Daily Mashriq


23 مارچ کو منائیے مت! کچھ کر لیجئے

23 مارچ کو منائیے مت! کچھ کر لیجئے

انگریز جو تجارت کی غرض سے یہاں آیا تھا اُس نے تجارت کرتے کرتے مسلمان حکمران کو آگرہ کے لال قلعے سے بھی نکال باہر کیا اور نام کا یہ بادشاہ اور بادشاہت بھی انجام کو پہنچ گئے۔ مسلمان آنے والے حکمرانوں کی نفرت کا خوب نشانہ بنے، ہندو نے بھی اپنی ہزار سالہ غلامی کا شدید بدلہ لیا لیکن اس نشانہ بننے میں مسلمانوں کی اپنی نااہلی اور عاقبت نااندیشی کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ وہ ایک دوسرے کے دوست کم اور بدخواہ زیادہ بنے ہوئے تھے، جدت، ترقی اور تعلیم پر کفر کے فتوے بڑے آسان تھے اور تواتر سے لگتے تھے، ایسے میں چند مسلمان زعماء کا مسلم لیگ بنانا اور پھر اس بکھرے ہوئے ہجوم کو یکجا کرکے اسے قوم بنانا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ یوں یہ سلسلہ چل پڑا اور ہوتے ہوتے ایک منظم تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ مسلمانان ہند کی خوش قسمتی تھی کہ ان کو سرسید احمد خان، محمد علی جوہر، عبدالرب نشتر، علامہ محمد اقبال اور پھر قائداعظم محمد علی جناح جیسے لیڈر ملتے گئے، قافلہ چلتا رہا اور کارواں بنتا گیا۔ 23 مارچ 1940 کا مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ انہی مخلص لوگوں کی کاوش تھی اور اسی لئے اس نے ہندوستان کے ہر کونے کے مسلمان کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ قرارداد منظور ہوئی، مسلمانوں نے اپنے لیڈروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور لیڈروں کے اسی خلوص اور عوام کے اعتماد نے دنیا کا نقشہ بدل دیا، دشمنوں کی سازشوں کو شکست ہوئی، ہندوستان تقسیم ہوگیا اور پاکستان بن گیا۔ پاکستان کا بن جانا واقعی معجزہ تھا، یہاں طاقت اور اکثریت دونوں کو شکست ہوئی تھی، ان کا گٹھ جوڑ بھی کام نہیں آیا تھا اور اس فتح میں سب سے بڑا ہاتھ رہنماؤں کا خلوص تھا۔ ان کا مقصد ومنشاء مسلمانانِ ہند کیلئے ایک الگ ملک کا حصول، مسلمان ریاست اور مسلمان حکومت تھی، اپنی ذاتی غرض اور ذاتی مفاد نہیں تھا لہٰذا ان کی محنت رنگ لائی اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ملک بنانے جتنا کڑا اور مشکل کام تو ہم نے کر لیا لیکن اسے سنبھالنے کیلئے ہم نے وہ خلوص نہیں دکھایا۔ ہمارے لیڈر اپنی حکومت بنانے کے شوق میں پڑ گئے ملک کہیں پیچھے رہ گیا، ذاتی مفاد مقدم ہوگیا اور قومی مفاد کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ سیاست اور جمہوریت کے نام پر گند پھیل گیا، بجائے ملک کیلئے منصوبے بنانے کے ایک دوسرے کیخلاف منصوبے بننے لگے، پگڑیاں اُچھلنے لگیں اور اپوزیشن کا مطلب گندے الزامات رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن سے اختلاف نہیں لیکن اس کے مقصد سے ضرور ہے اگر اس کا مقصد حزب اقتدار کو سیدھے رستے پر رکھنا ہوتا تو بالکل درست لیکن یہاں تو بات حکومت چھیننے کی ہوتی ہے، اب تو حزب اقتدار کو جائیدادیں بنانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن خود اقتدار میں آتے ہیں تو دوگنا جائیدادیں بن جاتی ہیں۔ قائدِ فلانا فلانا کے خطابات سب کو دیئے جاتے ہیں اور اتنی فراوانی اور تسلسل سے دئیے جا رہے ہیں کہ قائداعظم زندہ ہوتے تو اپنے خطاب پر نظرثانی فرمانے کا سوچتے، یہ سب بین السطور قائداعظم سے زیادہ بڑے لیڈر ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں لیکن اپنی قوم سے لوٹی ہوئی جائیدادوں کو اپنی سات پشتوں کے نام کر جاتے ہیں، اُس قائداعظم کی طرح نہیں جس نے اپنی جائیداد قومی اداروں کے نام کردی تھی۔ قائد سارے ہیں لیکن ملک کے یہ سب سے امیر لوگ ہر ذریعے سے اپنا ذاتی پیسہ بنانے لگ جاتے ہیں اور صرف لیڈروں پر کیا موقوف ہر سطح پر یہی رویہ چل رہا ہے۔ کلرک سرکار کے پاس جائیں تو وہ سرکاری تنخواہ پر قانع نہیں رشوت اُس کا حق ہے، افسر کے پاس جائیں تو وہ اپنے سرکاری کام کو سرانجام دینے کیلئے آپ کی جیب پر نظر رکھے گا اور جائز کام کروانے کیلئے بھی آپ ناجائز ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ نوکریوں کے اشتہارات اخبارات میں دئیے ضرور جاتے ہیں لیکن آپ اپنی شاندار سی وی بھیجئے کوئی آپ کو انٹرویو کیلئے بھی نہیں بلاتا کیونکہ بندر بانٹ ہو چکی ہوتی ہے۔ اب انجینئرز، ڈاکٹرز، بزنس مین، سائنسدان اس لئے کچھ نہیں کر پاتے، کوئی نئی ایجاد نہیں کر سکتے، کوئی نئی دریافت ان کی سی وی میں شامل نہیں ہوتی کہ ریسرچ بھی کسی دریافت شدہ، ایجاد شدہ چیز پر کی جاتی ہے۔ کمرہ امتحان کے اندر جائیے تو نقل کرتے طلباء کی صورت قوم کا مستقبل خودبخود آپ کے سامنے آجاتا ہے لہٰذا یہ حال ہے اُس قوم کا جو1940 میں بڑے طمطراق سے چلی تھی اور ہر قوت کو شکست دے کر فتح مند ہوئی تھی۔ ایک قرارداد تھی، ایک وعدہ تھا اور سب اُسے نبھانے نکل پڑے تھے۔ مشکل اب بھی نہیں اگر اب بھی کوئی منٹو پارک چن لیا جائے اور اسے اقبال پارک بنانے کا عہد کر لیا جائے، کسی سربلند وسربالا مینار کی تعمیر کا سوچا جائے جو گلاب کی پتیوں پر کھڑے مینار پاکستان کو سہارا دے سکے اُس کے دکھ کا مداوا کرکے اُس کے فخر کو بحال کر سکے اور اس قوم کو پھر اُس طرح اُٹھا دے جیسے یہ1940 میں اُٹھی تھی اور 1947 میں دنیا کو حیران کر گئی تھی، دنیا نے جو سوچا نہ تھا وہ اس نے کر لیا تھا۔ دن منانا کوئی بڑی بات نہیں اس پر شان وشوکت دکھانا بھی ایک ہی دن کی بات ہوتی ہے، اسے یادگار بنانا ضروری ہے جیسے 23مارچ قرارداد پاکستان نے یادگار بنا دیا۔ اگر اس قرارداد کی تکمیل نہ ہوتی تو آج تاریخ اسے کبھی یاد نہ رکھتی، یاد رہ جانے کیلئے کچھ کر لینا ضروری ہے تب قوم نے کیا تھا تو عزت پائی تھی، آج بھی کرے تو دیکھ لے کہ کیسے امریکہ اسے دھمکی دیتا ہے یا کیسے بھارت اِس کے سامنے آتا ہے۔ بات صرف کر لینے کی ہے اوراب ضرورت بھی بس اس کر لینے کی ہے لہٰذا اس 23 مارچ کو منائیے مت کچھ کر لیجئے۔

متعلقہ خبریں