Daily Mashriq


رائو انوار کی گرفتاری اور انصاف کے تقاضے

رائو انوار کی گرفتاری اور انصاف کے تقاضے

رائو انوار کی گرفتاری سے نقیب اللہ محسود کے والدین سمیت ان دیگر افراد جن کا مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیاگیا ہو کے لواحقین کو انصاف کی آس لگانا فطری امر ہے۔ دیکھا جائے تو انسانی فطرت اس قسم کے افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کی متمنی ہوتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا ایسا سوچنا فطری امر ہے لیکن دوسری جانب قانون کے بارے میں بھی اندھے ہونے کا محاورہ سالوں یا پھر شاید صدی بھر کے تجربات کے بعد کی دانش ہوگی۔ اگر قانونی طور پر جائزہ لیا جائے تو رائو انوار کو سندھ پولیس کی جانب سے قصور گرداننے کے باوجود عدالت کے لئے قابل قبول شواہد ابھی سامنے نہیں آئے اس طرح کے مقدمات میں عموماً ملزم پر جرم ثابت نہیں ہوتا اس حد تک تک معاملہ قانون کا رہتا ہے لیکن رائو انوار کو پختون عوام میں ایک مبینہ قاتل کے روپ میں دیکھا جانے لگا ہے۔ سوشل میڈیا میں آنے والے بعض خیالات اس طرح سے سچ اور حقیقت کا روپ دھارنے لگتے ہیں اور ایسی حقیقت بن کر سامنے آتے ہیں کہ ان کو جھٹلانا آسان نہیں ہوتا۔ رائو انوار کے معاملے میں شک کی زیادہ سے زیادہ گنجائش اس لئے بھی موجود ہے کہ ان کا ماضی کا کیرئیر اور افراد و عناصر سے قربت پہلے ہی سے سب کے علم میں تھے۔ ایک آفت ناگہانی کی زد میں آنے کے بعد رائو جتنا عرصہ پر اسرار طور پر روپوش رہا اور پھر جس طمطراق سے سپریم کورٹ میں پیش ہوا اس سے غلط فہمیوں کا جنم لینا فطری امر تھا۔ اس قسم کے کردار تخلیق کئے جاتے ہیں اور پھر ان کے تحفظ کا جس طرح بندوبست کیاجاتا ہے وہ اپنی جگہ اس قسم کے عناصر سیاست و حکومت اور اداروں سبھی جگہ پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں عوام میں شکوک و شبہات کے عالم میں قوانین اور معاملات بھی پیش نظر نہیں رہتے ہیں۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ اس میں عوام کی کیسے رہنمائی کی جائے اور مظلومین کی داد رسی کیسے ہو۔ رائو انوار ایک مہرہ تھا آخر اس طرح کے کردار بنائے اور استعمال کیوں کئے جاتے ہیں جن کے بے نقاب ہونے پر خود آقائوں کے چہروں کا نقاب بھی ان کے چہرے چھپانے کے قابل نہیں رہتا۔ رائو انوار ایک ملزم پولیس افسر ہیں ان سے قانون کے مطابق نمٹا جانا چاہئے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں اس طرح کے کرداروں کی ضرورت باقی رہے گی اور ان کی سرپرستی کے الزامات اداروں اور سیاستدانوں پر لگتے رہیں گے نقیب اللہ محسود اور اس جیسے خاندان انصاف کی دہائی دیتے رہ جائیں گے۔

بے ڈھنگے کاموں پر نرم خوئی کا رویہ کیوں؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا تاریخی تحصیل گورگٹھڑی میں زیر تعمیر ہیر ٹیج ٹریل پراجیکٹ کے اچانک معائنہ میں جگہ جگہ عمارتی ملبے اور گندگی کے ڈھیروں کی موجودگی پر انتہائی برہمی کا اظہاراس لئے کافی نہیں کہ انہوں نے موقع پر کسی سرکاری ذمہ دار اہلکار کے خلاف کارروائی کاحکم جاری نہیں کیا۔ اسی عمل کی چڑیا گھر کے دورے کے موقع پر بھی ضرورت تھی مگر لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کا محاورہ نہ آزمایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے دورے اور احکامات کی وقعت کا سوال اٹھتا ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ وہیں پر ہی انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ کلین اینڈ گرین پشاور کے تحت پشاور میں شجرکاری، پارکوں کی بحالی اورعمارات، سڑکوں اور گلی کوچوں کی تعمیر و مرمت اور صفائی پر کا م مسلسل جاری ہے اور اس مقصد کیلئے مختلف سکیمیں شروع کی گئی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ تحصیل گور گٹھڑی میں تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو جس تکلیف دہ صورتحال سے آگاہی ہوئی اس پر برہمی کا اظہار اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ شہریوں کے لئے معمول اور مسلسل تکلیف دہ حقیقت بن چکی ہے کہ شہر میں صحت و صفائی کی صورتحال میں تبدیلی کبھی نہیں آئی۔ خاص طور پر جہاں کوئی تعمیراتی و ترقیاتی منصوبہ شروع کیا جائے تو شہریوں کی مشکل میں اور اضافہ اس لئے ہوتا ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار اور سرکاری اہلکار نفاست سے کام نمٹانے اور شہریوں کی مشکلات کا باعث بننے والے امور سے قطعی طور پر یا تو نا واقف ہوتے ہیں یا پھر ان کی اس سے دلچسپی ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا شروع کردہ ہر منصوبہ شہریوں کے لئے وبال جان اور حکومت پر تنقید کا باعث بنتا ہے حالانکہ اگر منصوبہ بندی کے ساتھ اور احسن طریقے سے کاموں کی انجام دہی پر توجہ دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ شہری ان کاموں کو اپنے لئے زحمت کی بجائے سہولتوں کی فراہمی نہ سمجھنے لگیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی سرکاری افسران پر مہربانیاں کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ایام اقتدار کے آخری دنوں میں وزیر اعلیٰ شہریوں کے مفاد میں چند ایک سخت گیر قسم کے فیصلے کر جائیں تو بی آر ٹی منصوبے سے لے کر ہیرٹیج منصوبے سمیت شہر میں جا بجا پر مشکلات عوامل سے شہریوں کو ایک گونہ اطمینان کی لہر میسر آسکے گی۔ بی آر ٹی کے باعث شہری جس قسم کے اعصابی دبائو اور مشکلات کاشکار ہیں خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے خلاف کہیں عوام احتجاج پر نہ اتر آئیں۔

متعلقہ خبریں