Daily Mashriq

تعلیمی تباہی کے روشن امکانات

تعلیمی تباہی کے روشن امکانات

ہماری جامعات تعلیمی اسناد کی بجائے جہالت نامے بانٹ رہی ہے۔ وہ کیسے اس پر بھی بات ہوگی پہلے بتا تے چلیں کہ آج کل ملک کی جامعات میںفسادات کا رجحان ہی نہیں اُسکی عملی صورت سامنے آ رہی ہے۔ ابھی گزشتہ رات ہی اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں حالیہ فسادات کے موضوع پر کچھ اہل دانش ، ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ٹاک شو میںگفتگوکر رہے تھے ۔ شریک گفتگو ایک وزیر صاحب نے کہا کہ اس یونیورسٹی کا جامعات کی عالمی درجہ بندی میں پانچواں نمبر ہے ۔ ڈاکٹر ھود بھائی تو بے باک گفتگو میںبڑی شہر ت رکھتے ہیں ، فرمایا کہ اس نوع کی درجہ بندیاں بالعموم جعلی اور قابل اعتبار نہیں ہو تیں۔ وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ جامعات میں تحقیق کا معیار انتہائی پست ہو چکا ہے ۔چربہ سازی کا دوردورہ ہے ۔ جب آپ صاحب مقالہ سے اُن کی تحریروں کے متعلق بنیادی قسم کی معلومات کے بارے میں پو چھیں تو اُن کا جواب خاموشی کی صورت میں ملتا ہے یا پھر آئیں بائیں شائیںبکنے لگتے ہیں ۔ درجہ بندی کی یہ جائزہ رپورٹیں اگر جینوئن ہو تیں تو طلبہ جامعات میں ایک دوسرے پر ڈنڈے اور گولیاں برسانے کی بجائے صحت مند علمی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ۔ دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لئے جہاں پریس کی زبان بندی کے لئے نئے قانون نافذ کئے تھے وہاں طلبہ یونیز پر بھی پابندی عائد کر دی تھی جس کے نتیجے میں Ethhicگروہ بندی کی بنیاد پڑی ۔ یہ باتیں بھی ایک حد تک درست ہو نگی لیکن اعلیٰ سطح کے تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بجائے اُن کے سربراہوں کی تقرری بھی جب سیاست گردی کی نذر ہو جائے ، حکمران جامعات کو اس لیے سربراہوں سے خالی رکھیں نہ ان کو اپنی پسند کا امید وار دستیاب نہیں ہوتا ۔ تو پھر جامعات کو سیاسی اکھاڑے بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جامعات علمی سرگرمیوں کی بجائے فسادات کے مراکز بن گئے ہیں اور تعلیمی معیار بڑی تیزی سے روبہ زوال ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال اعلیٰ ملازمتوں کے امتحان میں اخباری اطلاعات کے مطابق شریک ہزاروں امیدواروں میں منتخب ہونے والوں کی تعداد موجود خالی آسامیوں سے بھی کم تھی۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں کے لئے جو قوانین بنائے گئے ہیں وہ بھی حد درجہ مضحکہ خیز ہیں۔ سرکاری جامعات میں غیر معیاری تحقیق کا مسئلہ تو اپنی جگہ گلی کوچوں میں قائم نجی یونیورسٹیوں نے ڈگریوں کی تقسیم کا جو جمعہ بازار لگا رکھا ہے اس نے تعلیمی معیار کی تباہی کے امکانات مزید روشن کردئیے ہیں۔ کیا سرکار نے یہ پوچھنے کی زحمت کی ہے کہ نجی یونیورسٹی تو دور کی بات ہے نجی کالجز میں ایم اے کی جو کلاسیں شروع کی گئی ہیں ان کے اساتذہ کا کیا تعلیمی معیار ہے؟ ہمارے زمانے میں ایم فل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلے کے لئے ایم فل کے نمبرات کی کوئی شرط نہ تھی۔ پی ایچ ڈی کی مقررہ سیٹوں پر خواہشمند امیدواروں کو میرٹ کی بنیاد پر داخلہ مل جاتا۔ اب ایچ ای سی نے ایم فل میں 60فیصد نمبرات کی حد مقرر کر رکھی ہے۔ اگر کسی محنتی سکالر کا آدھا نمبر بھی کم ہوگیا تو وہ ایک بار پھر پہلی جماعت کا طالب علم بن جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے پروفیشنل کالجز میں داخلے کے خواہشمند ایف ایس سی میں مقررہ نمبر حاصل نہ کرنے کے نتیجے میں ہیرو سے زیرو بن جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ 20لاکھ روپے سالانہ ادا کرنے والوں کی اولاد پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے چار ایک سال بعد ڈاکٹر یا انجینئر بننے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ یہ کس طرح ہوتا ہے یہ ہمارے فرشتوں کو علم نہیں۔ غریب کی اولاد جائے بھاڑ میں۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ پی ایچ ڈی میں داخلے کے لئے 60فیصد کی یہ شرط بلا جواز ہی نہیں اہل اور نا اہل امیدواروں کے لئے کافی تھی۔ محنت اور جعلسازی کے مقابلے میں بالعموم جیت جعلسازوں کی ہی ہوتی ہے اور ابتداء ہی سے محنت کی بجائے جعلسازی کے حربے استعمال کرنے والے محنتی اور جینوئن طلبہ کو پچھاڑنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں اچھا خیال اور اچھا منصوبہ بھی جعلسازی کا شکار اور منفی بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں رشید امجد کی خود نوشت عاشقی صبر طلب کا ایک چشم کشا اقتباس ملاحظہ کیجئے۔ لکھتے ہیں ریسرچ کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکار نے سکالرز کے لئے معقول الائونس مقرر کر رکھا ہے لیکن اس کا الٹا اثر نکلا یعنی لوگوں نے مقالے لکھوانے شروع کردئیے۔ کچھ ایچ ای سی کی غلط پالیسیوں اور کچھ ایسے لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے گلی کوچوں میں پانڈے قلعی کرالو کے نعرے لگانے والوں کی طرح معاوضے پر مقالے لکھنے شروع کردئیے۔ ہم کو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گردوں کی پیوند کاری کے ناجائز کاروبار پر تو حکومت کی نظر رہتی ہے لیکن اس علمی بد دیانتی پر انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ امجد رشید کے مطابق لاہور میں ایسے گروپ موجود ہیں جنہوں نے موضوع' خاکہ اور مقالہ لکھنے کے معاوضے مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ پانچ پانچ چھ چھ لوگوں کا پینل ہوتا ہے ایک ایک بانٹ لیتے ہیں اور مہینہ بھر میں کام مکمل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایچ ای سی کی جانب سے PHD کے لئے ایم فل میں 60فیصد نمبرات کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور اسی طرح غیر علمی ماحول میں فسادات کی پیش بندی کس طرح ممکن ہے سرکار کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ہمارے ہاں کیا سیاست' کیا علم سب کو جلب زر کا وسیلہ بنا دیاگیا ہے۔ ہم تو سیاست میں بھی گندگی کے حق میں نہیں لیکن علم و دانش کے شعبے کو تو بد دیانتی سے بالکل محفوظ رکھنا چاہئے۔ بصورت دیگر قوم کی تباہی کے امکانات بالکل روشن ہیں۔ جامعات میں اسی طرح فسادات کا بازار گرم رہے گا اور جہالت فاقے بانٹتی رہے گی۔

اداریہ