Daily Mashriq

وزیرخزانہ کا سچ اور ذمہ داری

خیبر پختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کا یہ عزم قابل قدر ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حق ہر صورت لانے کی سعی کریں گے۔ ان کی یہ بات بھی قابل تحسین ہے کہ وہ بجٹ میں ایوان اور عوام سے کچھ نہیں چھپائیں گے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ہمارا کلچر ہے کہ بجٹ میں اعداد وشمار کو چھپایا جاتا ہے بجٹ میں دی جانے والی اور بعد ازاصلی اعداد وشمار میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرتاج عزیز پلان کے مطابق قبائلی اضلاع کیلئے پہلے تین سالوں کیلئے مختص رقم100 نہیں سالانہ 66ارب روپے تھی۔ پہلا تاریخی سال ہے جس کی دستاویز میں اے جی این قاضی فارمولہ کا نام لکھا ہے، این ایف سی کا ایوارڈ ابھی تک ہونا چاہئے تھا، اس کا ٹائم لائن جون 2020ہے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حق ہر صورت لائیں گے۔ صوبائی وزیر خزانہ کی صاف گوئی اور لگی لپٹی رکھے بغیر ایوان کو اعتماد میں لینا اور حقیقی صورتحال سامنے رکھنا اعتماد کا وہ پہلا زینہ ہے جس پر بھروسے کیساتھ قدم رکھا جاسکتاہے۔ مسائل کا حل ہونا نہ ہونا وسائل کی کمی بیشی بجٹ کے اعداد وشمار کا گورکھ دھندا سب ایک طرف جھوٹ اور مکر وفریب سے گریز قابل تعریف امر ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ وزیر خزانہ نے جس سچائی کے دعوے کیساتھ بات کی ہے اور بجٹ کو بھی سال کے آخر میں فاضل ہونے کا یقین دلایا ہے۔ یہ سب باتیں حقیقت کی صورت میں سامنے آئیں یا کم ازکم غلط ثابت نہ ہوں۔ جہاں تک این ایف سی ایوارڈ' بجلی کے خالص منافع کی رقم اور مرکز سے وسائل کی فراہمی اور حصول کا تعلق ہے ان سب پر صوبائی حکومت' وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ کا مکمل اختیار اور دسترس نہیں اسلئے وہ اس ضمن میں بھرپور جدوجہد اور حزب اختلاف کو ساتھ ملا کر وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے تک مکلف ہیں۔ اس ضمن میں بجٹ سے قبل وہ اپنی سی کوشش بھی کر چکے ہیں۔ ہمارے تئیں صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے حکومت سے زیادہ حزب اختلاف اور اسمبلی سے باہر کی قوتیں زیادہ بہتر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ احتجاج اور دباؤ ڈالنے کے دیگر حربے استعمال کرسکتے ہیں۔ بہرحال بطور حکمران جماعت اور اقتدار میں ہونے کے باعث یہ حزب اقتدار کی بھی برابر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اضافی وسائل لاکر عوامی مشکلات کا ازالہ نہ بھی کر سکے تو کم ازکم صوبے کے جائز حقوق کی وفاق سے وصولی کو یقینی بنائے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی روایات کا خون

خیبر پختونخوا کے روایتی معاشرے کی اپنی روایات ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کا بھی بہترین روایات اور اقدار کا حامل ایوان ہے۔ پختون معاشرے میں خواتین کی موجودگی میں کوئی نامناسب بات کرنا تو درکنار اشارے کنائے سے بھی کوئی ایسی بات جو ذو معنی ہو کرنے کی کوئی روایت نہیں۔ صرف پختون معاشرے ہی میں نہیں بلکہ پورے خیبر پختونخوا انہی اعلیٰ روایات اور اقدار کا حامل معاشرہ ہے لیکن جمعہ کے روز بجٹ اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں ان روایات کی جس طرح دھجیاں اُڑائی گئیں وہ اسمبلی کے وقار کے منافی ہی نہیں بلکہ باعث افسوس اور باعث شرم بھی تھا۔ معزز ایوان میں کھڑے ہو کر جن جن اراکین نے جس طرح کی زبان استعمال کی اور اشارے کئے کم ازکم ان کو قابل عزت سمجھنے کی گنجائش نہیں۔ بدقسمتی سے اس میں ایک خاتون ہونے سے یہ معاملہ اور بھی باعث شرم قرار پاتا ہے۔ یہ ساری صورتحال شرفاء اور مردوں کیلئے قابل قبول نہ تھا کجا کہ ایوان میں بیٹھی مائیں' بہنیں' بیٹیاں اسے برداشت کرتیں، جنہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار ایوان سے واک آؤٹ اور آئندہ ایوان میں نہ بیٹھنے کے سپیکر کو تحریری خط میں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اجلاس کی صدارت کرنے والے کو محولہ تینوں اراکین کو نہ صرف اجلاس سے باہر نکلوا دینا چاہئے تھا بلکہ ان پر تحریری معافی سے قبل ایوان میں بیٹھنے پر پابندی بھی لگا دینی چاہئے تھی۔ بجٹ کو موضوع بحث لانے کی بجائے اور عوام کو ریلیف دینے کے طریقوں اور تجاویز پر غور کرنے کی بجائے ایوان میں اس طرح کی قابل اعتراض صورتحال پیدا کرنے کے ذمہ دار عناصر سے ان کے حلقوں کے عوام کیا توقع رکھیں۔ جن جن سیاسی جماعتوں سے ان ممبران کا تعلق ہے ان جماعتوں کے سربراہوں کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور ان کو عوام سے معافی مانگنی چاہئے اور اپنے اراکین کو شوکاز نوٹس دینا چاہئے تاکہ آئندہ ان کی زبان اور اعضاء قابو میں رہیں۔ ایوان کا ماحول اس قسم کا ہو تو کوئی شریف زادی اس کی ممبرشپ کو اعزاز نہیں سمجھے گی۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والوں اور صنفی مساوات کے داعیوں کو بھی اس کی مذمت کرنی چاہئے اور ان جماعتوں کے قائدین اور اراکین کو معافی مانگنے پر مجبور کیا جانا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے اراکین اسمبلی اس طرح کی حرکات اور زبان کے استعمال سے اجتناب کریں گے جس کی اسلام ' اخلاقیات اور معاشرے میں گنجائش نہ ہو۔

متعلقہ خبریں