Daily Mashriq


یوم تجدید عہد

یوم تجدید عہد

مارچ کے مہینے کی 23 تاریخ ہے۔ اس دن ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے ، ملک کے اندر اور ملک سے باہر رہائش پذیر پاکستانی یا پاکستان سے محبت کرنے والے ایک اور صرف ایک ہوکر یوم پاکستان ملی جوش اور جذبے سے منا تے ہیں۔ آج کے دن کو یوم پاکستان کے علاوہ یوم استقلال ، یوم قرار داد پاکستان، اور یوم قرار داد لاہور کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آج کا دن 23مارچ 1940کے اس تاریخ ساز دن کی یاد دلاتا ہے جب ہمارے پرکھوں نے آنے والی نسلوں کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کے لئے رہتی دنیا تک یاد رکھی جانے والی تحریک آزادی کی بنیاد رکھی تھی جس پر صرف سات سا ل کے مختصر عرصہ میں آزاد مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عمارت کو ایستادہ کردیا گیا ، ہمیں 14اگست 1947ء کو آزادی کی وہ منزل حاصل ہوگئی جس کا خواب شاعر مشرق ،حکیم الامت، دانائے راز، حضرت ڈاکٹر محمد اقبال نے دیکھا تھا ،اقبال کے اس خواب یا تصور پاکستان کے حوالہ سے ہم انہیں مصور پاکستان بھی کہتے ہیں ، 78برس ہونے کو آئے ہم ہر سال دہراتے رہتے ہیں اس واقعہ کو ، ایک رسم ہے جو پوری کردی جاتی ہے ، ایک میلہ ہے جو برپا ہوتا ہے اسلام آباد کی سڑکوں پر ، افواج پاکستان کے جری اور سجیلے جوان پریڈ کرتے ہیں ، فوجی ساز و سامان کی نمائش کی جاتی ہے، بری، بحری اورر فضائی افواج کی صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیا جاتا ہے، پاکستان کے قرئیے قرئیے کی ثقافتی جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں، افواج پاکستان کے جوانوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جاتا 

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورر بازو کا

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں اقبال کے باوردی مردان مومن اور ان کے شاہین بچوں کے کمالات کا لوہا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ملک اور ملک سے باہر ساری دنیا کے لوگ دیکھتے ہیں ، اس دن صدر پاکستان اور وزیر اعظم کے تہنیتی پیغامات بھی جاری ہوتے ہیں۔ لیکن اس دوران ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ آج کے دن جو عہد ہمارے بزرگوں نے کیا تھا وہ اسے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میںپورا کرنے کے بعد اس منزل پر جا پہنچے جس کے لئے انہیں اپنی جان اور مال کی قربانیوں کے بے بہا نذرانے پیش کرنے پڑے ۔ اگر آزادی کے حصول کے لئے جاری جدو جہد کے نکتہ آغاز کو ہم دکن کی سلطنت میسور کے سلطان حیدر علی اور ان کے شیر دل فرزند فتح علی ٹیپو سلطان کے دور سے گننا شروع کردیں تو اس دوران ہمیں تحریک آزادی کی بہت سی خون آشام کہانیوں کے منظر نامے دیکھنے کو ملیں گے ، کبھی ہم 1857ء کی جنگ آزادی میں چلتی تابڑ توڑ گولیوں کی بوچھاڑآزادی کے متوالوں کی گرتی لاشوں کے منظر دیکھیں گے اور کبھی جلیانوالہ باغ کے گولیوں سے چھلتی ہوتے نہتے عوام کی دل خراش چیخیں سنیں گے اور کبھی پشاورشہر کے قصہ خوانی بازار میں چلنے والی گولی کے شہیدوں کی خون ناحق کی یاد ہمیں لہو کے آنسورلانے لگے گی

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے

اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

ہمارے بزرگوں نے 23مارچ 1940کو آزاد مملکت پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے جو عہد کیا تھا ، انہوں نے اس عہد کو ایک مقدس فریضہ جا کر نبھا دیا ، وہ امت مسلمہ اور اس کے خدائے لم یزل کے سامنے سرخرو اور سرفراز ٹھہرے، لیکن اس کے بدلے میں ہم نے کیا گل کھلائے، آج ہم نے اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہم نے اس ملک کوسنبھال کر رکھنے کی نصیحت پر کس حد تک عمل کیا ، تو ہمارے پاس ایسا کوئی جواب نہیں جس پر ہم اپنا جھکا ہوا سر فخر اور انسباط سے اونچا کرسکیں ، ہمیں یہ بات بھول کر بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم اپنے بزرگوں کی کوشش کے طفیل جس آزاد مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وارث کہلائے اور اس حوالہ سے دنیا بھر میں پاکستانی کہلانے کے حقدار ٹھہرے، اس کے لئے ہم نے کیا کردار ادا کیا ، آزادی کے حصول سے زیادہ اہم آزادی کو قائم رکھنا ہوتا ہے ، کہنے کو تو ہم 14اگست 1947ء کے بعد سے اب تک ملک کی آزادی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ، لیکن ہم نے اپنی آزادی کے دشمنوں پر بھی نظر رکھنی ہے ، ہماری آزادی کے دشمن ہمارے آپ کے درمیان کس کس روپ میں موجود ہیں، ہمیں ان بہروپیوں کے کردار پر نظر رکھنی ہے، اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی ترکیبیں سوچنی ہیں ، یہ راشی، چور ، ڈاکو، ذخیرہ اندوز، ناجائز منافع خور، یہ جو ہر شاخ پر الو بنے بیٹھے ہیں کیا ہماری حقیقی آزادی کو صلب نہیں کررہے ، کیا یہی لوگ اقتدار حاصل کرکے ملک کے انصاف اور قانون کو پامال کرنے کا موجب نہیں بنتے ، وہ اپنے اقتدار کی خاطر نفرتیں پھیلانے اور قوم کے افراد کو آپس میں لڑوانے کا گر جانتے ہیں، ہم سب مل کر ووٹ کی صرف ایک پرچی سے ان دقیانوسوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتے ہیں، ہم نے آج کے دن اپنے پرکھوں کی تقلید میں ظلم کے خلاف ووٹ کی ایک پرچی کے صحیح استعمال کا پیمان باندھنا ہے اوراس پر عمل بھی کرنا ہے نہیں تو ہم اسداللہ غالب کے ہم آواز ہوکر کہتے رہ جائیں گے

عمر بھر کا تونے پیمان وفا باندھا تو ہے

عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے

روزنامہ مشرق پشاور کی قیادت ، انتظامیہ ، اہل کاروں اور قلم کاروں کی جانب سے یوم تجدید عہد کی دلی مبارک باد قبول ہو

متعلقہ خبریں