Daily Mashriq


میاں شہباز شریف کا صلح کل فارمولا کیا ہے؟

میاں شہباز شریف کا صلح کل فارمولا کیا ہے؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پچھلے دنوں امریکہ کے نجی دورے پر گئے تھے۔ انہوں نے اس دورے کے دوران دفتر خارجہ کو اپنے لیے کسی قسم کا پروٹوکول دینے سے بھی منع کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں اپنی علیل ہمشیرہ کی عیادت کے لیے گئے تھے اور ان کا امریکہ کا دورہ خالصتاً نجی دورہ تھا۔ تاہم اس دوران انہوں نے امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات بھی کی جس میں ان کے ساتھ دفتر خارجہ کا کوئی معاون موجود نہ تھا۔ لیکن امریکی نائب صدر کے ساتھ سرکاری معاون موجود تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی خبر جاری نہیں کی گئی لیکن امریکہ نے یہ خبر جاری کی جس میں کہا گیا کہ امریکی نائب صدر نے ایک بار پھر ڈو مور کا مطالبہ دہرایا ہے۔ کوئی پاکستانی خواہ نجی حیثیت میں کہیں گیا ہو یا خواہ سرکاری حیثیت میں پاکستان کے مفاد میں جو کچھ وہ کر سکتا ہے اسے کرنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی کسی روز بتائیں کہ امریکی نائب صدر سے ملاقات میں وہ ملک کے مفاد کے لیے کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اب پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف بھی نجی دورے پر برطانیہ گئے ہیں ۔ خبروں کے مطابق وہ ایک تو اپنا طبی معائنہ کرائیں گے اور دوسرے میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کریں گے جو بہت علیل ہیں۔ ایک خبر یہ بھی آئی ہے کہ لندن میں ان کی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے بھی ملاقات ہوئی ہے ۔ یہ ملاقات لاہور میں آسانی سے ہو سکتی تھی اس کے لیے لندن جانے کی ضرورت نہیں تھی پھر بھی نہ معلوم کیوں میڈیا میں اس ملاقات کو خبر کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔ اس خبر کی سیاسی اہمیت کا احتمال اس بات سے سامنے آتا ہے کہ میاں شہباز شریف نے لندن پہنچ کر اس کے باوجود کہ وہ خالصتاً نجی دورے پر لندن گئے ہیں ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی حالات کے بارے میں اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام ادارے قابلِ احترام ہیں اور بات چیت سے ملک کو بچانا ہے۔ جب سے میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا نااہلی کا فیصلہ آیا ہے ، میاں نواز شریف اداروں سے محاذ آرائی کی سیاست پر گامزن ہیں اور میاں شہباز شریف اس کی تائید کرتے نظر نہیں آتے رہے۔لیکن اب جب وہ مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہو گئے ہیں انہوں نے کئی بار ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جیسا انہوں نے لندن پہنچنے کے بعد کیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے لاہور میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے عدلیہ ‘ فوج اور اہل سیاست کو مل کر کام کرنا چاہیے یا باہمی مشاورت کرنی چاہیے۔ ان کے اس بیان کے بعد لاہور میں میاں نواز شریف کی رہائش جاتی امرا میں ن لیگ کی ایک اعلیٰ سیاسی بیٹھک بھی ہوئی جس میں میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف ‘ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے علاوہ سینیٹر پرویز رشید اور خبر کے مطابق دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ یہ بہترین موقع تھا جب میاں شہباز شریف کے اس صلح کل مؤقف پر مشاورت ہو سکتی تھی یا ہوئی ہو گی۔ انہی دنوں میاں نواز شریف کے سانگلہ ہل کے جلسے میں ان کے ساتھ مریم نواز کے علاوہ حمزہ شہباز بھی بیٹھے ہوئے نظر آئے اور انہوں نے جلسہ سے خطاب بھی کیا جو میاں نواز شریف کے ساتھ وفاداری کے اظہار پر مبنی تھا لیکن محاذ آرائی کی پالیسی کی حمایت پر نہیں۔ میاں نواز شریف جو پبلک جلسے کر رہے ہیں ان میں وہ عوام کو اپنی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ مہم میں ساتھ دینے کے لیے قائل کر رہے ہیں اور محاذ آرائی کے موقف کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک جلسے میں حمزہ شہباز شریف کی موجودگی معنی رکھتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ معنی خیز بات یہ ہے کہ حمزہ شہباز کی تقریر میں وہ سیاسی گرم بازاری اور وہ مؤقف نہیں تھا جس کااظہار میاں نواز شریف اور مریم نواز کرتے ہیں۔ اگرمیاں شہباز شریف کا مؤقف سوچا سمجھا موقف ہے اور اب شہباز شریف کے مسلم لیگ ن کا صدر منتخب ہونے کے بعد یہ ن لیگ کا سرکاری موقف بھی شمار کیا جانا چاہیے تو سب سے پہلے اس کا مخاطب میاں نواز شریف ہونا چاہیے۔ شہباز شریف سے یہ توقع ہونی چاہیے کہ وہ میاں نواز شریف کو اپنے مؤقف کا قائل کریں گے لیکن فی الحال ایسا نظر نہیں آتا۔ اگر یہ صورت حال برقرار رہتی ہے کہ شہباز شریف صلح کل مؤقف کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور نواز شریف محاذ آرائی کے مؤقف پر قائم رہتے ہیں تو ا س کا مطلب یہ ہوگا کہ دونوں ایک ہیں۔ نواز شریف عوام کے ووٹ کے لیے مظلومیت کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں اور شہباز شریف ن لیگ کے ان سیاسی خانوادوں کو پارٹی کے ساتھ وابستہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو محاذ آرائی سے گریز پاہیں۔ لیکن ن لیگ کے یہ سیاسی خانوادے اور مستقبل کے عام انتخابات کے امیدوار محض شہباز شریف کے زبانی جمع خرچ پر محاذ آرائی کے مؤقف کے ساتھ انتخابات میں جانے پر رضامند ممکن ہے نہیں ہو سکیںگے۔ اس لیے میاں شہباز شریف کو اپنا صلح کل فارمولا جلد از جلد واضح کرنا ہو گا۔ اس کے لیے رابطے کرنے ہوں گے تاکہ ن لیگ کے وہ سیاسی خانوادے جو ہوا کا رُخ دیکھ کر سمت کا تعین کرنے میں مہارت رکھتے ہیں‘ مثال کے طور پر وہ تمام لوگ جو ق لیگ سے ن لیگ میں آئے ہیں اور دوسرے بھی جو سیاست میں دخیل رہنا چاہتے ہیں اپنا رخ متعین کر سکیں۔ ممکن ہے میاں شہباز شریف جاتی امرا میں ن لیگ کی اہم سیاسی بیٹھک کے بعد لندن میں اپنے فارمولے کے مختلف پہلوؤں پر غوروخوض اور مشاورت کے لیے گئے ہوں۔ دیکھتے ہیں وہ لندن سے واپسی پر کیا بیان دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں