Daily Mashriq


معاملہ یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے

معاملہ یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے

متحدہ مجلس عمل کے صدر اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے اداروں کی ذہنیت غلامانہ ہے ،وہ اس غلامانہ ذہنیت سے نکلنے کیلئے تیار نہیںہمارے ادارے سیاسی نظام کو سوالیہ نشان بنارہے ہیںجبکہ لوگوں کے دل میں عوامی نمائندوں کیلئے نفرت پیداکی جارہی ہے جب اپنے ہی لوگوں کو دشمن کہاجائے گاتوحالات کیسے بہتر ہوں گے ملک میں جمہوریت لاچار اور بے بس ہے۔ سب کو پتہ ہے فیصلے کہاںا ور کون کرتا ہے مگرا س کا اظہار مشکل ہے ملک میں سیاست دان اور سیاسی نظام سب سے زیادہ مظلوم ہے سیاست دانوں نے متحد ہو کر کوئی نیا میثاق نہیں کیا تو پھر انہیں مزید تذلیل کا شکار ہونا پڑے گا۔1970کا دورواپس آگیا ہے۔ ہمارے سیاسی دفاعی مالیاتی ادارے بین الاقوامی دبائو میں رہتے ہیں اور انہی کے زیراثر رہ کر پالیسیاں بناتے ہیں ہم اپنی دفاعی صلاحیت بھی اپنے اختیار سے استعمال نہیں کر سکتے۔مولانا فضل الرحمن بلا شبہ ایک برد بار سیاستدان ہیں ان کو کامیاب سیاستدان بھی اگر قرار دیا جائے تو اس لئے غلط نہ ہوگا کہ ان کی جماعت ہمیشہ اقتدار میں ہوتی ہے۔ جہاں تک غلامانہ ذہنیت کا سوال ہے صرف اداروں کو اس بارے مطعون کرنا حقیقت پسندانہ امر نہیں اس میں سیاستدان اور عوام کے غالب حصے کو بھی شامل کیا جائے تو درست تشریح ہوگی۔ میڈیا بھی بڑی حد تک جدا گانہ سوچ نہ رکھنے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے میں کوتاہی کا پوری طرح ذمہ دار ہے۔ ہمارے اداروں کے کردار پر اٹھنے والی انگلیاں بے سبب نہیں تو ہمارے سیاستدانوں کا کردار و عمل بھی لائق تحسین نہیں۔ ہم من حیث القوم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے قول و فعل کردار و عمل کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اس بیانیے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ سیاستدان اور سیاسی نظام مظلوم ہے۔ اس امر سے تو اتفاق کی گنجائش ہے کہ 1970ء کا دور واپس آگیا ہے لیکن اس دور کی واپسی میں خود سیاستدان بھی بری الذمہ قرار نہیں پاتے۔ مقامی معاصر کی یہ رپورٹ قابل توجہ ہے کہ سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والی تمام جماعتوں نے معاملہ اسمبلی میں اٹھانے کے حوالے سے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے اسمبلی اجلاس بلانے میں عدم دلچسپی کے بعد اب اس حوالے سے تحقیقات کے دعوے بھی دفن ہونے والے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف‘ اے این پی‘ ن لیگ‘ جے یو آئی‘ جے آئی‘ کیو ڈبلیو پی اور دیگر جماعتوں نے ایوان بالا کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور عدالت عظمیٰ سے بار بار نوٹس لینے کے مطالبات کئے اور اعلان کیا کہ اس معاملہ پر صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا کر ایوان میں تفصیلی بحث کرائی جائے گی مگر د و ہفتے سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ تو حکومت نے اجلاس بلانے کی زحمت گوارہ کی نہ ہی اپوزیشن نے ریکوزیشن جمع کرانے کے دعوے پورے کئے۔مولانا فضل الرحمن کے بیان ہی کے تناظر میں اس رپورٹ کا جائزہ لینے سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں ان کے جو ارکان بکے یا پھر جماعتی قیادت کے اشارے پر جماعتی نظم و ضبط کو پامال کیاگیا ان افراد اور اس قیادت کے خلاف کیا تحقیقات ہوئیں اور معاملے کو طشت از بام کرنے میں کس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کیاگیا۔ جب خود سیاستدان اور قائدین ہی عوام کو دھوکہ دینے کے لئے چند دن دھواں دھار بیانات دے کر اور اعلانات کرکے مسئلے پر مٹی ڈال جائیں تو کیا دوسروں کو قصور وار گرداننے سے قبل خود ان سے سوال نہ کیا جائے کہ خود ان کا کردار و عمل کیا رہا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایوان بالا کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا شور تو سبھی نے مچایا مگر سوائے قومی وطن پارٹی کے کسی بھی جماعت نے اپنے کسی رکن کو شو کاز نوٹس کے اجراء کی زحمت نہ کی۔ جب اس ساری صورتحال سے جے یو آئی (ف) بھی مبرا نہیں کجی اور کدورت اپنی صفوں میں موجود ہے تو پھر دوسروں کو الزام دینے کا مطلب کیا سیاستدانوں کے کردار و عمل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی سعی قرار نہیں پاتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاستدانوں کی طرف سے اپنے کردار و عمل اور سیاسی اصلاح پر سب سے پہلے توجہ دئیے بغیر اس قسم کے جتنے بھی بیانات دئیے جائیں اور جتنا بھی واویلا کیا جائے وہ کبھی بھی موثر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ہمارے تئیں جس دن سیاست آلائشوں سے پاک ہوگی اس لمحے مداخلت کا موقع نہ پاکر یہ باب از خود بند ہوگا اور سیاستدان و حکمران بھی اپنے آئینی اختیارات کے استعمال کے لئے خود بخود حاوی پوزیشن پر آجائیں گے۔توقع کی جانی چاہئے کہ سیاستدانوں کو اس امر کا جلد احساس ہوگا کہ ملک میں سیاسی معاملات میں بگاڑ آنے اور عدم شفافیت کی ذمہ داری میں خود ان کی غلطیاں اور کردار بھی شامل ہے۔ بلا شبہ دوسری جانب بھی اس امر پر توجہ کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک وطن عزیز میں سیاست اور حکومتی اداروں کو بازیچہ اطفال بنایا جاتا رہے گا اور اس کا آخر انجام کیا ہوگا۔

متعلقہ خبریں