Daily Mashriq

ایر ان امر یکا کشیدگی

ایر ان امر یکا کشیدگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی طرف سے امریکا کا ایک فوجی ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے فوری بعد مبینہ طور پر پہلے تو ایران پر جوابی حملوں کی منظوری دی مگر پھر یہ اجازت فوری ہی منسوخ کر دی گئی، امریکا کی ایک خبررساں ایجنسی رائٹر کے مطابق صدر ٹرمپ نے جوابی کارروائی کی اجا زت تو دیدی مگر بعدازاں کانگریس کے مختلف رہنماؤں سے ملاقات کے بعد یہ حکم واپس لے لیا، امریکی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کیخلاف عسکری کارروائیوں کا حکم خلیج ہرمز کے علاقے میں ایک امریکی ڈرون طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دیا تھا۔ امریکی ڈرون فضا میں بہت اونچی پرواز کر رہا تھا اور ان حملوں کی سفارش مبینہ طور پر پنٹاگون نے کی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر ایران کیخلاف حملوں کیلئے اُڑان بھی بھر لی تھی اور امریکی بحریہ کے جہاز بھی خلیج ہرمز میں حرکت میں آچکے تھے لیکن حملے سے پہلے ہی ٹرمپ نے فیصلہ واپس لے لیا اور یو ں ایران پر امریکی حملہ پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران پر حملے کے فیصلے کی خبروں سے پوری دنیا میں ایک خوف وہراس کی فضاء قائم ہوچلی تھی کہ اب دنیا پھر ایک مرتبہ بڑی تباہی کی طرف جانے لگی ہے مگر ٹرمپ کی طرف سے فیصلے کی منسوخی کی وجہ سے دنیا میں ایک اطمینان محسوس کیا گیا۔ ویسے حیرت کی بات ہے کہ کیا امریکی صدر کو یکطرفہ طور پر کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا اختیار ہے اور یکطرفہ طور پر حملہ کا فیصلہ کرنے کا بھی اختیار ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے جو تشویشناک خبریں اُڑائی گئیں اس سے تو یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ امریکا خوف وہراس کی ایسی فضاء پھیلانے میں عموماً ایسا کردار ادا کرتا چلا آیا ہے اور اپنے اصلی کارڈز ہمیشہ چھپا کر رکھتا ہے علاوہ ازیں جب سے ٹرمپ برسراقتدار آئے ہیں تب سے ان کا طرزعمل پاکستان کے وزیراعظم کی طرح یوٹرن کے ڈرامائی تشکیل کی مہارت کا رہا ہے ایسے اعلانات وہ اپنے ٹویٹ کے ذریعے کرتے رہتے ہیں۔ جہاں تک امریکی ڈرون طیارے سے متعلق خبر ہے تو ایران کے حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کے پاس اس امر کے ناقابل تردید ثبوت ہیںکہ ایران نے امریکا کا گلوبل ہاک طرز کا ایک ڈرون مار گرایا ہے، ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اس ڈرون طیارے کو ایرانی فضائی حدود کی خلا ف ورزی کرنے پر مار گرایا گیا تھا اور ایرانی ذرائع کا مزید یہ بھی کہنا ہے اس طیارے کی مالیت ایک سو تیس ملین ڈالر یا ایک سو پندرہ ملین یورو کے برابر ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی ڈرون کو ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر مار گرایا گیا تھا اس لئے اس کے کچھ حصے ایرانی سمندری حدود میں بھی گرے، ان حصوں کو سمندر سے نکالا جا چکا ہے۔ امریکا نے ویتنام کی جنگ ہارنے کے بعد سے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں اس میں اس نے اپنی زمینی فوج برائے نام ہی استعمال کی ہے اور اس نے فضائی حملوں پر ہی اکتفاء کیا ہے۔ افغانستان جیسے نہتے اور دنیا کے دفاعی لحاظ سے کمزور ترین ملک پر بھی زمینی جنگ نہیں لڑی، فضائی حملے یکطرفہ طور پر کئے جبکہ ایران ایک بڑی اور مضبوط طاقت ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی اگر ایران کو سبق سکھانے کے بہانے محدود پیمانے پر فضائی یا سمندری حملوں کا سوچ بھی رہے ہوں تو دفاعی ماہرین کی اس بارے میںرائے ہے کہ یہ حماقت کے سوا کچھ نہ ہوگا بلکہ ایک خطرناک کھیل ہوگا جس کا جواب ایران خطے میں کہیں بھی دے سکتا ہے گوکہ ایران کے بارے میں دنیا میں ابھی یہ رائے قائم نہیں ہو سکی ہے کہ وہ جوہری طاقت حاصل کر چکا ہے یا نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ میزائل ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ایک بڑی قوت بن چکا ہے اور اسرائیل کی حزب اللہ کے ہاتھوں شکست اس کا ایک ثبوت بھی موجود ہے۔ بہرحال امریکا کے بارے میں یہ خبر کہ اس نے ایران پر حملے کے احکامات منسوخ کر دئیے ہیں اس خبر سے جنگ کا خطرہ ٹل تو گیا ہے مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں کیونکہ ایران کی طرف سے امریکا کا ڈرون طیارہ مار گرایا جانا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ایک بہت بڑی سبکی کا باعث بھی ہے۔ اگرچہ امریکا کی جانب سے جنگ کرنے کے فیصلے کی منسوخی کے بارے میں امریکی حکام کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے یہ فیصلہ اس لئے منسوخ کیا کہ اس طرح بہت بڑی تعداد میں انسانی جانیں ماری جاتیں۔ امریکا کو خوب انسانی جانوں کی حرمت کا احساس ہوا ہے کیا وہ بتا سکتا ہے کہ افغانستان میں اس کا انسانی جانوں کے احترام اور حرمت میں کیا کردار رہا ہے جبکہ اس کو ایک فرد واحد اسامہ بن لادن مطلوب تھا جس کے بارے میں طالبان کے امیر کی جانب سے بڑی معقول تجاویز آئی تھیں کہ اسامہ کیخلاف ناقابل تردید شواہد دئیے جائیں، عالمی سطح پر کمیشن مقرر کر دیا جائے یا کسی غیرجانبدار ملک میں اسامہ کیخلاف مقدمہ چلایا جائے مگر امریکا کسی بھی معقول تجویز کیلئے رضامند نہیںہوا اس کی ایک ہی رٹ رہی کہ جو کچھ بھی ہو اسامہ اس کے حوالے بغیر کسی شرط کے کر دیا جائے، ہزاروں کی تعداد میں خون بہانے کے بعد امریکا کو جب مبینہ طور پر اسامہ تک رسائی ملی تو اس کو زندہ گرفتار کرنے کی استعداد کے باوجود زندہ نہیں پکڑا گیا بلکہ یکطرفہ طور پر قتل کر کے سمندر میں پھینک دیا گیا تاکہ کوئی ثبوت نہ مل سکے اور نہ دینا پڑے۔ اگر اسامہ زندہ گرفتارکر لیا جاتا تو امریکا کو مقدمے کے ذریعے اس کیخلاف ثبوت دینا تھے مگر جیسا کہ اسامہ نے کہا تھا کہ امریکا کو کچھ نہیں چاہئے صرف اس کی لاش مطلوب ہے اور یہ سچ ہو کر رہا، امریکی ڈرون کا مارگرایا جانا محض امریکا کی سبکی نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ ٹرمپ کی انتخابی مہم پر بھی اثرانداز رہے گا چنانچہ امکان یہی ہے کہ حملے کی فوری منسوخی آئندہ کی منصوبہ بندی کی تبدیلی ہی ہے۔

متعلقہ خبریں