Daily Mashriq


کیا ہو نے جارہا ہے ؟

کیا ہو نے جارہا ہے ؟

آنے والے عام انتخابات کی اگر چہ دھوم نہیں مچی ہے تاہم اس کی سر سراہٹ محسو س ہو رہی ہے۔ سینٹ کے انتخابات اور پھر سینٹ کے چیئر مین کے منتخب ہو جانے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اب عام انتخابات کی آس کھری ہوگئی ہے مگر جہا ں دید ہ کا کہنا ہے کہ با دل ابھی صاف نہیں ہو ئے ہیں کالی گھٹا موجو د ہے۔ ایسا کیو ں سو چ رہے ہیں اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بلو چستان جہاں پا کستان پیپلز پا رٹی کا ایک بھی رکن نہ تھا اس کی حمایت میں ایک آزاد حکومت کی تشکیل پھر جس کا اس اسمبلی میں ایک بھی ممبر نہیں بیٹھتا وہا ں سے اس کے وفا دارسینیٹرز کا منتخب ہو نا اس امر کی دلیل تھا کہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے منصوبہ بندی شاندار طریقے سے کی گئی تھی مگر یہا ں عوام کے ووٹ کامسئلہ ہے اس لیے منصوبہ بندی میں ذرا سابھی جھو ل کھیل کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ قد م پھونک پھونک کر رکھا جا رہا ہے ، ایسے حالا ت میں مستقبل کی منظر کشی کیا ہو رہی ہے ،سینیٹ کے انتخا بات کے ذریعے عمر ان خان کو پیغام مل گیا ہے کہ وہ سیا ست میں پہلے درجے پر فائز نہیں رہے ہیں ان کا نمبر اب آصف زرداری کے بعد کا ہے چنا نچہسینیٹ کے انتخابات میں ان کے لیے کوئی چارہ کا ر نہیں تھا کہ اپنے بزرگو ں کے فیصلے کو مان کر پی پی کی قیا دت کو بالوسطہ گلے لگا لیا جا ئے۔ اب اس صورت حا ل سے وہ خود کو شکستہ سیا ستدان محسوس کر نے لگے ہیں یا سیت اور نا امید ی میں گھر جا نے والا ہمیشہ چو ٹ کھا تا ہے ، ساڑھے چار سال میں عمر ان خان کوئی ایسی کا رکر دگی نہیں دکھا سکے کہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو پا تا اور اصل حکمران نو ا ز شریف کو کنارے لگا پا تے مگر ہو ا یہ ہے کہ عمر ان کی مقبولیت کا گر اف گر تا جاتا رہا اور حامیو ں کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہی ہو تا رہا ہے جب ان کے لیے باصلاحیت آدمی مو جو د ہے تو وہ پیٹے ہو ئے کپتان پر کیو ں کر بھروسا کر سکتے ہیں ۔ انسان کے مزاج میں تضاد بھی اس کی نا کا می کا سبب بنتا ہے کیو ں کہ ایسا شخص خواہشات کا غلا م بن کر رہ جا تا ہے مگر ایک اچھا منصوبہ ساز ہر گز نہیں ہو سکتا ، آصف زرداری ایسی کمزور ی سے مبّر ا ہیں اس لیے ان کو نو از شر یف کے مقابلے کے لیے چننا بہتری کی دلیل ہے ، تضا د کا عالم یہ ہے کہ صوبہ کے پی کے میں سرکا ری اسکو لو ں میں اسا تذہ کی حاضری کی جانچ پٹر تال کے لیے بائیو میٹرک سسٹم رائج کیا گیا ہے مگر قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں دس مرتبہ بھی شریک نہ ہوئے لیکن وہا ں سے کروڑوں روپے تنخوا ہ وصول کر لی اور لاکھو ں روپے کی دیگر مر اعات بھی حاصل کرلیں کیا یہ تضا د نہیں تو اور کیا ہے ۔ بات ہو رہی تھی کہ کل کیا ہو نے والا ہے یہ پاکستانی سیا ست ہے جس میں کل کی بات تو گھنٹوں کے لیے دور ہوجا تی ہے منٹوں میں یا سیکنڈوںمیں کیا ہونے والا ہے اس بارے میں کوئی یقینی نہیں پائی جا تی کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر جو منظر کشی آنے والے انتخا با ت کے لیے کھینچی جا رہی ہے اس میں مستحکم طور پر کچھ بولا نہیں جا سکتا مگر نظر آرہا ہے کہ کے پی کے میں مخلو ط حکومت جس کی باگ ڈور مولوی صاحب کے ہا تھ میں جا سکتی ہے سند ھ اطمینا ن بخش ہے کیو ں کہ سیا سی حالات پی پی کے ہا تھ میں ہیں جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے تو اس بار ے میں چہ موگوئیا ں ہو رہی ہیںوہا ں ایم کیو ایم کے حوالے سے کوئی شا د آبادیا ں نہیں ہو پا رہی ہیں اس کے لیے مشرف کو پا کستان میں گھس بیٹھنے کا مو قع فراہم کر نے کی سعی ہو رہی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہورہا ہے کہ سند ھ کے شہر ی علا قو ں میں جہا ں پی پی کاووٹ بینک کمزور ہے وہا ں ایم کیو ایم کے نعم البد ل کے طور پر تحریک کو لا بٹھا یا جائے ، مگر پلا ن سی کے تحت تحریک کے لیے کر اچی میں قومی اسمبلی میں میدان صاف کیا جائے گا تاکہ پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں کچھ زیا دہ سیٹیںحاصل ہوجا ئیں کیو ں کہ کے پی کے سے پی ٹی آئی کی نشستو ں میں اضا فہ ممکن نہیں ہے ، اسی طرح پی پی جس نے خود کو علا قائی جما عت میں ڈھال لیا ہے چنانچہ سند ھ سے باہر دوسرے صوبوں سے قومی اسمبلی کے لیے قابل ذکر نشست ملنے کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن اصل مسئلہ صوبوں کا نہیں ہے وفاق کا ہے ، وارثین پا کستان کا گما ن ہے کہ اگر شریفو ں کو سیا ست سے آؤٹ کرنا ہے تو وفا ق سے ان کا سیاسی اثر نکالنا ہوگا ، چنا نچہ ان کے لیے چودھر ی نثار مفید رہتے مگر ایسا کٹھن ہے کیو ں کہ چو دھر ی جی پا رٹی پا لیسی سے اختلاف کر کے کنا رہ کش ہو نے کا ڈھو نگصحیح طو رپر نہیں رچاپا ئے ہیں ، وہ نو از شریف کو بھٹکا ہو کہتے ہیں اور شہبا ز شریف کوصرا ط مستقیم پر سمجھتے ہیں شاید ان کی یہ آس کا میا ب ہو جا ئے کہ وفا ق میں شہبا ز شریف کردار ادا کریں یعنی وزیر اعظم کی مسند سنبھالیں اور تخت لا ہو ر ان کے ہا تھ لگ جا ئے تاہم وہ پا رٹی میں نو از شریف سے اختلا ف کر نے والے اکلوتے مسلم لیگی لاڈلے ٹھہر ے ہیں پا رٹی نو ا ز شریف کے ساتھ ہی کھڑی ہے جس میں شہبا ز شریف بھی ہم قد م ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ منصوبہ بندی تو ہوتی ہے مگر اثرات اپنی مر ضی کے حاصل نہیں ہو پا تے ، اب لا ل حویلی کے شیخ لا لو جی کا جو سربراہ ایک ایسی پا رٹی کے ہیں جس کے وہ واحد رکن ہیں مگر اپنی پا رٹی کے بارے میں کم بات کر تے ہیں البتہ تحریک انصاف کی زیا دہ بولتے ہیں نیا ارشاد آیا ہے کہ چیف جسٹسجوڈیشل ما رشل لا لگا دیں پھر انتخا بات کرائیں ، لا لو جی ہمیشہ بے صبری کا مظاہر ہ کر تے۔ ان کو ما رشل لا سے بہت محبت ہے کبھی فوجی ما رشل لا تو کبھی سول مارشل لا اب جو ڈیشل مارشل لا کا نعرہ بلند کر دیا ہے ، تحمل کر یں وہ منصوبہ سازوں کو اپنا ہم پلا نہ جا نیں معین الدین قریشی جب عبوری دور کے وزیر اعظم مقر رہوئے تھے تو ان کا فیصلہ تھا کہ عبوری حکومت بھی آئینی حکومت ہو تی ہے چنا نچہ اس دور میں پا رلیمنٹ کا وجو د نہیں ہوتا تو ضرورت کے مطابق عبوری حکومت کو قانو ن سازی اور آئینی ترمیم کا حق حاصل ہو جا تا ہے۔ صبر کرلیں دیکھیں آنے والا عبوری وزیر اعظم کیسے کیسے حق استعمال کر تا ہے ہو سکتا ہے کہ ان کی امید بر آئے ۔

متعلقہ خبریں