Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

القدر تابعی امام محمد ابن سیرینؒ کے نام سے کون واقف نہیں۔ حق تعالیٰ نے ان کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا تھا۔ لیکن ذیل کا واقعہ کوئی خواب نہیں ہے بلکہ ان کی حکمت و تدبر کا عمدہ نمونہ ہے۔ آپ کو حلال و حرام کی فکر بہت رہتی تھی اور ہر کام میں تدبر کرتے تھے کہ کوئی چیز نہ خود ایسی کھائیں جس میں حرام کا شبہ ہو اور نہ دوسروں کو کھلائیں۔

ایک مرتبہ ایک شخص کو کچھ مالی ضرورت پیش آئی۔ اس نے سوچا کہ اگر میں امام صاحبؒ سے سوال کروں گا تو وہ میری عمر اور صحت دیکھ کر انکار کردیں گے۔ اس گستاخ شخص نے یہ چال چلی کہ عدالت میں ان کے خلاف دو درہم کا جھوٹا دعویٰ دائر کردیا۔ وہ جانتا تھا کہ امام ابن سیرینؒ دو درہم کے لئے عدالت میں نہیں جائیں گے اور مجھے دو درہم دے ہی دیں گے۔ اس نے خود آکر ابن سیرینؒ کو بتا بھی دیا کہ میں نے عدالت میں آپ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔

اس وقت ابن سیرینؒ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش ہوگئے۔ چنانچہ قاضی شہر نے آپ کے نام سمن بھیجا تو آپ مجبوراً عدالت میں حاضر ہوگئے۔ قاضی نے حضرت ابن سیرینؒ سے پوچھا کہ کیا آپ اس دعویٰ کو قبول کرتے ہیں؟

آپ نے انکار کردیا کہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ قاضی نے حضرت ابن سیرینؒ سے کہا کہ آپ قانون کے مطابق قسم اٹھائیں گے؟

حضرت ابن سیرینؒ نے فرمایا کہ میں قسم اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ آپ نے صرف دو درہم کے لئے قسم اٹھالی؟ آپ نے جواب میں فرمایا:’’مدعی مسلمان ہے اور میں کسی مسلمان کو حرام نہیں کھلا سکتا۔‘‘

یہ سن کر لوگ حیرت زدہ ہوگئے۔ مدعی خوف خدا سے لرز اٹھا اور اس نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔ حضرت ابن سیرینؒ عدالت سے باہر آئے اور مدعی کو دو درہم دینے لگے۔ مدعی نے روتے ہوئے معافی مانگی اور درہم لینے سے انکار کردیا۔

(حکایات و واقعات‘ از روشنی ج : ص184:)

شمس الدین محمد بن عبدالرحیم مقدسی ساتویں صدی ہجری کے جلیل القدر علماء میں شمار ہوتے ہیں‘ وہ اپنے وقت کے مشہور بزرگ بھی تھے۔ ایک بار کسی پہاڑ کے پاس اپنے مکان کے لئے جگہ کھود رہے تھے‘ ان کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔ وہ بھی ان ہی کی طرح پارسا اور پاک باز خاتون تھیں۔ زمین کھودتے کھودتے انہیں مدفون دیناروں سے بھری تھیلی ملی‘ تو ’’انا للہ‘‘ پڑھی۔ پھر اس کھودی ہوئی جگہ کو اسی طرح بھر دیا جیسے پہلے تھی اور بیوی سے کہا:غالباً یہ ہمارے لئے آزمائش ہے‘ ہوسکتا ہے یہ تھیلی کسی نے دفن کی ہو اور ضرورت کے وقت وہ اس کو نکالے‘ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص اس کو چرا لے‘ لہٰذا کسی سے اس کا تذکرہ بھی نہ کرنا‘ چنانچہ دونوں میاں بیوی نے فقر و حاجت مندی کے باوجود اس تھیلی کو وہیں چھوڑا اورچل دئیے۔

(شذرات الذہب 76)

متعلقہ خبریں