Daily Mashriq


افتتاح کی اس قدر بھی جلدی کیا تھی؟

افتتاح کی اس قدر بھی جلدی کیا تھی؟

کرنل شیر خان انٹر چینج سے کاٹلنگ تک موٹروے کے افتتاح کا اعلان کر کے دوبیان صوابی تک کے موٹر وے کا افتتاح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ان کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں اس موٹروے کی تعمیر صوبائی وسائل کے بجائے موٹروے ہی کے ذریعے عوام سے رقم کی وصولی کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے باجود ہمیں اس امر کا ادراک ہے کہ سوات موٹروے واقعی صوبائی حکومت کا ایک اہم اور قابل ذکر منصوبہ ہے۔ اس بڑے منصوبے کی تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں نہ ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا اس کے باوجود اس کے افتتاح میں جس قدر عجلت اور خاص طور پر غلط بیانی سے کام لیا گیا اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ سوات موٹروے کافی الوقت کاٹلنگ اور چکدرہ تک حصہ زیر تعمیر ہے اور اس پر کام جاری ہے۔ کرنل شیر خان انٹر چینج سے دوبیاں صوابی چند کلو میٹر ہی ہوگی، دونوں صوابی کی حدود میں واقع ہیں اس کے باوجود اس کاڈرامائی افتتاح بلاوجہ اور قبل از وقت تھا۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے کے مصداق کل جو دعویٰ کیا جارہا تھا اس کا دم افتتاح پول کھل جانا عوام کے اعتماد میں کمی کا باعث بننا فطری امر تھا چونکہ یہ کوئی سیاسی بیان بھی نہ تھا کہ اس کی مختلف توجہیہ اور مدعا سمجھنے میں کم فہمی کے دخیل ہونے کا عذرلنگ تراشا جائے، حقیقت کھل چکی ہے کہ ابھی کاٹلنگ تک سوات موٹروے کی تعمیر جاری ہے اور دسمبر تک تکمیل متوقع ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس قسم کی حرکتوں کا ارتکاب نہ ہو، مناسب ہوگا کہ عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے پر معذرت کی جائے۔

کے پی کی پارلیمانی تاریخ کا ایک ناخوشگوارباب

ہمارے رپورٹر کے مطابقصوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں سپیکر کیخلاف جمع عدم اعتماد تحریک پر کارروائی کیلئے مدت پوری ہونے کے باوجودآئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کی گئیں۔ آئین کے مطابق اگر اسمبلی سیکرٹریٹ میں سپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی جاتی ہے تو ایک ہفتہ گزرنے پرتحریک عدم اعتمادپر آئین کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے اوراسے ایوان میں پیش کیا جاناہوتاہے مگر بجائے اس کے کہ یہ آئینی تقاضا پورا کیا جاتا اسمبلی کا اجلاس ہی تیسری مرتبہ ملتوی کردیا گیا ۔ اسمبلی کا اجلاس صرف اس آئینی تقاضے ہی کیلئے ضروری نہ تھا بلکہ رواں ماہ کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس تین مرتبہ طلب کیا گیا مگر ایوان میں اکثریت کھو جانے کے بعد حکومت بجٹ پیش نہ کرسکی اور نہ ہی ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا معاملہ طے ہو سکا مگر دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ میںگزشتہ دو ماہ کے دوران کئے جانیوالے اضافی اخراجات کو قانونی راستہ فراہم کرنے کیلئے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے خیبر پختونخوا اسمبلی کو روایات اور آئین دونوں کے مطابق چلانے میںناکامی تحریک انصاف کے آئینی و دستوری تقاضوں کی پاسداری کی سراسر نفی ہے۔ اس ضمن میں حزب اختلاف کاکردار بھی اسلئے احسن نہیں کہ انہوں نے آئینی تقاضوں پر مصلحت کی ردا ڈال دی ہے جو کوئی اچھی روایت نہیں۔ صوبے پر حکمرانی کا حق کھودینے اورسپیکر کا اعتماد کھودینے کے بعدا پنے عہدوں پر برقرار رہنے کاکوئی جوا ز نہ تھا۔ موجودہ حکومت اور سپیکر ایسی روایات چھوڑ کر جارہی ہیں جس سے کوشش کے باوجود بھی ان کا دامن چھڑانا تو مشکل ہوگا ہی صوبائی اسمبلی کی پارلیمانی تاریخ میں بھی ان کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جائیگا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصول پسندی کا قولی اظہار تو آسان کام ہے مگر عملی طور پر اصول پسندی دستور پر عملدر آمد اور پارلیمانی روایات پر کار بند ہونا مشکل کام ہے۔ ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کواچھی روایات قائم کرکے رخصت ہونے کی روایت ڈالنی چاہئے اور یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مفاد پرستی اور حب اقتدار کا مظاہرہ کرنے والوں کو بھی آخر کار رخصت ہونا ہی پڑتا ہے کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ دم رخصت ہی اصولوں کی پاسداری کی جائے ۔

طلبہ کے بارے میں احسن فیصلہ

خیبر پختونخوا کی پہلی سپورٹس پالیسی اعلامیہ کے مطابق صوبے کے تمام پرائمری سکولوں میںپڑھائی کیلئے مختص6میں سے ایک دن سپورٹس ڈے کے طور پر منانے اور سکولوں کی تعمیر کے وقت پی سی ون میں کھیل کا میدان لازمی شامل کرنے کی منصوبہ بندی پانچویں سے آٹھویں جماعت تک کے طلباء کیلئے سپورٹس سرٹیفکیٹ اور کالجز اور یونیورسٹیز میں سپورٹس سیکشنز اورڈیپارٹمنٹ آف سپورٹس سائنس کے قیام سے متعلق تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنانا احسن اقدام کے زمرے میں آتا ہے ۔ خاص طور پر تمام پرائمری سکولوں میں ایک دن کھیلوں کیلئے مختص کرنے اور کھیلوں کے میدانوں کی موجودگی یا پھر بندوبست کرنے سے طلبہ کو تفریح وورزش کے بہتر مواقع میسر آئیں گے جس سے بچوں کو صحت مند مشاغل کی طرف راغب کرنے میں آسانی ہوگی ۔

متعلقہ خبریں