Daily Mashriq


ایمنسٹی سکیم کے بعد بلارورعایت کارروائی کی ضرورت

ایمنسٹی سکیم کے بعد بلارورعایت کارروائی کی ضرورت

اخباری اطلاعات کے مطابق ایف بی آر نے ملک میں ان 50ہزار چکمے باز ٹیکس چوروں کا سراغ لگایا ہے جو ہیرا پھیری کے ذریعے کھربوں روپے کا سالانہ ٹیکس ہڑپ کرتے رہے ہیں اور انہیں وارننگ دی ہے کہ حکومت کی متعارف کنندہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت اگر انہوں نے یکم جولائی تک چھپائے ہوئے اپنے اثاثے ظاہر نہ کئے تو وہ سنگین نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ اطلاعات کے مطابق ایف بی آر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پورے ملک میں جائیداد کی رجسٹریشن ادارے بشمول کراچی سے 25 ہزار کے قریب ٹیکس چور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے بی سی اے، آباد، ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن کراچی سے اپنے مقصد کا مواد جمع کرکے جس میں بڑے پیمانے پر اراضی ، بلند عمارتیں اور دیگر عمارتوں کے اعداد و شمار جمع کر چکی ہے ۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک کی تاریخ میں اٹھائے گئے اس اقدام پر عمل درآمد نہ ہو سکا تو پورے ملک کا ٹیکس نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ایف بی آر کے ایک ذرائع کے مطابق ملک میں ہزاروں عمارتیں تعمیر کرکے بیچ دی گئیں ، رہائشی اسکیمیں تعمیر ہوئیں اور فروخت کردی گئیں مگر ٹیکس چوروں نے ٹیکس ریٹرن میں ظاہر نہیں کیا،اگر ان عناصر نے ایمنسٹی سکیم کی رعایت سے فائدہ اٹھایا تو ایمنسٹی کے تحت 30جون تک ان کیخلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جائے گی مگر یکم جولائی کے بعد ان 50ہزار ٹیکس چوروں کیخلاف قانونی اقدامات اٹھانا مجبوری ہوگی۔ ان50 ہزار ٹیکس چوروں کے ایک طرف بینک ٹرانزیکشز کی موجودگی، دوسری طرف ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کئے گئے اعداد شمار میں تضاد ایف بی آر کے پاس ان کیخلاف کارروائی کیلئے بڑا ثبوت ہوگا۔ ایف بی آر کے ذرائع نے جس قسم کی کارروائی کا عندیہ دیا ہے اس پر کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار ہونے کی زیادہ گنجائش نہیں اور اس وقت تک اس عندئیے کو سنجیدگی کیساتھ نہیں لیا جا سکتا جب تک ایمنسٹی سکیم کی مدت گزرنے کے بعد عملی طور پر ٹیکس چوروں کیخلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ اگر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں ٹیکس چوری ایک طرف ٹیکس دینے اور ریٹرن جمع کرانے تک کاکوئی رواج نہیں جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کی بھی سخت قانونی تقاضوں کی پابند ی میں کاروبار کو جاری رکھنے کی مجبوری ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو صورتحال میں مزید ابتری ناممکن نہ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں بھی پی ڈی اے ، ڈی ایچ اے اور جائید اد کے عام لین دین کے سارے نظام کی ایک مرتبہ تفصیلی چھان بین کی جائے تو ٹیکس نہ دینے والے ہزاروں افراد کے نام سامنے آجائیں گے لیکن یہ ایک ایسی قومی ذمہ داری ہے جس کی توقع ہی کی جا سکتی ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی واقتصادی مشکلات کا شکار ملک میں قرضوں پہ قرض لینے کا آسان راستہ چننے کی روایت ہے، احتساب اورحساب کتاب کا نہیں۔ وطن عزیز میں بیانات دینے اور احتساب کرنے کا عندیہ تو قدم قدم پر ملتا ہے، ماضی میں بھی اس طرح کے دعوے ہوتے آرہے ہیں مگر اصل بات عملدرآمد کی ہے جس کا فقدان ہی نہیں سرے سے کوئی وجود ہی نہیںہے۔ اس ضمن میں ایف بی آر ہو یا احتساب کے دیگر ادارے یہاں تک کہ عدالتوں کا کردار بھی اس ضمن میںحوصلہ افزاء نہیں۔ پانامہ پیپرز کی کوکھ سے جنم لینے والے سارے ناموں کیخلاف ہی اگر اس طرح سے کارروائی ہوتی جس طر ح کی کارروائی ایک اعلیٰ سیاسی شخصیت کی ہورہی ہے تو اسے پاکستان میں سنجیدہ احتساب کی ابتداء قرار دے کر اطمینان کا اظہار کرنے کی گنجائش تھی گو کہ ان باقی ماندہ افراد کیخلاف بھی سپریم کورٹ سے رجوع ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود اس امر کی پوری توقع نہیں کہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی۔ جہاں تک ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا تعلق ہے اس کی ترغیبات بارے گوکہ مخالف آراء بھی موجود ہے لیکن اس کے باوجود اس سکیم کی مخالفت اسلئے نہیں کی جاسکتی ہے کہ یہ ہمارے ملک کا معمول رہا ہے کہ ہر چند سالوں میں بد عنوان اور ٹیکس چور عناصر کو ریلیف پیکج دے کر ان کو مواقع دیئے جاتے ہیں باوجود اس کے کہ اس کے نتائج کے مثبت ہونے کی شرح حوصلہ افزاء نہیں ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایف بی آر کے نظام میں تبدیلی اور اختیارات میں اضافہ سے اگر ٹیکسوں کی وصولی کانظام بہتر ہو سکتا ہے تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہئے۔ ملکی وقومی مفاد کا تقاضا اور اعلیٰ عدالتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے جو کردار ان کے حصے کا بنتا ہے اس کی ادائیگی میں سرگرمی کا مظاہرہ کرے۔ ایف بی آر کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی مدت کے خاتمے کے بعد نادہند گان ٹیکس چوروں اورناجائز دولت اکٹھی کرنے والوں کیخلاف کارروائی مشکل اور پیچیدہ ضرور ہے لیکن اگر عظیم تر قومی مفاد اورملکی معیشت کو سہارا دینا مطلوب ہے تو اس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں وگرنہ ایمنسٹی سکیم کا مقصد ہی فوت نہ ہوگا بلکہ اس کو مخصوص عناصر کی سہولت کاری گردانا جائے گا۔ قوم اس امر کی منتظر ہے کہ ایف بی آر حرکت میں آکر بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائے۔ نگران دو رحکومت میں چونکہ سیاسی و حکومتی دبائو نسبتاً کم ہوتا ہے اسلئے اس دورانئے کو غنیمت سمجھ کر بروئے کار لایا جائے۔ ایف بی آر کی کارروائی کیلئے موجود ہ حالات پہلے سے کہیں زیادہ اسلئے بھی موزوں ہیں کہ اب طاقتور عناصر کے احتساب کی ایک امید بیدار ہوئی ہے اس ماحول کا بھرپورفائدہ اُٹھا یا جانا چاہئے ۔

متعلقہ خبریں