Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

مسنون اعمال کی برکت سے جان ومال کی حفاظت کس طرح ہوتی ہے ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے حضرت ابو دردا معروف صحابی ہیں ، بڑے فضائل ومناقب کے حامل ہیں ، ایک مرتبہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے خبر دی کہ آپ کا گھر جل گیا ۔ آ پ نے کہا کہ نہیں جلا ، پھر دوسرا آدمی آیا اور کہا کہ اے ابودردا ! آگ بھڑک اٹھی تھی ، لیکن جب آپ کے گھر تک پہنچی تو بجھ گئی ، آپ نے فرمایا میں جانتا تھا کہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ میرا گھر جل جائے ۔ لوگوں نے کہا اے ابودردا ہمیں نہیں معلوم کہ آ پ کی کون سی بات زیادہ تعجب خیز ہے ؟ آپ کی یہ بات کہ گھر نہیں جلا ، یا یہ بات کہ اللہ ایسا نہیں کرے گا ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ میں نے اس لیے کہا تھا کہ میں رسول اکرم ۖ سے چند کلمات سنے تھے کہ جوان کو صبح میں پڑھتا ہے اس کو شام تک کوئی مصیبت نہیں پہنچتی اور جو شام میں پڑھتا ہے اس کو صبح تک کوئی مصیبت نہیں پہنچتی وہ یہ ہیں :
ترجمہ : '' اے اللہ ! آپ ہی میرے رب ہیں ، آ پ کے سوا کوئی معبود نہیں ، آپ ہی پر میں توکل کرتا ہوں اور آپ ہی عرش عظیم کے رب ہیں ، جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے وہ نہیں ہو سکتا ، میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو اپنے علم سے احاطہ کئے ہوئے ہیں ۔ اے اللہ ! میں میرے نفس کے شر سے اور ہر مخلوق جس کی پیشانی آپ کے قبضہ میں ہے اس کے شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ ''
غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پاکیزہ کلمات کی برکت سے کس طرح حضرت ابودردا کے مکان کی حفاظت فرمائی ، پہلے تو آگ بھڑک اٹھی اور پھیلتے ہوئے آگے تک چلی گئی حتیٰ کہ لوگ پریشان ہو کر حضرت ابو دردا کے مکان کے متعلق بھی خدشہ کرنے لگے اور ان کو ان کے مکان کے بارے میں خطرے سے آگاہ کیا ، مگر لوگوں نے یہ حیرت انگیز منظر اور قدر ت خداوندی کا کرشمہ دیکھا کہ وہ آگ جب حضرت ابودردا کے مکان تک پہنچی تو اچانک بجھ گئی ۔(حیات صحابہ)
حضرت عمر و بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان نے فرمایا چند کام ایسے ہیں ، جنہوں نے مجھے اس مقام پر پہنچا یا ہے ، اگروہ کام تم بھی کرلو تو تمہیں بھی یہی درجہ حاصل ہو جائے گا ۔ وہ کام یہ ہیں ۔ 1۔ اپنی نگاہ کو پست رکھنا ۔ 2۔ زبان کو روکے رکھنا ۔ 3۔ رزق حلال کھانا ۔ 4۔ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنا ۔ 5۔ سچی بات کرنا ۔ 6۔ عہد کو پورا کرنا ۔ 7۔ مہمان کا اکرام کرنا ۔ 8۔ پڑوسی کی حفاظت کرنا ۔ 9۔ فضول باتوں اور فضول کاموں کو چھوڑ دینا ۔ ایک شخص حضرت لقمان کو ( حقارت کی نظر سے ) دیکھ رہا تھا ، آپ نے اسے فرمایا ، اگر تم میرے ہونٹوں کو دیکھ رہے ہو کہ بڑے موٹے اور سخت ہیں تو کوئی بات نہیں، کیوں کہ ان سے کلام بڑا نرم و نازک نکلتا ہے اور اگر تم یہ دیکھ رہے ہو کہ میرا جسم سیاہ ہے تو بھی کوئی بات نہیں کیونکہ میرا دل روشن اور سفید ہے ۔

اداریہ