Daily Mashriq


پہلے سو دن کا پروگرام، ایک ترپ کاپتہ

پہلے سو دن کا پروگرام، ایک ترپ کاپتہ

عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی روایت ہے کہ آئندہ انتخابی مدت کے لیے اپنے منشور کا اعلان کرتی ہیں۔ منشور میں وعدے کیے جاتے ہیں کہ پارٹی اگر حکومت میں آ گئی تو اتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کرے گی۔ اتنی ملازمتیں فراہم کرے گی ۔ سماجی شعبوں میں عوام کو کیا سہولتیں دی جائیں گی۔ گزشتہ کئی انتخابات میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنے منشور جاری کیے، اکثر یہ دیکھا گیا کہ جو وعدے ایک جماعت نے کیے ایسے ہی دوسری جماعت نے بھی کیے، یہ کوئی عجیب بات نہیں سمجھی جانی چاہیے کیونکہ وعدے عوامی مسائل کے حل کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں اور اگر عوام کے مسائل کا اندازہ ہی مختلف سیاسی پارٹیوں کا یکساں ہو گا تو وعدے بھی کم و بیش یکساں ہی ہوں گے۔ اکثر یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ایک پارٹی کے منشور پر دوسری پارٹی کا سرورق لگا دیا جائے تو دونوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔ ہر منشور میں بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، مثلاً کئی برس سے سبھی پارٹیاں ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کرتی چلی آئی ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف تو بجلی کی کمی کیخلاف احتجاج بھی کرتے رہے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ اگر اقتدار میں آنے کے چھ ماہ کے اندر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہ کی تو میرا نام بدل دینا۔ پھر مختلف تقاریر میں یہ مدت ایک سال ، ڈیڑھ سال اور دو سال تک بڑھائی گئی۔ جہاں تک خیبرپختونخوا کے تیز رفتار پانیوں سے بجلی بنانے کی بات ہے یہ منصوبہ پرویز مشرف کے دور میں ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے بھی بنایاتھا اس کی بہت تشہیر بھی ہوئی تھی پھر وعدے کرنیوالے بھی گئے اور منصوبے بھی وعدوں کی خبروں تک محدود رہ گئے۔ اب جب انتخابات بہت قریب آتے محسوس ہو رہے ہیں ، بڑی سیاسی پارٹیاں ملکی مسائل سے زیادہ اپنے شکمی مسائل کی طرف متوجہ نظرآتی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کبوتر اُڑ کر تحریک انصاف کی چھتری پر بیٹھتے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ تحریک انصاف سے پیپلز پارٹی میں جاتے نظر آتے ہیں اور تحریک انصاف میں آنے والوں کی تو بھیڑ لگ گئی ہے ۔یہ بھی تو ایک طرح سے مسئلہ ہی ہے۔ اب جب ہر کوئی تحریک انصاف کی طرف جائے گا تو کیا تحریک میں اتنی گنجائش بھی ہے؟ تحریک انصاف میں نئے آنے والوںکا خیر مقدم تو کیا جا رہا ہے لیکن نئے آنے والوں کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں کیوں کہ جو کوئی لیڈر بھی اپنی پارٹی چھوڑ کے آئے گا وہ انتخابات میں تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے آئے گا۔ اور پھر وہ بھی ہیں جو تحریک انصاف کیلئے پہلے سے کام کر رہے ہیں ۔ اسلئے آنے جانے والوں کی فکرمندی کے باعث لگتا ہے سیاسی پارٹیوں کے پاس منشور کی تیاری کا وقت نہیں بچا۔ ویسے بھی منشور مرتب کرتے وقت کم ازکم ملک کو درپیش مسائل کا محاکمہ تو کرنا پڑتا ہے اور یہ بڑا وسیع کام ہے ۔ مسائل کی حل کی ترجیحات طے کرنی پڑتی ہیں‘ یہ بھی آسان کام نہیں ہے ۔ اس وقت تین بڑی پارٹیوں ن لیگ ‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی جو سیاسی تکون نظرآتی ہے اس میں ہر ایک پارٹی دوسری دو پارٹیوں کو آپس میں یکساں قرار دے کر ناکام ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عوام کی مایوسیاں اور مصائب اتنے ہیں کہ سیاسی پارٹیوںکو ناکام کہنا نہایت آسان، کوئی تعمیری پروگرام دینا مشکل ہے۔

تحریک انصاف میں آنیوالوں کی تعداد کیوں کہ زیادہ ہے اسلئے عام تاثر یہ قائم ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کے حق میں آئندہ انتخابات کی ’’ہوا چل پڑی‘‘ ہے۔ اس لیے تحریک انصاف کے قائدین نے پارٹی کا منشور جاری کرنے کی بجائے ’’حکومت کے پہلے سو دن کا پروگرام جاری کیا ہے ‘‘ لاکھ یہ طعنہ دیا جاتا رہے کہ یہ اعتماد تحریک انصاف کو کہیں باہر سے ملا ہے لیکن اس پروگرام کے جاری کرنے سے بھی تو آنے والوں کی رغبت میں اضافہ ہوا ہے ۔ اب اگر دیگر سیاسی پارٹیاں پانچ سالہ منشور جاری بھی کریں گی تو وہ اس قدر دلچسپی کا باعث نہیں ہو ں گے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھی اپنے پروگرام دینے کی بجائے تحریک انصاف کے سو دن کے پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنانے کی سوچی سمجھی یا بے سوچی سمجھی حکمت عملی اپنائی ہے ۔ اس طرح تحریک انصاف کا پروگرام زیادہ دلچسپی کا موضوع بن گیا ہے ۔ تحریک انصاف میں جس نے بھی یہ راہ نکالی اس نے غضب کی چال تجویز کی ۔ ایک تو اس سے تحریک انصاف وہ پہلی پارٹی بن گئی ہے جس نے کوئی پروگرام دیا ہے ۔ دوسرے اس سے یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ تحریک انصاف والوں کا اعتماد بے بنیاد نہیں، اس طرح اس میں نئے آنے والوں کی ہمت افزائی ہوئی ہے۔ اس سے تحریک انصاف پیش قدمی کرنے والی اور دیگر پارٹیاں اعتراض کرنے والی پارٹیاں ہو کر رہ جائیں گی ،اگر انہوں نے جلدی اپنا رویہ تبدیل نہ کیا۔ یہ بحث کہ پہلے تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں پانچ سال حکومت کی کامیابیاں بیان کرے اس صورت میں وزن دار ہوتا اگر دوسری پارٹیوں کے زیر حکمرانی صوبوں میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ پروگرام ناقابل عمل ہے ، اس سے ایک طرف یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پروگرام کے اہداف بہت اونچے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ معترضین کے تو کوئی اہداف ہی نہیں ہیںیا ان میں اونچے اہداف کے بارے میں سوچنے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اس پروگرام کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ تحریک انصاف ایسی پارٹی ہے جس نے ٹھوس شکل میں اہداف عوام کے سامنے رکھ کے عوام کواپنے احتساب کیلئے بااختیار بنا دیا ہے ۔ اہداف حاصل ہوں گے یا نہیں ہوں گے یہ تو اس وقت دیکھا جائیگا جب انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت بن جائے گی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پیالی اور ہونٹوں کے درمیان بہت سے مراحل آتے ہیں لیکن تحریک انصاف نے سیاست میں حکومت کے پہلے سو دن کی روایت کا پتہ نہایت مہارت کیساتھ کھیلا ہے۔

متعلقہ خبریں