Daily Mashriq


ماہ صیام، فوڈ اتھارٹی اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں

ماہ صیام، فوڈ اتھارٹی اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں

رمضان المبارک کی ان پُرنور اور مبارک ساعتوں میں ہونا تو یہ چاہئے کہ اس ماہ مقدس میں ہم اپنی اصلاح پر توجہ دیں اور ان کاموں سے باز آجائے جو ہمارے معاشرے اور ہماری روزہ مرہ زندگی کا خاصہ بن چکے ہیں لیکن افسوس کہ ہم کو ماہ صیام کی بھی رعایت نہیں بلکہ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہم اور بگڑ گئے ہیں۔ اس ماہ مقدس میں جس کا مقصد ہی تزقیہ نفس اور صبر وتحمل کی صفات کی مشق ہے دیکھا جائے تو معاشرہ اُلٹا چلنے لگا ہے۔ رمضان المبارک میں لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، ملاوٹ ومہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ تندوروں پر روٹی کا وزن کم اور معیار خراب ہو جاتا ہے۔ نواب مارکیٹ حیات آباد فیز6 میں نانبائیوں کی طرف سے آٹا ٹھیک سے گوندھے بغیر نیم پکا کر اور پابندی کے باجود ڈبل روٹی دوگنے دام فروخت کرنے کی شکایت ملی ہے۔ دکان کے نصف حصے پر بنائے گئے ان تنوروں میں نظافت اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آٹا گوندھتے ہوئے پسینہ برابر شامل تو ہوتا ہی ہے، آٹے اور روٹی بنانے کے تختے پر گندے پیر رکھنے سے دیکھنے والوں کو کراہت ہوتی ہے۔ پشاور میں فوڈ اتھارٹی والے خاصے فعال ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ نواب مارکیٹ میں اس ماحول میں آٹا گوندھنے اور روٹی پکانے والوں کی طرزعمل اور شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کا بھی جائزہ لیں اور مناسب کارروائی کریں۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ ڈبل روٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے کا نوٹس لیں۔ ڈبل روٹی کی اگر ماہ صیام کے پیش نظر اجازت دی جائے تو کم ازکم اس کی پکائی تو معیاری ہونی چاہئے۔ یہ صرف نواب مارکیٹ حیات آباد فیز6 کے عوام اور صارفین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے میں اس قسم کی صورتحال ہوگی، انتظامیہ حرکت میں آئے گی، فوڈ اتھارٹی والے نوٹس لیں گے تبھی یہ لوگ سدھریں گے۔ جب ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں قسم کا ماحول ملے گا تو تندور والوں سے توقع نہیں کہ وہ خوف خدا کریں، وہ اگر خوف خدا کرنے والے ہوتے تو اس شکایت کی ضرورت نہ ہوتی۔ رمضان المبارک میں مہنگائی میں اضافہ کی کئی شکایات آئی ہیں۔ انتظامیہ کو ان پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ معمول کی کارروائیوں سے ہٹ کر کچھ سخت اقدامات کئے بغیر رمضان میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں مزید اضافہ کی روک تھام ممکن نہیں۔ ایک فکرانگیز پیغام یہ موصول ہوا ہے کہ انسان کی آنکھیں وہی لوگ کھولتے ہیں جن پر انسان آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتا ہے۔ واقعی انسان دھوکہ انہیں لوگوں سے کھاتا ہے جن پر وہ اعتبار کرتا ہے، لوگ اعتماد ہی میں دھوکہ دے جاتے ہیں انجان لوگوں سے تو بندہ محتاط رہتا ہے۔ ان کو پرکھے بغیر اعتماد کرنے پر تیار نہیں ہوتا، پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ پراعتماد لوگوں کا دھوکہ کئی قسم کا ہوتا ہے، وہ آپ کو عزت وعصمت کا دھوکہ دیتے ہیں۔ روپے پیسے کے لین دین کا غرض دھوکہ کے مختلف روپ ہوتے ہیں مگر سب سے تکلیف دہ دھوکہ عزت وآبرو کا ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کے معاملے پر کسی پر بھی اعتبار نہیں کرنا چاہئے، بداعتمادی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب پرائے اور رشتہ دار وقریب لوگ ہی نہیں اپنا خون بھی دھوکہ گری سے باز نہیں آتا۔ حال ہی میں پشتو کی ایک معروف کلوگارہ کی بچیوں کیساتھ جو ہوا وہ چشم کشا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ماموں کا رشتہ بھی اب قابل اعتبار نہیں رہا لیکن اس طرح کے واقعات سے اس طرح کا امکان ضرور سامنے آیا ہے۔ انسانی رشتے اعتماد ہی پر قائم ہیں سگے تو سگے یہاں منہ بولے اور مصنوعی رشتے بھی کمال کا تقدس ثابت کرتے ہیں۔ اگر انسانیت کا اعتبار ختم ہو جائے تو نااُمیدی اور خودکشی باقی رہ جاتی ہے مگر حالات اس طرح کے ہیں کہ احتیاط اور امکانات سے صرف نظر نہ کی جائے۔ اعتماد ضرور کریں مگر احتیاط کے ساتھ، نظر رکھئے آنکھیں بند کرکے اعتبار کا اب وقت نہیں رہا۔

عجیب اتفاق ہے اگلا میسج کھولا تو نشتر خان کا یہ پیغام سامنے آیا۔ جہاں خلوص اور احساس کے رشتے موجود ہوں وہاں پھول موسموں کے محتاج نہیں ہوتے۔

ایک طالب علم کا برقی پیغام ہے کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور بی ایس پروگرام کے اساتذہ عموماً پڑھانے نہیں آتے، کلاس میں طلبہ انتظار کرتے رہ جاتے ہیں مگر اساتذہ کو اس کا احساس نہیں۔ یہ پیغام ان اساتذہ کرام کے بارے میں ہے جن کو کچھ سمجھانے اور بتانے کی ضرورت نہیں۔ اگر یونیورسٹی میں بی ایس لیول کے طالب علموں کو پڑھانے والے اساتذہ کرام کا یہ عالم ہے تو گاؤں کے کسی پرائمری سکول کے اساتذہ سے کوئی کیا توقع رکھے۔ مجھے یاد ہے اس کالم میں ایک سکول ٹیچر کا پیغام شامل اشاعت ہوا تھا جس نے اس عزم اور اس وعدے کا اظہار کیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو وہ ایمانداری اور دیانتداری سے اپنے طالب علموں کو پڑھائے گا۔ میری دعا ہے کہ یہ جذبہ ہر اُستاد اور محنت سے پڑھائی کرنا ہر طالب علم کی عادت بن جائے۔ اساتذہ فرض کی ادائیگی پر توجہ دیں گے تو لقمہ حلال ہوگا۔

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے ایس ایم ایس پر اپنا نام اور علاقے کا نام ضرور تحریر کریں، اگر وہ اپنا نام شامل اشاعت نہ کرنا چاہے تو ان کی ہدایت پر عمل کیا جائیگا، رازداری ویسے بھی صحافتی اخلاقیات کا بنیادی جزو ہے۔ نام اسلئے ضروری ہے کہ ہفتہ وار ملنے والے سو سے ڈیڑھ سو برقی پیغامات یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے اور شامل کالم کرتے وقت تردد ہوتا ہے۔ آئندہ سے جس پیغام میں نام اور علاقے کا نام یا کم سے کم علاقے کا نام شامل نہ ہو اسے دوسری ترجیح پر رکھا جائیگا۔ اُمید ہے کہ قارئین کرام تعاون فرمائیں گے۔

متعلقہ خبریں