جنگ نہیں امن

جنگ نہیں امن

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ عرب اسلامی ممالک سربراہ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر دہشت گردی ، انتہا پسندی کی روک تھام اور امن واستحکام و ترقی کیلئے عرب و اسلامی ممالک اور امریکہ قریبی پارٹنر شپ قائم کریں گے ۔ اعلامیہ کے مطابق شرکاء نے مشترکہ کارروائی اور تعلقات کی مضبوطی کیلئے تعاون بڑھانے اور اقدامات کرنے کیلئے عام وسائل بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ، کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ باہمی مفادات کے تحفظ کیلئے امریکہ اور اسلامی ممالک میں قریبی تعاون کو جاری رکھا جائے گا ۔ اس سے پہلے امریکہ عرب سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دنیا میں جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے اور انتہاپسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے ، دہشت گردی سے عرب دنیا سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ، اور سعودی عرب نے دہشتگردی کے خلاف ملکوں کو متحد کیا ، ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران خطہ میں عدم استحکام کا ذمہ دار ہے ، ایران جب تک تعاون نہیں کرتا تمام ممالک اسے تنہا کر دیں ، اسلام دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتا ، دہشتگردوں کی مالی مدد کے خلاف معاہدہ ہوگیا ہے یہ جنگ اچھوں اور بروں کے درمیان ہے، امریکہ ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے پر عزم ہے لیکن نئے مستقبل کا آغاز دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں جبکہ ہمارا مقصد دہشتگردی کے خلاف لڑائی کے لئے اتحاد کی تشکیل ہے اور یہ جنگ مذہبوں ، فرقوں یا تہذیبوں کے درمیان نہیں بلکہ وحشی مجرموں سے ہے کانفرنس سے سعودی فرما نروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کچھ ممالک کے معاملات میں مداخلت کر رہاہے ، دہشتگردی سب کیلئے خطرہ ہے ۔ دنیا کو دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا ، مذہب اور نسل سے بالا تر ہو کر کارروائی کرنا ہوگی ۔ دنیا میں امن کیلئے ہمیں مل کر مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی ، دہشتگردی صرف تعمیری تعاون سے ہی ختم کی جاسکتی ہے ، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان نے جو انمردی سے دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی اس حوالے سے پر عزم ہے ، جہاں تک امریکہ عرب اسلامی ممالک کانفرنس میں ظاہر کئے گئے خیالات اور ازاں بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کا تعلق ہے ، دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہو سکتا ، تاہم آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس قسم کی زبان بول رہا ہے اگر وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اس قسم کے خیالات کے علی الرغم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی زبان کے استعمال میں احتیاط سے کام لیتے تو شاید حالات موجودہ نہج پر کبھی نہ پہنچ پاتے ، مگر اس وقت وہ صرف انتخابی معرکہ جیتنے کیلئے خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امریکہ میں اقدام اٹھانے پر تلے دکھائی دیتے تھے۔ اس کا اثر نہ صرف امریکہ اندر بلکہ مغربی دنیا میں بھی بالخصوص منفی سوچ ابھرنے کا باعث بنے ، ستم تو یہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد موصوف نے اپنے انتخابی وعدوں پر عمل در آمد کرتے ہوئے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابند یاں عائد کرنے کی بھی کوششیں کیں لیکن یہ تو امریکی رائے عامہ کا دبائو اور امریکی عدالتوں کے جرأت مندانہ فیصلے جن کی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اقدامات کو نہ صرف چیلنج کیا گیا ، عوام نے بڑی بڑی ریلیاں نکال کر ان اقدامات کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے ان کو مسترد کیا بلکہ عدالتوں نے بھی ان فیصلوں کے خلاف تاریخ رقم کی ، دوسری جانب اقتدار میں آتے ہی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدوں کو استرداد کی تلوار سے کاٹ کر رکھ دیا ، تاہم اب وہ کیا حالات ہیں جن کی وجہ سے امریکی حکمران کے لہجے میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے اور وہ اس دہشتگردی کے خلاف جو مبینہ طور پر خود امریکی حکومتوں نے وقتاً فوقتاً دنیا پر مسلط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، مسلمانوں سے تعاون کے حصول کیلئے سرگرم ہو گیا ہے ، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ، جب بر صغیر کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو پاکستان میں اس وقت ہمسایہ بھارت کی سرپرستی میں کلبھوشن یادیو اور اسی قسم کے دیگر گروپوں کے ذریعے جو دہشتگردی پھیلا کر پاکستان کو کمزور کر کے خدا نخواستہ اس کو مزید تقسیم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں ، اس کے پیچھے بھی بعض بعض مبینہ الزامات یہی ہیں کہ بھارتی ایجنسیوں کی ان سازشوں کو بعض مغربی قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے ، اسی طرح پہلے القاعدہ اور بعد میں داعش جیسی تنظیموں کے قیام میں بھی امریکی ہاتھ کی جانب اشارے ملتے ہیں ، اس لئے اگر امریکہ واقعی دنیا میں امن کا خواہاں اور دہشتگردی کے خاتمے کا متمنی ہے تو اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اور جہاں جہاں وہ اس قسم کی تنظیموں کی سرپرستی کرتا رہا ہے ، یاپھر بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوششیں کر رہا ہے ان سے ہاتھ کھینچ کر ہی وہ دنیا میں امن کے قیام میں کامیاب ہو سکتا ہے ۔ اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کا فلسفہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔

اداریہ