Daily Mashriq

سی پیک منصوبوں کی تفصیل اور تحفظات

سی پیک منصوبوں کی تفصیل اور تحفظات

گزشتہ ہفتے میڈیا میں چائنہ پاک اکنامک کوریڈور ( سی پیک) کی تفصیلات سامنے آئیں جن میں یہ بتایا گیا تھا کہ چین سی پیک کے ذریعے کون سے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میڈیا میں آنے والی یہ سٹوری چینی حکومت کے نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کی جانب سے شائع ہونے والے 231 صفحات کے پلان سے اخذ کی گئی تھی۔ اس سٹوری کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی حکومت نے اس کو مسترد کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔منسٹر فار پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اور سی پیک کے فوکل پرسن جناب احسن اقبال نے اس سٹوری کو یکسر مسترد کر نے کے ساتھ ساتھ اس سٹوری کو سامنے لانے کے ارادے اور مقاصد پر بھی سوالات اُٹھائے۔ احسن اقبال کی جانب سے دکھائے جانے والے اس ردِ عمل کی توجیح بیان کرنا انتہائی مشکل ہے۔سی پیک کے متعلق سامنے آنے والے کسی بھی سٹوری کے بارے میں حکومتی ردِ عمل کی پیش گوئی کرنا انتہائی آسان ہوچکا ہے۔

حکومتی ترجیحات میں سی پیک سے متعلق کسی بھی معلومات کو خفیہ رکھنا ہے اورچند مخصوص معلومات کو عوام کے سامنے لانا ہے سب سے اوپر نظر آتا ہے۔ سی پیک کے آغاز سے ہی ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں کی جانب سے اس کے روٹ اور دیگر منصوبوںپر تحفظات ظاہر کئے جاچکے ہیں جن کو ان منصوبوں کی جزوی تفصیلات کی تشہیر اور چینی حکام کے ساتھ مل کر بیک ڈور مذاکرات کے ذریعے دور کیا جاتا رہا ہے۔ سی پیک پاکستان کے ان چند موضوعات میں سے ایک ہے جن پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر نظر آتی ہے۔حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی سی پیک کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں اور اس حوالے سے مخصوص معلومات میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے پر بھی تمام جماعتیں متفق ہیںجس کی ایک بڑی وجہ سی پیک کی بدولت مناسب مقدار میں ترسیلِ زر ہے جس کی کمی ہمیشہ سے پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کے جی ڈی پی میں پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کی شرح صرف 12 فیصد رہی ہے جو کہ ملک میں بیروزگاری کے خاتمے اور کسی بڑے معاشی منصوبے کے آغاز کے لئے ناکافی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ ریاست پاکستان ترقی و خوشحالی کی مطلوبہ ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پبلک سیکٹر کی ذریعے بھی مناسب مقدار میں سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سیاسی عزم کی کمی اور ذاتی مفادات کے حصول کی جنگ کے علاوہ بیوروکریسی کی نااہلی بھی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ناکامی کا سبب بنتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کی جانب سے ہونے والی اس بیرونی سرمایہ کاری کو ملک کے معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کے مسائل کو حل کرنے کی نوید بھی سمجھا جار ہاہے۔سی پیک کے گرد ہونے والی بحث میں سیاسی قائدین کی طرف سے امید افزاء بیانات دراصل ان قائدین کے فرائض میں سے ایک فرض کی ادائیگی ہے جس سے عوام کے دلوں میں امید کی کرن کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں سیاسی قیادت کے اس کردار کے ذریعے معاشی اور معاشرتی ترقی کی راہ کا تعین کیا جاتا ہے۔ لیکن سیاسی قیادت کی جانب سے پدرانہ رہنمائی دراصل سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ سیاسی جماعت کی دیگر ذمہ داریوں میں کسی بھی ملکی منصوبے میں اپنے ووٹروں کے مفادات کی حفاظت کرنا بھی شامل ہے۔ سی پیک کے حوالے سے اب تک ہونے والی بحث میںعوام کے مجموعی مفادات اور ان کی نمائندگی کی کمی دیکھنے میںآتی ہے جو نہ صرف ہمارے سیاسی نظام کی اخلاقی اقدار کے خلاف ہے بلکہ ہماری معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ چینی سرمایہ کاری اور چینی مصنوعات کی بے تحاشہ درآمد پر مقامی تاجر برادری کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔
بڑی تعداد میںفری ۔ٹریڈ معاہدوں کے ذریعے ملک میں آنے والی چینی مصنوعات مقامی صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مزدور کارکنوں کی جانب سے بھی چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تنخواہ اور دیگر مراعات کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے سی پیک کی تفصیلات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کو شدت سے مسترد کرنے کا مطلب یہ ہے حکومت اس وقت دیگر منصوبوں کے ساتھ ساتھ سی پیک کے تحت شروع کئے جانے والے زرعی منصوبوں کی معلومات بھی خفیہ رکھنا چاہتی ہے۔ موجود حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زراعت سی پیک کے منصوبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور مستقبل میں زراعت کے منصوبوں کے لئے نہ صرف بڑے رقبے الاٹ کئے جائیں گے بلکہ موجودہ دیہی زرعی نظام کو بھی تبدیل کیا جائے گا جس سے زرعی سپلائی چین بھی متاثر ہوگی۔ مقامی انڈسٹری، مزدور و ں اور سیاسی ایلیٹ کے برعکس زراعت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے دورس نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ ملک کی آبادی کا 40 فیصد حصہ آج بھی زراعت پر انحصار کرتا ہے۔زرعی منصوبوں کی معلومات کو خفیہ رکھ کر ملکی آبادی کے اتنے بڑے حصے کو نظر انداز کرنا نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے لئے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ