Daily Mashriq


تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

مشہور ادیب کنہیالال کپور نے ایک مضمون میں ایک بہت بڑے نابغہ ادیب اور عالمی شہرت کے حامل براڈکاسٹر (احمد شاہ) پطرس بخاری، جن کا تعلق پشاور کے ایک سادات خاندان سے تھا، لکھا ہے کہ جب انہیں آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ دیا گیا تو ریڈیو پر بھرتیوں کے حوالے سے بعض لوگ الزام تراشی کرنے لگے اور ان کا اعتراض یہ تھا کہ پطرس بخاری نے آل انڈیا ریڈیو میں پروگرام پروڈیوسروں کی اسامیوں پر زیادہ تر اپنے شاگردوں کو تعینات کر دیا ہے، پطرس چونکہ پہلے گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی زبان کے پروفیسر تھے ،گورنمنٹ آف انڈیا نے انہیں آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کیلئے موزوں قرار دے کر ان کی پوسٹنگ کی تھی اسلئے اصولی طور پر پروگرام اور دوسرے شعبوں میں بھرتی کا اختیار بھی انہیں حاصل تھا اور جب ان پر الزامات لگے تو انہوں نے کہا کہ میں کیا کروں اگر انٹرویو کے دوران جس کیلئے پورا بورڈ بیٹھتا ہے، صرف میرے ہی شاگرد ان مناصب کیلئے خود کو سب سے بہتر ثابت کر لیتے ہیں تو ان کی تقرری کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ یاد آنے کی وجہ ایک خبر بنی ہے جو 22مئی کے روزنامہ مشرق میں تین کالمی سرخی کیساتھ چھپی ہے اور سرخی یوں ہے کہ ’’شہری دفاع افسران اور اہلکاروں نے اسامیاں (یہ لفظ آسامی ہرگز نہیں ہے جو غلط العوام بن گئی ہے) آپس میں بانٹ لیں، رشتہ دار بھرتی‘‘۔ ذیلی سرخیاں یوں ہیں کہ ’’گریڈ ایک سے 16 تک 24 اسامیوں (پھر آسامی لکھا ہے) پر اپنے بھائیوں، بیٹوں، بیٹیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور کزنز کو بھرتی کرا لیا‘‘ جبکہ اس صورتحال پر قائمقام ڈائریکٹر وحید الحق کی جانب سے جو وضاحت سامنے آئی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ’’تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوئی ہیں، اس میں کسی قسم کی قواعد وضوابط کی خلاف ورزی نہیں ہوئی‘‘۔ اس وضاحت پر ایک اور حکایت یا مختصر سا واقعہ یاد آگیا، یعنی ایک بار اپنی ملازمہ سے جو آبنوسی رنگت کی مالک تھی اور شکل وصورت کی بھی ’’ماشاء اللہ‘‘ واقع ہوئی تھی اس کے مالک نے کہا کہ وہ کسی خوبصورت بچے کو تلاش کر کے لائے جسے انعام دیا جا سکے، اگلے روز ملازمہ نے اپنے کالے کلوٹے بھجنگ سے بدصورت بچے کو لاکر پیش کر دیا۔ مالک نے حیرت سے پوچھا یہ شہر کا سب سے خوبصورت بچہ ہے؟ ملازمہ کہنے لگی، واہ مالک میرے بیٹے سے بھی زیادہ خوبصورت بچہ کوئی ہو سکتا ہے؟ بچہ خوبصورت تھا یا نہیں مگر نظر انتخاب میں ماں کی ممتا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسلئے اگر قائمقام ڈائریکٹر نے میرٹ پر بھرتی میں کسی قسم کی اقرباء پروری اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی سے انکار کیا ہے تو اس پر اعتراض کہاں سے اُٹھ سکتا ہے کیونکہ جب بات میرٹ کی آجائے تو ’’ممتا کا جذبہ‘‘ سب سے اونچا اور مقدس ہو جاتا ہے۔ یعنی بقول فیض احمد فیض

محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے

رند کا، ساقی کا، مے کا، خم کا، میخانے کا نام

اُردو زبان کا ایک محاورہ ہے کہ من ترا ملا بگویم تو مرا حاجی بگو، سو ہوا یوں ہوگا کہ بھرتیوں کے وقت ان لوگوں نے آپس میں بیٹھ کر اپنے ہی عزیزوں رشتہ داروں کی صفات ایک دوسرے کے سامنے گنواتے ہوئے شاید فیصلہ کیا ہوگا کہ فلاں اسامی کیلئے آپ کے بیٹے یا بیٹی سے زیادہ موزوں تو کوئی ہے ہی نہیں، دوسرے نے تائید کرتے ہوئے پہلے کے عزیزوں کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے ہوں گے، یوں ایک ایک کرکے ’’میرٹ پر پورا اُترنے والوں‘‘ کی فہرست تیار ہوگئی ہوگی، تو ظاہر ہے کہ جو کلیہ پطرس بخاری نے دیا تھا اور ’’ماں کی ممتا‘‘ نے جس کا فیصلہ کرتے ہوئے قصہ ہی تمام کر دیا تھا تو ان ’’قواعد وضوابط‘‘ کی روشنی میں بھلا اور کون ہو سکتا ہے جو ان اُمیدواروں کے مقابلے میں آنے کی جرأت بھی کرسکتا ہو۔

ادھر نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی کیخلاف قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر خالی اسامیوں پر اپنے انتخابی حلقے بنوں کے لوگوں کی تقرریاں کرنے کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی کو مکمل جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔ تاہم جہاں تک اکرم خان درانی کا تعلق ہے ماشاء اللہ ایک زیرک سیاستدان اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، قانون دان بھی ہیں، اسلئے ان سے یہ توقع تو نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے بھرتیوں کے سلسلے میں قواعد وضوابط کا خیال نہیں رکھا ہوگا اور اگر ایسا ہی ہوا ہے جیسا کہ ان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے شہری دفاع کے ان افسران کرام سے ہی سبق سیکھا ہوگا۔ ایسا ہی ایک واقعہ کئی سال پہلے انور سیف اللہ کیساتھ بھی گزر چکا ہے جب وہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں وزیر تھے اور انہوں نے اسی طرح اپنے علاقے کے لوگوں کو مبینہ طور پر سوئی گیس کے محکمے میں بھرتی کیا تھا، عدالت میں پیشی کے موقع پر غالباً انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر اپنے حلقہ نیابت کے لوگوں کو ملازمتیں دینا جرم ہے تو وہ آئندہ بھی یہ جرم کرتے رہیں گے۔ بات ان کی درست بھی تھی کہ اگر کسی کے حلقہ نیابت کے لوگ میرٹ پر پورا اُترتے ہیں تو انہیں ملازمتیں دینے میں کیا امر مانع ہو سکتا ہے، تاہم صرف اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو ’’ماں کی ممتا‘‘ کے جذبے کے تحت بھرتی کیا جائے اس پر سوال ضرور اُٹھتا ہے۔ یعنی بقول بیخود دہلوی

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

متعلقہ خبریں