور ان کو بلیک میلنگ، دھمکیوں اور خدانخواستہ اغوا برائے تاوان کا سامنا کرنا پڑے۔ حکومت اور حزب اختلاف کو ملک کی مجموعی معاشی حالات، قرضوں اور خاص طور پر عوام کی حالت زار شدید مہنگائی اور خدانخواستہ ملک کے دیوالیہ ہونے جیسے نازک اور خطرناک معاملات کا ادراک کرتے ہوئے اب اقتدار کی لڑائی کو مقدم رکھنے کی بجائے معاشی حالات میں بہتری لانے کیلئے تعاون وہم آہنگی کی راہ اپنائیںاور باہم مل بیٹھ کر تجاویز واقدامات اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی صورت میں ملک وقوم کو اس سنگین صورتحال سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں