Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

امام کسائی کا شمار 7مشہور قراء میں ہوتا تھا اور یزیدی بھی معروف اور اچھے قراء میں سے تھے۔ یہ دونوں خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ حکومت میں بغداد کی ایک ہی مسجد میں لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ امام کسائی ہارون الرشید کے صاحبزادے امین کی تربیت وتادیب پر مامور تھے اور یزید ی مامون کو ادب سکھلاتے تھے۔

ایک مرتبہ امام کسائی اور یزیدی دونوں خلیفہ ہارون رشید کی خدمت میں حاضر تھے۔ اتنے میں نماز مغرب کا وقت آگیا۔ لوگوں نے امام کسائی کو امامت کیلئے آگے بڑھایا۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن سورة الکافرون کی تلاوت میں اٹک گئے۔

جب سلام پھیرا تو قاری یزیدی نے کہا: اہل کوفہ کے امام وقاری اور وہ بھی سورة الکافرون بھول جائیں یا اٹک جائیں یا غلطی کریں؟

جب عشاء کی نماز کا وقت آیا تو یزیدی نے لوگوں کو نماز پڑھائی، سورة الفاتحہ ہی کی تلاوت میں غلطی کی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو امام کسائی نے ان سے فرمایا: ''اپنی زبان کی حفاظت کا اہتمام رکھو اور کوئی ایسی بات مت کہو کہ کہیں اس کی وجہ سے تم آزمائش میں گرفتار نہ ہو جاؤ کیونکہ آزمائش اکثر وبیشتر انسان کی گفتگو کے باعث ہی آتی ہے۔'' اس واقعہ کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بات کہنے سے پہلے خوب سمجھنا چاہئے۔

امام احمد بن حنبل اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ رات کا وقت تھا، اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ امام صاحب نے پوچھا کون؟ جواب ملا: میں ایک نوجوان ہوں، امام صاحب نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ نوجوان کہنے لگا: امام صاحب! میری والدہ پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔ کوئی دوا فائدہ نہیں دے رہی ہے، انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا کہ آپ ان کی شفایابی کیلئے رب تعالیٰ سے دعا کریں۔ امام نے نوجوان سے کہا: اپنی ماں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو، وہ ہمارے لئے دعا کریں کیونکہ مریض کی دعا قبول ہوتی ہے وہ نوجوان روتا ہوا چل دیا۔ امام کی والدہ محترمہ کی اس نوجوان پر نظر پڑی۔ انہوں نے پوچھا: بیٹے! کیوں رو رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: اماں جان! میں نے اپنی والدہ کیلئے امام صاحب سے دعا کی درخواست کی تھی، لیکن امام صاحب نے دعا نہیں کی۔

امام صاحب کی والدہ محترمہ کہنے لگیں: اطمینان سے اپنی والدہ کے پاس جاؤ۔ میں نے احمد بن حنبل کو تمہاری والدہ کیلئے دعا کرتے ہوئے سنا ہے۔ یہ سن کر وہ نوجوان اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ جب اس نے دروازے پر دستک دی تو اس نے دیکھا کہ والدہ کی طبیعت سنبھل چکی تھی۔ فالج زدہ ماں نے خود دروازہ کھولا اور اس کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔ دعا کی برکت سے اسے شفایاب کر دیا تھا۔

(سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں