Daily Mashriq


بھارت کا جنگی جنون

بھارت کا جنگی جنون

بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے ائیر فورس کے سو افسروں کو جنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ائیر چیف بی ایس دھنوا نے افسروں کو آگاہ کیا کہ روایتی خطرات کاسامنا ہے۔ آپریشن کے لئے کسی بھی وقت بلایا جاسکتاہے۔ بھارت کے ائیر چیف نے تیس مارچ کو بھارتی فضائیہ کے ایک سو افسروں کو الگ الگ خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کو خطرات کا سامنا ہے۔ بی ایس دھنوا نے خط میں ائیر فورس کی خواتین ساتھیوں کو جنسی ہراساں کرنے کا بھی ذکر کیا کہ فضائیہ میں اسی گری ہوئی حرکت پر قابو پانا ہوگا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے مودی سرکار نے بھارت میں اقتدار سنبھالا ہے ایک جانب ہندو انتہا پسندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خصوصاً اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ابھارا جا رہاہے جبکہ گائے کے ذبیحہ کے نام پر بے گنا ہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، دوسری جانب خواتین کے خلاف توہین آمیز برتائو کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں اور ان کی بے حرمتی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان حالات کا بھارتی افواج کے مورال پر بھی شدید اثرات مرتب ہورہے ہیں اور تینوں افواج کے اندر خواتین فوجی افسروں اور اہلکاروں کی بے حرمتی کے واقعات کے حوالے سے خبریں میڈیا میں تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں۔ ایسے میں اخلاقی طور پر پست فضائیہ کے افسروں کو خطوط کے ذریعے متنبہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارتی فضائیہ اخلاقی سطح پر کس پستی کی سمت رواں ہے۔ اس لئے ان سے کسی کارنامے کی توقع عبث ہی ہوسکتی ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی فضائیہ کے ائیر چیف بی ایس دھنوا کے یہ دعوے بھی محض مفروضوں پرمبنی ہیں کہ بھارت کو روایتی خطرات کا سامنا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں خطے کے اندر ایسی کوئی کشمکش دکھائی نہیں دیتی جن سے بھارتی ائیر چیف کے دعوئوں کی تصدیق ہوسکے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ابھی چند روز پہلے ہی بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں تیزی آنے اور لگ بھگ 7لاکھ فوجیوں کی وہاں تعیناتی کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے میں ناکامی کے بعد بھارتی فضائیہ کو حریت پسند کشمیریوں کے خلاف فضائی جنگ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد بھارت کو عالمی سطح پر ممکنہ احتجاج کے باعث شاید کچھ خدشات دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے بھارتی ائیر چیف نے فضائیہ کو الرٹ رہنے کا کہہ دیا ہو جو عالمی سطح پر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔

سوشل میڈیا کا غلط استعمال؟

سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف مہم چلانے کے الزام میں گرفتار افراد کو اسلام آباد منتقل کردیاگیا ہے۔ اب تک 22افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 6افراد کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیاگیا۔ بی بی سی کے مطابق ایف آ ئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائیاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ان احکامات کے بعد کی گئی ہیں جو انہوں نے چند روز پہلے جاری کئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں حکمران جماعت لیگ (ن) کی ایک اہم شخصیت کے علاوہ تحریک انصاف کے بعض ورکرز کو بھی گرفتار کیاگیا جن کے بارے میں تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی نے ( ان سے ملاقات کے بعد) کہا کہ ان کے ورکروں کو غلط حراست میں لیاگیا ہے جوبے گناہ ہیں۔ ہمارے کارکنوں کو بے جا تنگ نہ کیا جائے کیونکہ آزادی اظہار رائے ایک بنیادی حق ہے۔ پاک فوج نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سی قربانیاں دی ہیں جس پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔جہاں تک سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کے خلاف مہم چلانے کا تعلق ہے اس کی اجازت پاکستان کا کوئی بھی باشندہ کسی بھی صورت میں نہیں دے سکتا جبکہ بد قسمتی سے جو لوگ جعلی اکائونٹس بنا کر ایسا کر رہے ہیں وہ در حقیقت پاکستان کے دشمنوں کاکام آسان کر رہے ہیں۔ فیس بک' ٹوئیٹر اور دیگر ایپس پر جس قسم کی توہین آمیز پوسٹیں جاری کی جا رہی ہیں انہیں پڑھ کر پاکستان کے دشمنوں کو خوشی جبکہ محب وطن پاکستانیوں کے دل دکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ان نا پسندیدہ پوسٹوں اور ٹویٹس کو روکنے کی حکمت عملی پہلے اختیار کی جانی چاہئے تھی جس میں حکومت یقینا ناکام ہوئی ہے۔ جہاں تک اظہار رائے کی آزادی کا سوال ہے اس حق سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن جہاں کسی دوسرے کے حقوق کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں وہاں اپنے حقوق کے اظہار کرنے والوں کے حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اپنی ذہنی تسکین کے لئے دوسروں کی توہین کی اجازت کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنا لیں تو کسی دوسرے کو شکایت لاحق نہ ہوسکے گی جبکہ یہاں تو معاملہ قومی وقار کا ہے اور ہماری بہادر افواج ملک و قوم کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایسے میں ان کے خلاف توہین آمیز پوسٹوں سے ان کے مورال پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس حوالے سے بھی ضرور سوچنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں