Daily Mashriq


انڈس ہائی وے اور ماضی کی یادیں

انڈس ہائی وے اور ماضی کی یادیں

کرک نے جن بڑی شخصیات کو جنم دیا ہے اُن میں محمد اسلم خان خٹک سر فہرست ہیں ۔ جس طرح چارسدہ میں عظیم پختون رہنماباچا خان مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے تین بڑے باکمال بیٹے عطا کئے تھے اس طرح کرک میں اللہ تعالیٰ نے قلی خان کو محمد اسلم خٹک ، حبیب اللہ خٹک اور محمد یوسف خٹک عطا کئے ، تینوں اپنی اپنی جگہ باکمال تھے ۔ لیکن محمد اسلم خان خٹک نے تعلیم و تعلم، تاریخ و ادب اور بالخصوص سیاست میں بڑا نام پیدا کیا۔ اسلم خٹک نے تقسیم ہند سے قبل آل انڈیا ریڈیو پشاور میں اس کے شاید پہلے پختون جنرل منیجر کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور ساتھ ہی پشاور ادب میں یاد گار افسانہ جام خون (دوینو جام ) لکھ کر اہل علم و دانش کو متوجہ کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد 1960ء کے عشرے میں عملی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مختلف مراحل اور نشیب وفراز سے گزرنے کے ملکی سیاست میں صوبے اور وفاقی سطح پر بہت اہم کردار ادا کیا ۔ صوبے پختونخوا (تب صوبہ سرحد) کے گورنر ، وفاق کی سطح پر سپیکر ، وزیرداخلہ اور شاید وزیر مواصلات کے طور پر بے مثال کردار ادا کیا ۔ وزیر مواصلات کے طور پر پشاور سے کراچی انڈس ہائی وے کی تعمیر کا منصوبہ بنوا کر عملی صورت میں پیش کیا ۔ آج شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اس عظیم منصوبے کے تحت انڈس ہائی وے کو ضلع کرک کے مختلف دیہاتوں سے گزرنے میں آپ کی سوچ و فکر اور کرک کے غریب عوام کو ایک طرف کوہاٹ ، پشاور اور دوسری طرف بنوں ، لکی مروت اور ڈی آئی خان اور ژوب سے ہوتے ہوئے کراچی تک رسائی کو آسان بنا کر روز گار اور روزی روٹی کے مواقع فراہم کرنے میں بڑی آسانیاں پیدا کردیں ۔ اور اس کا کریڈٹ محمد اسلم خان خٹک کو جاتا ہے ۔ مجھے اُن کا یہ تاریخی جملہ آج بھی یاد ہے جو اُنہوں اس مجوزہ ہائی وے کے حوالے سے ایک جلسہ میں کہا تھا کہ اے لوگو! تمہارے علاقے پر سے دیکھنے میں ایک بلیک (سیاہ) اژدھا (تور خامار)گزرنے والا ہے ۔ اس اژدھا کے منہ میں زہر بھی ہے اور قیمتی موتی بھی ۔ کوشش کریں کہ اس کے زہر سے تریاق بنائیں اور موتی کو حاصل کرلیں ‘‘۔ انڈس ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے مجھے اسلم خٹک مرحوم کی یہ بات یاد آتی ہے ۔ آج یہ ہائی وے ایک عشرے سے بھر پور انداز سے فعال ہے ‘اور اس کی برکت سے وہ علاقے جن کے بارے میں ہمارے لوگوں میں یہ تصور عام تھا کہ یہاں دن کے وقت بھی جن ہوتے ہیں‘ آج وہاں رات کو بھی جن نہیں آتے کیونکہ وہاں روشنی کی چکا چوند میں دن رات رزق کمانے کی جستجو نے جنگل میں واقعی منگل کا سماں بنایا ہے۔ اس پر مستزاد کرک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں تیل و گیس کی پیداوار ہے جس کی وجہ سے ہائی وے پر چوبیس گھنٹے بھاری لمبی گاڑیوں‘ کنٹینروں اور عام نقل و حمل اور سواریوں کی ٹرانسپورٹ کے آنے جانے سے کرک کی معیشت بہت بہتر ہوئی ہے۔ سڑک کنارے زمینیں قیمتی بن گئی ہیں اور پشاور اور ڈی آئی خان تک سے تجار اور سرمایہ کار مختلف پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرکے لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اژدہا کا زہر بھی بری طرح پورے علاقے کو مسموم بنا رہا ہے۔ ضلع کرک کے عوام بنیادی طور پر پڑھے لکھے اور محنتی و جفاکش ہیں اسی وجہ سے پر امن اور امن کے خواہشمند ہیں۔ انڈس ہائی وے سے قبل ہمارے اس علاقے میں سردی کی راتوں میں عشاء کی نمازوں کے بعد ایک عجیب خاموشی طاری ہو جاتی تھی۔ میں کبھی آدھی رات کو اٹھ کر باہر نکلتا تو اکا دکا کتوں اور گیدڑوں کی آوازوں کے علاوہ کوئی دوسری آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ لیکن اب حال یہ ہے کہ گاڑیوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔مارچ کے مہینے میں گندم اور چنے کی فصل کے علاوہ سرسوں اور تارا میرا کے زرد پھول بہار کی آمد کی خوشخبری سناتے ہیں اور پورا علاقہ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سے مہک اٹھتاہے۔ لیکن پچھلے دنوں اپنے اس آبائی علاقے میں جا کر اپنے ان علاقوں کو ویران اور فصلوں اور ہریالی کے بغیر دیکھ کر تھامس ہار ڈی (انگریز شاعر) یاد آیا جس نے لندن میں پہلی ریلوے ٹریفک بچھنے پر اپنے پرسکون اور خاموش لندن کو یاد کرکے دہائی دی تھی۔انڈس ہائی وے اور گیس آئل فیلڈ کے سبب میرے اس آبائی علاقے کا موسمیاتی ماحول تبدیل ہو رہا ہے بلکہ کمرشلائزیشن کی وجہ سے مادہ پرستی کے پنجے اتنے مضبوط ہوئے ہیں کہ دیہاتوں میں بھی رشتے ناتے کمزور ہونے کے علاوہ چھوٹے موٹے جرائم کے ساتھ سمگلنگ‘ منشیات وغیرہ بھی عام ہو رہے ہیں۔ کرک کے سیاستدانوں‘ سوشل ورکروں‘ ماحولیات کے ذمہ داروں کو سر جوڑ کر ان مضر عوامل و عناصر کے سدباب کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہوگی تاکہ ہم اژدہا کے زہر کی زہر ناکی سے محفوظ رہ کر موتی کا حصول ممکن بنا سکیں ورنہ پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی۔ اگرچہ ہائی وے کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’کوتل‘‘ کی ’’زگ زاگ‘‘ خطرناک سڑک سے چھٹکارا بہت بڑی نعمت ہے لیکن یاد رکھنا ہوگا کہ خنجر سونے کا ہوجائے تب بھی کوئی اپنے پیٹ میں نہیں گھونپتا۔

متعلقہ خبریں