Daily Mashriq

انسانی گردوں کے بیوپاری

انسانی گردوں کے بیوپاری

لگ بھگ دس برس ہوتے ہیں۔گورڈن کالج راولپنڈی کے پرنسپل اور چوٹی کے ماہر ریاضیات پروفیسر خواجہ مسعود مرحوم نے مجھے ایک گردوں کے ایسے سرجن سے ملوایا جو امریکہ کی بودوباش چھوڑ کر اس لئے پاکستان منتقل ہوئے کہ ان کے ملک کو ان کی ضرورت تھی۔ڈاکٹر سعید اختر سے مل کر مجھے یوں لگا جیسے میں کسی کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن سے نہیں ایک درویش سے مل رہا ہوں۔ان کی فکر مندی یہ تھی کہ پاکستان میں گردوں کی غیرقانونی خرید و فروخت ہو رہی ہے اور غریبوں کا بدترین استحصال ہو رہا ہے۔انہوں نے سر گو دھا کے قریب کوٹ مومن کے کچھ دیہاتوں کے بارے میں بتایا کہ وہاں کے بیشتر باسیوں کے گردے نکال کر انہیں چند ہزار کی واجبی سی رقم دے کر بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک اخبار نویس کی حیثیت سے میں نے اپنا فرض یوں پورا کیا کہ اس ظلم پر پورے صفحے کا فیچر چھاپ دیا اور ڈاکٹر صاحب نے اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھوا دیا۔جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید ان دنوں سینیٹ کے رکن تھے اور ڈاکٹر صاحب کے قریبی دوست بھی چنانچہ انہوں نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی تو کچھ اور سینیٹرز نے بھی ان کا ساتھ دیا لیکن چونکہ اس طرح کی سرگرمی ایف آئی اے کے اختیارات سے باہر تھی اس لئے پولیس یا تو اس معاملے کو ہینڈل نہ کر سکی یا طاقتور مافیا کے سامنے بے بس ہو گئی البتہ یہ ضرور ہوا کہ راولپنڈی کی ایک معروف شاہراہ پر واقع ایک ایسا ہسپتال محتاط ہو گیا جو گردے نکال کر پاکستان کے طبقہ امراء اور عرب شیوخ کو بیچنے میں سب سے زیادہ سرگرم تھا۔تھوڑی بہت پکڑ دھکڑ بھی ہوئی لیکن پھر حسب روایت یہ معاملہ پارلیمنٹ بھی بھول گیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حال مست ہو گئے۔ یوں دن پہ دن گزرتے رہے اور ان کا نیٹ ورک ہر گزرتے دن کے ساتھ پھیلتا چلا گیا۔ان کاطریقہ واردات یہ تھا کہ انہوں نے کچھ مستقل ایجنٹ پالے ہوئے تھے جو ہر وقت فیلڈ میں رہتے۔یہ لوگ ان مقامات کا رخ کرتے جہاں دیہاڑی دار مزدور آکر صبح کو بیٹھتے ہیں۔جو مزدور انہیں اکیلا بیٹھا ہوا نظر آتا اسے ایک سائیڈ پر لے جا کر اس سے مکالمہ کرتے۔اگر انہیں محسوس ہوتا کہ بہت زیادہ حالات کا مارا ہوا ہے اور قرض خواہوں کے ہاتھوں سخت پریشان ہے تو اس کے ہمدرد بن کر اسے آفر دیتے کہ وہ اگر تھوڑی ہمت کرے تو ساٹھ ستر ہزار کے قرض سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔اسے مشورہ دیتے کہ وہ ایک گردہ فروخت کر دے تو دوسرے گردے پر وہ آسانی سے زندگی گزار سکتا ہے۔ وہ شخص راضی ہو جاتا تو اسے اپنے ساتھ اس سرجن کے پاس لے جاتے جن کے کارندے تھے۔ایک بار وہ مزدور ان کی چار دیواری میں داخل ہو جاتا تو ایک گردہ ان کے حوالے کر کے ہی نکل پاتا۔گردہ نکالنے کے بعد مجبور لوگوںکو اینٹی بائیوٹکس کا پورا کورس بھی نہ کروایا جاتا جس کی وجہ سے کئی لوگ معذور ہو کر رہ گئے اور وہ یوں کہ ذرا سا وزن بھی اٹھانے کے قابل نہ رہے۔ اور یوں محنت مزدوری سے بھی عاجز ہو کر رہ گئے۔ابھی حالیہ دنوں میں ایف آئی اے نے مسلسل چھاپے مار کر ان گردہ فروشوں کے جو گروہ پکڑے ہیں یہ سب اسی زمانے سے سرگرم عمل ہیںجب یہ کاروبار راولپنڈی میں عروج پر تھا لیکن پارلیمنٹ کی مداخلت نے اس دھندے پر گہری نہ سہی ہلکی ضرب لگائی ضرور تھی۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب رحمان ملک وزیر داخلہ تھے تو ان کے نوٹس میں یہ پوری واردات تھی لیکن انہوں نے ایف آئی اے کو وہ اختیارات نہ دئیے جن کی مدد سے وہ اس گھنائونے کاروبار میں ملوث لوگوں کا ناطقہ بند کر سکتی۔اللہ بھلا کرے چوہدری نثار کا جنہوں نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور چند ماہ قبل ایف آئی اے کو وہ اختیارات دے دیئے جو اس گھنائونے دھندے کی بیخ کنی کے لئے ضروری تھے اور جیسے ہی ایف آئی اے کو یہ اختیارات ملے تو شعبہ طب کی مٹی پلید کرنے والے ان کرداروں کی شامت آگئی اور پھر پاکستانیوں سمیت پوری دنیا کے لوگوں نے ٹی وی سکرینوں پر ان ہوس زادوں کو ہتھکڑیاں لگی دیکھیں۔ان کے جسمانی ریمانڈ ہوئے تو انہوں نے سارا کچا چٹھا اگلا اور جج صاحبان بھی ان کی کارگزاری سن کر حیرت واستجاب کی تصویر بن کر رہ گئے۔برسوں پہلے ہم نے جو تحقیق کی تھی اس کے مطابق یہ لوگ پچاس ساٹھ ہزار میں گردہ خرید کر بیس سے پچیس لاکھ میں فروخت کرتے اور یہ منافع چونکہ حلال ذرائع کے منافع سے کئی گنا زائد تھا اس لئے یہ لوگ اس مکروہ دھندے میں ایک دفعہ شامل ہو جاتے تو پھر کبھی نہ نکل پاتے۔تصور کیجئے کہ اگر دس سال پہلے ایک آپریشن میں یہ لوگ بیس سے بچیس لاکھ کما لیتے تھے تو آج ان کے منافع کا کیا عالم ہوگا؟بخدا جب میں ٹی وی سکرین پر انہیں ہتھکڑیاں لگی دیکھتا ہوں تو دل خوش ہو جاتا ہے اور اس رب کا شکر ادا کرتا ہوں جس کے گھر میں دیر ضرور ہے پر اندھیر نہیں۔ایک روز وہ ظالموں کی گردن ضرور پکڑتا ہے۔

اداریہ