Daily Mashriq

قانون سازی کا فقدان

قانون سازی کا فقدان

انسان نے جب سماجی ڈھانچے تشکیل دینا شروع کئے تو انہیں منصفانہ انداز میں چلانے کیلئے مختلف نوعیت کے قوانین کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یوں قانون سازی کا عمل شروع ہوا لیکن تاریخ کے کسی بھی دور میں سماجی تشکیلات سے پہلے قوانین بنانے کا کوئی تصور سامنے نہیں آتا ہے، کیونکہ معاشرے قوانین کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوانین معاشروں کی ضروریات کے مطابق تشکیل دئیے جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ قوانین کبھی جامد وساکت نہیں ہوتے بلکہ زمان ومکاں اور حالات کے تحت نئے قوانین تشکیل پاتے ہیں اور پرانے قوانین میں حسبِ ضرورت ترمیم واضافہ ہوتا ہے۔ یہ عمل انسانی سماجوں کے ارتقاء کا مظہر ہے لہٰذا ایک ترقی دوست معاشرے میں قوانین کو سماجی تشکیلات میں رونماء ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے ہاں بالخصوص سیاستدان وحکمران طبقہ کی جانب سے بلند وبانگ دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن اس دعوے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے قانون سازی پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت کیساتھ ساتھ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے دعوے تو لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں لیکن جب ایک عرصہ کے بعد اسی نوعیت کا واقعہ دوبارہ رونما ہوتا ہے اور اس سے خلاصی کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی تو لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان کیساتھ حکمرانوں غلط بیانی سے کام لیا تھا یا محض مذاق کیا تھا، اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا اپنے حکمرانوں پر سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خرابی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ محض جذبات میں آکر عوام کے سامنے دعوے کرنے سے گریز کیا جائے اور عوام کی فلاح میں جو دعوے کیے جائیں پہلی فرصت میں اس کے حق میں اسمبلی سے بل پاس کروا کر قانون سازی کی جائے تاکہ حکمرانوں کے آنے جانے سے سماجی اقدار اور لوگوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوں۔ ہمارے ہاں قانون سازی کا کیا عالم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ کسی بھی رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا میرا صوابدیدی اختیار ہے اس میں کوئی قانونی قدغن نہیں ہے، واقعی یہ سپیکر کا صوابدیدی آئینی اختیار ہے کہ وہ کسی زیرحراست ممبر کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ کسی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری قانون ساز اسمبلی جو قوانین 22کروڑ عوام کیلئے بناتی ہے۔ کیا وہ خود اس سے بالاتر ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے یہ ایک آئینی سوال ہے جس کی روح اس امر میں مضمر ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا، پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین گزشتہ دنوں شدید ہنگامی آرائی ہو چکی ہے، اپوزیشن اسے جانبداری قرار دیکر یہ مؤقف اپنا رہی ہے کہ حکومت نے چونکہ انتقامی سیاست شروع کر رکھی ہے اسلئے اپوزیشن اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جاتے، اپوزیشن کے اس مؤقف کو اس وقت بھی تقویت ملی جب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری سمیت کسی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیںگے۔ ان کا کہنا ہے کہ قوم کو قرضوں میں جکڑ کر ذاتی تجوریاں بھرنے والے قومی مجرم ہیں ان کیساتھ مجرموں والا سلوک کیا جائے اور شہباز شریف کو خطاب نہ کرنے دیا جائے۔ انہوں نے اپنے پارلیمانی رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ اپوزیشن والوں کو بھرپور جواب دیں کیونکہ ان کے بقول وہ ملک کا خزانہ لوٹنے والے ہیں۔ اس اعتبار سے تو وزیراعظم کی بات درست ہے کہ کوئی سیاسی رہنما یا حکومت کا وزیر بدعنوانی کا مرتکب ہو تو اس کو جمہوری سہولتیں نہیں ملنی چاہئیں۔ یہ جو پروڈکشن آرڈر کا جمہوری حق ہے پاکستان میں خال خال ہی سیاسی قیدیوں کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کھیل کے مطابق ایک حکومت اپوزیشن پر بدعنوانی کے مقدمات قائم کرتی ہے، تفتیش ہوتی ہے پھر گرفتاریاں ہوتی ہیں پھر جیل سے اسپتال منتقلی ہوتی ہے اور پھر پروڈکشن آرڈر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو سیاسی خیالات اور ان کے اظہار پر سزا سنائی جائے تو اسے جمہوری حقوق بھی ملنے چاہئیں اور پروڈکشن آرڈر بھی ہونے چاہئیں۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے نہ کرنے کا اختیار اسپیکر کو ہوتا ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان کا حق استعمال کر رہے ہیں۔وزیراعظم کا یہ کہنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ شہباز شریف کو خطاب نہیں کرنے دیا جائے۔ حکومتی اراکین کی جانب سے ایسا کرنے سے اپوزیشن کو بھی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کا موقع ملے گایقیناً یہ جمہوریت کے منافی رویہ ہے۔انہی رویوں کے باعث جمہوریت کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور ملک کو بھی۔ پیر کے روز قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان نے ہی کارروائی نہیں چلنے دی کیونکہ انہوں نے وزیراعظم کی ہدایت پر شہباز شریف کی نشست کے سامنے کھڑے ہوکر شور مچایا۔ اگر وزیراعظم پروڈکشن آرڈر اور اراکین اسمبلی کیلئے مجرموں جیسے سلوک کے حوالے سے کوئی تبدیلی چاہتے ہیں تو اسمبلی سے قانون منظور کروائیں، قانون سازی کے بعد تمام اراکین اسمبلی کو اس پر عمل کا پابند بنایا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ محض حکومت میں آجانے سے اورایک آرڈر سے تمام اراکین اسمبلی اس کے حکم کے پابند ہوں گے تو ایسے لوگوں کو اسمبلی میں آنے سے پہلے پاکستان کے آئین کا ضرورمطالعہ کر لینا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں