Daily Mashriq


کہ خوشی سے مر نہ جاتے

کہ خوشی سے مر نہ جاتے

''امریکا اور مغرب اسلام دشمن نہیں ''۔ یہ اچھی خبر بلکہ بہت ہی اچھی اور خوشگوار خبر بڑے عرصے کے بعد مسلمانوں کو سننے کو ملی ہے ۔ یہ خوشخبری سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بیرونی دورے کے لئے سعودی عرب کے انتخاب کے موقع پر آئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی وزیر خارجہ نے امریکا اور مغرب کو بھی یہ اہم پیغام دیا ہے کہ اسلام آپ کا دشمن نہیں ۔ اللہ کرے کہ سعودی وزیر خارجہ کی توقعات اور امید کی تکمیل ہو اور امریکہ اور مغرب اور اسلام کے درمیان ایسے خوشگوار بقائے باہمی کے تعلقات استوار ہوجائیں کہ انسانیت کو سکھ کا سانس لینے کا ملے ۔ کیونکہ گزشتہ ایک صدی میں تو دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش ، سرد جنگ اور مفادات کے حصول کے لئے چھینا جھپٹی نے حضرت انسان کی قبا کو سوبار تار تارکر کے رکھ دیا ہے ۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ '' سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور سیاست میںکوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی ۔ سیاست میں آج کا دوست کل مخالف و دشمن کی روپ میں بھی سامنے آسکتا ہے اور اس کے برعکس بھی ۔ ورنہ دیکھیں نا ، کہ کل ہی ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی مہم میں اسلامی دنیا کو للکار رہے تھے ، اور صدارت کا عہد ہ سنبھا لنے کے بعد جن ملکوں کے باشندوں پر امریکی ویزہ کی پابندی لگوائی وہ ایک کے علاوہ سارے ہی مسلمان ممالک تھے ۔ اسی طرح اوباما کے دور میں سعودی عرب کے خلاف امریکی عدالتوں میں 9/11کا مقدمہ درج کر ایا گیا اور عدالت نے سعودیوں کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر مرنے والوں کو خون بہا وغیرہ کی ادائیگی کا کہا ۔ ۔۔حالانکہ بحیثیت ایک ملک و حکومت سعودی عرب کا 9/11میںکوئی کردار نہیں تھا ۔ اسی طرح ایک امریکی پاگل نے خانہ کعبہ (خاکم بدھن ) کو گرانے کی مذموم بات کی اور ایک دوسرے پاگل نے قرآن کریم کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا ۔ مغرب اور اسلام کے درمیان تعلقات و تعامل کی ایک طویل تاریخ ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ جب اسلام غالب قوت تھا تو ساری انسانیت کو امان دی اور مغرب غالب قوت بن گیا تو سپین میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام سے لیکر 9/11اور ابھی کل ہی افغانستان پر بمو ں کی ماں ، گرانے کی ایک ایسی المناک داستان ہے اس وقت امریکہ اور مغرب سے وہاں پر مقیم مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کے ذریعے جو خبریں وقتاً فوقتاًآتی ہیں ، اُس سے بعض معاملات میںامریکہ اور مغرب کی تنگ نظری اور تعصب دیکھ کر انسان سوچنے لگتا ہے کہ ان دو اہم ادیان مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان اتنا بعد اور اختلاف ہے تو کیا مستقبل قریب میں ان کے درمیان دوستی نہ سہی ، باہمی ورکنگ ریلیشن شپ برائے بقائے انسانیت قائم ہو سکے گی ۔ جس امریکا اور مغرب میں وقتاً فوقتاً خاتم النبیین ۖ کی ناموس مبارک کے خلاف واقعات کا ارتکاب ہوتا ہو ، جہاں مسلمان خواتین کو پردے اور نقاب پر ہراساں کیا جاتا ہو اور بعض واقعات میں قتل کرنے تک کی نوبت آتی ہو ، اور جن لوگوں کو مساجد کی تعمیر و مینار اور اذان پر اختلا ف اور تکلیف ہو ، مندر ، گرجا ، صوامع اور دیگر ڈیڑھ اینٹ کی کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ پر کوئی پابندی نہ ہو ، اُن کے ہاں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ انسانیت کی بنیادوں پر اچھے تعلقات اور ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا یقینا اس صدی کا معجزہ ہوگا ۔اس بات میں دوسری رائے نہیں کہ سعودی عرب حرمین الشرفین کے طفیل ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے مقدس ترین اور اہم ترین ملک ہے اور صدر ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ سعودی عرب اور عالم اسلام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ صدر ٹرمپ کو شاید اچھا مذہبی امور کا مشیر ملا ہے کہ اُن کو اپنے انتخابی بیانات کے برعکس اپنے ابتدائی دوروں کے لئے جن تین ملکوں کا انتخاب کیا ہے وہ علامتی طور پر ساری دنیا کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ صدر بش کے مذہبی امور کے مشیر بر نا ڈلویس نے اپنے مذہبی تعصبات کے ذریعے امریکا کو اسلامی دنیا پر چڑھ دوڑانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا تھا ااور اس کا خمیازہ امریکہ اور اسلامی دنیا آج بھی بھگت رہا ہے۔ سموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ''تہذیبوں کا تصادم'' میں ٹھیک نشاندہی کی تھی کہ دنیاکی ستائیس تہذیبوں میں سے دو زندہ اور اہم تہذیبیں اسلام اور مسیحیت ہیں۔ یہودیت کی آسمانی اور ابراہیمی مذہب کی حیثیت اپنی جگہ لیکن اس وقت سیاسی لحاظ سے مسیحیت یہودیت میں یا یہودیت مسیحیت میں تقریباً ضم ہوچکی ہے۔ لہٰذا صدر ٹرمپ کا سعودی عرب' اسرائیل اور ویٹکن سٹی (روم) کادورہ کرنا تینوں ابراہیمی مذاہب کے درمیان بقائے باہمی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ سعودی عرب کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب پر ایک طرف اسلامی دنیا کے درمیان اتحاد و اتفاق کے قائم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور دوسری طرف امریکہ اور مغرب کو اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ کے بجائے با وقار باہمی تعلقات کی بنیادیں سمجھنا ہوں گی۔ سعودی شاہ اور وزیر خارجہ اگر امریکہ اور مغرب کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگئے کہ امریکہ مغرب اور اسلام کے درمیان اس وقت سر فہرست مسئلہ ''ناموس رسالت'' ہے۔ امریکہ اور مغرب اپنے ہاں کے شر پسندوں کو قانون سازی اور اقوام متحدہ کی سطح پر ٹھوس اقدامات کے ذریعے لگام دے دیں تو مسلمانوں کی طرف سے امن و سلامتی کا پیغام جائے گا اور اس سے دہشت گردی کی روک تھام میں بڑی مدد ملے گی۔ ہم صدر ٹرمپ کے سعودی عرب اور دیگر دو اہم ملکوں کے دورے سے مثبت و تعمیری نتائج برآمد ہونے کے لئے دعا گو ہیں لیکن تاریخ پر نظر رکھنے کے سبب زیادہ پر امید نہیں۔ البتہ سیاست کی ضروریات الگ ہوتی ہیں جب تک دنیا قائم ہے سیاست چلتی رہے گی اور فی الحال مسلمان سیاست میں بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اللہ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں اتفاق و اتحاد کی نعمت سے نوازے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں