Daily Mashriq

لیاقت میجر، ڈرامہ، فلم سے تبلیغ تک کا سفر

لیاقت میجر، ڈرامہ، فلم سے تبلیغ تک کا سفر

افسوس کہ ہمدم دیرینہ سے آخری ملاقات تک نہ ہوسکی، حالانکہ گزشتہ کئی سال سے ہمارا رابطہ ایک بار پھر جڑ گیا تھا، ایک آدھ بار فون پر بات بھی ہوئی، پرانی یادیں سمٹ آئی تھیں اور جلد ہی ملنے کے وعدے ہوئے مگر کچھ تو میری مصروفیات اور بہت اس کی ایک جگہ ٹک کر نہ بیٹھنے اور تبلیغ کے عظیم کام سے جڑ جانے کی وجہ سے کبھی ایک جگہ تشکیل اور کبھی دوسری جگہ پہنچنے کی اطلاعات تو ملتی رہیں مگر ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکل سکی اور جب اسے یہ معلوم ہوا کہ میرے اپنے بچے بھی تبلیغ کے کام سے وابستہ ہیں تو بہت خوش ہوا، اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جب بھی پشاور آیا تو ملاقات لازمی ہوگی لیکن وہ تو اس بادل کی مانند تھا جو ادھر اُدھر قریب کے علاقوں پر تو سایہ کر دیتا ہے یعنی کبھی سوات، کبھی دیر، کبھی ضلع ہزارہ کے مختلف مقامات پر تو تبلیغ کے حوالے سے سفراختیار کرتا رہا مگر پشاور کا رخ نہیں کیا اور کل جب فیس بک پر اس کے اس دارفانی سے کوچ کرنے کی پوسٹیں شیئر ہوتی رہیں تو دل سے اک ہوک سی اُٹھی، پرانی یادیں ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے بالکل ایک فلم کی طرح چلنے لگیں، اس فلم کی طرح جس سے تعلق رکھنے والی چکاچوند سے بہت مدت پہلے وہ اور میرے دو اور ساتھی متاثر ہوکر لاہور کے فلم سٹوڈیوز جا پہنچے تھے اور میں پشاور میں حصول رزق میں مگن رہا، سچ کہا ہے کسی شاعر نے کہ

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

جانا تو سب نے ہے، باقی تو صرف ایک اللہ کی ذات نے رہنا ہے، وہی جو کائنات کا رب ہے اور جسے کوئی زوال نہیں، آج لیاقت میجر بھی ہم سے بچھڑ گیا۔ چند برس پہلے لیاقت میجر کیساتھ ہی لاہور کا رخ کرنے والا ایک اور دوست عبدالصمد جو صمد ہوش کے نام سے مشہور تھا بلکہ جب اس نے پشتو فلم غازی کاکا کا ٹائٹل رول کیا تو پشتو فلم انڈسٹری میںاس کے بھی نام کے ڈنکے بجنے لگے اور تیسرا دوست جہانزیب سہیل ایکٹنگ سے زیادہ فلم پروڈکشن کے کام سے وابستہ رہا، ویسے تو صمد ہوش نے بھی بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کئی فلموں میں ذمہ داریاں نبھائیں، مگر مستقل مزاجی سے صرف لیاقت میجر ہی فلم انڈسٹری سے جڑا رہا اور اپنے منفرد کام سے لاکھوں لوگوں کے دل جیت لئے تھے جبکہ جہانزیب سہیل اور صمد ہوش نے چند برس بعد واپس پشاور آکر پاکستان ٹیلی ویژن کی ملازمت اختیار کرلی، جہانزیب نے بطور پروڈیوسر لاتعداد اور لازوال پروگرام خصوصاً اہم ڈرامے پیش کر کے اپنا مقام بنایا تو صمد ہوش ایڈیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئے تھے اور جب پاکستان ٹیلی ویژن نے پہلا ڈرامہ فیسٹول منایا تو پشاور سٹیشن سے ٹیلی فلم کے طرز پر ریکارڈ کئے جانے والے ڈرامے پاگل میں بھی ٹائٹل رول کر کے دھاک بٹھائی جبکہ یہ ڈرامہ فیسٹول میں پہلے نمبر پر آیا تھا، صمد ہوش بھی چند سال پہلے ہم سے بچھڑ گیا تھا، تاہم جہانزیب سہیل ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور پرائیویٹ پروڈکشنز میں ان کا نام کبھی کبھی نظر آجاتا ہے، کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی ہے تو چند ''دوستانہ'' جملوں کا تبادلہ ہوجاتا ہے، اس پر بقول شاعر یہ کہا جا سکتا ہے کہ

اسے ہم یاد آتے ہیں فقط فرصت کے لمحوں میں

مگر یہ بات سچی ہے اسے فرصت نہیں ملتی

بات لیاقت میجر کی اچانک دنیا سے کوچ کرجانے سے شروع ہوئی تھی اور پرانی یادوں میں اٹک گئی، لیاقت علی خان (لیاقت میجر کا اصل نام) سے ہماری پہلی ملاقات 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد اس وقت ہوئی جب ہم گورنمنٹ کالج پشاور میں دفاعی فنڈ کیلئے ایک سٹیج شو کی تیاری کر رہے تھے، پروفیسر عبدالودود منظر کی سربراہی میں کالج کے طلبہ ''ایک آنسو ایک قہقہہ'' کے نام سے دو مختصر ڈراموں کی ریہرسل میں مصروف تھے، ایک ڈرامہ کشمیر کے پس منظر میں تھا جسے اس وقت ریڈیو پاکستان کے اسسٹنٹ ریجنل ڈائریکٹر سلیم خان گمی نے لکھا تھا جبکہ دوسرا ڈرامہ شوکت تھانوی جیسے نابغہ روزگار کا لکھا ہوا ''لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ ونام ہے'' جو ان کی کتاب غالب کے ڈرامے میں شامل تھا اور مزاحیہ ڈرامہ تھا، سلیم خان گمی کے ڈرامے میں ایک کردار تھا ''میجر مہرہ'' کا جو وادی کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہوتا ہے، اس کردار کیلئے منظر صاحب مرحوم نے کئی لڑکوں کو آڈیشن کے عمل سے گزارا تاہم وہ پوری طرح مطمئن نہیں ہورہے تھے، اچانک ایک دن نوشہرہ کالج سے ایک لڑکے نے آکر منظر صاحب سے گزارش کی کہ وہ بھی ڈرامے میں کام کا خواہشمند ہے، اگر اسے موقع فراہم کیا جائے تو وہ ممنون ہوگا۔ منظر صاحب نے اسے کچھ ڈائیلاگ وغیرہ بولنے اور ایکٹنگ کرنے کا کہا تو نوجوان نے بعض ڈائیلاگ اتنی خوبصورتی سے اداکئے، خاص طور پر بھارتی فلم آن کے ویلن پریم ناتھ کی اتنی خوبصورت نقل اُتاری کہ ہم سب نے اسے بے ساختہ داد دی، بس اگلے ہی لمحے منظر صاحب نے جہانزیب سہیل اور راقم سے مشورہ کرنے کے بعد میجر مہرہ کا کردار اس کے حوالے کر دیا اور پھر جب سٹیج پر لیاقت علی خان نے میجر مہرہ کا کردار ادا کیا، خاص طور پر جب کشمیری مجاہدین اسے آخر میں سٹین گن سے فائرنگ کر کے کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں تب موت سے گلے ملنے کی اس کی اداکاری اس قدر جاندار تھی کہ آج تک وہ منظر آنکھوں سے محو نہیں ہوتا۔ اتنی جاندار اور شاندار اداکاری کے نتیجے میں کالج کا ہر طالب علم اسے میجر، میجر کہہ کر بلاتے، تب وہ لیاقت علی خان سے میجر کے نام سے اتنا مشہور ہوا کہ یہ لفظ اس کے نام کا لاحقہ بن کر اسے لازوال کرگیا، تاہم اللہ کی کرم نوازی تھی کہ اس نے فلموں کی چکا چوند کو خیرباد کہہ کر تبلیغ کے کام میں پناہ ڈھونڈی اور اللہ کی رحمت نے اسے آغوش میں لے لیا۔

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را

متعلقہ خبریں