سبیکا شیخ اور سوال ہی سوال

سبیکا شیخ اور سوال ہی سوال

امریکہ میں تیزی سے پھیلتی ہوئی انتہا پسندی اور مقبول ہوتے ہوئے گن کلچر نے نو امریکیوں کیساتھ ایک پاکستانی بچی کی جان بھی لے لی۔ سترہ سالہ سبیکا شیخ گزشتہ سال اگست میں کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکہ گئی تھی اور وہاں ٹیکساس ہیوسٹن کے ایک سکول میں زیر تعلیم تھی۔ ایک طالب علم نے کلاس روم میں گھس کر دس افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا ۔ہلاک ہونے والوں میں حصول علم کی غرض سے جانے والی پاکستانی بچی بھی شامل تھی۔ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا مگر اسے اپنے فعل پر کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت نہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ زندہ بچ جانے والوں کو اسلئے چھوڑا گیا کہ وہ باقی لوگوں کو اس واقعے کی کہانیاں سناتے رہیں۔ ایک پاکستانی طالبہ جو ڈگری کا خواب لئے دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریہ گئی تھی تابوت میں بند ہو کر واپس لوٹی۔ اس بچی کے والدین کے خوابوں اور عذابوں کا حساب اور سوالوں کا جواب کون دے گا؟۔ بہت دلچسپ بات یہ کہ قاتل کو امریکی میڈیا نے عیسائی دہشتگرد اور عیسائی انتہا پسند قرار نہیں دیا۔ اگر یہ فعل کسی مسلمان لڑکے نے انجام دیا ہوتا تو اس وقت امریکی میڈیا مسلمان دہشتگرد اور مسلم انتہا پسند کی اصطلاح استعمال کرکے آسمان سر پر اُٹھا چکا ہوتا اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے مسلمان گھبراہٹ اور خوف سے سہم کر رہ گئے ہوتے۔ ان کی مثال کٹہرے میں کھڑے کسی مجرم سے کم نہ ہوتی جس پر میڈیا یکطرفہ جرح کر رہا ہوتا اور وہ گردن جھکائے اپنے ناکردہ جرائم اور گناہوں کو خاموشی سے قبول کرنے پر مجبور ہوتا۔ دنیا میں جاری دہشتگردی کی وارداتوں اور انتہا پسندی کی لہروں کیساتھ یہ متضاد سلوک اور روئیے ازخود بہت سی قباحتوں اور منفی سوچوں کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ کہ امریکہ اس وقت بزعمِ خود دنیا کو پرامن اور دہشتگردی سے پاک بنانے کا مناد ومبلغ اور علمبردار بن کر سامنے آرہا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی امریکہ کو دہشتگردوں کا شائبہ اور دہشتگردی کے اسباب کا اندازہ ہو جائے وہ اپنا پاندان لئے اس کے خاتمے کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کیلئے کبھی اقوام متحدہ کی رسمی منظوری کا تکلف فرماتا ہے اور کبھی اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ امریکی ایما پر اقوام متحدہ اور امریکی ڈونر ادارے ملکوں کے نصاب تعلیم کا ایکسرے کرتے ہیں کہ مبادا اس نصاب میں دہشتگردی اور انتہا پسندی پیدا کرنے والے جراثیم اسباب وعوامل موجود نہ ہوں۔ اگر کسی ملک کے نصاب تعلیم میں اس طرح کے مضر اثرات پائے جاتے ہوں تو حیلوں بہانوں سے نصاب کی کتابوں سے یہ متنازعہ سطور کھرچ لی جاتی ہیں۔ ان کاوشوں کا مقصد دنیا کو آزاد خیال، لبرل، متوازن اور برداشت کا حامل بنانا بتایا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ دنیا میں بہت سی جگہوں پر اس مہم کا مثبت اثر پڑا ہو اور وہ معاشرہ انتہا پسندی کی راہوں پر لڑھکنے کی بجائے امن اور برداشت کے راستوں پر لوٹ آیا ہو۔ خود امریکہ کا حال کچھ اچھا نہیں جہاں عدم برداشت معاشرے کی رگوں میں دوڑنے والے خون کیساتھ شامل ہوتا جا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکی میڈیا نے جو اسلامو فوبیا پیدا کیا ہے اس بیج کی فصل پر اب ذہنوں میں لہلہانے لگی ہے۔ آئے روز مسلمانوں پر ہونے والے نسل پرستانہ حملے اسی فصل کا ثبوت ہیں۔ دنیا کو امن اور برداشت دینے والے امریکہ میں گن کلچر تیزی سے فروغ پزیر ہے اور نوخیز جوانیاں اور ذہن تیزی سے اس کلچر کی زد میں آرہے ہیں۔ اس جنونیت کا شکار اکثر طالب علم اور اس کی منزل تعلیمی ادارے بنتے ہیں۔ اسی لئے وقفے وقفے سے کسی تعلیمی ادارے یا پبلک مقام پر کوئی مقامی جنونی انسانوں کا خون بہاتا ہے اور چند دن امریکی میڈیا سوگ مناتا ہے اور اس کے بعد ایک اور سانحے کا انتظار رہنے لگتا ہے۔ ہیوسٹن کے واقعے کو الٹا دیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ واقعہ پاکستان میں کسی امریکی کیساتھ رونما ہوچکا ہوتا تو امریکی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مرکز ثابت کرنے اور مسلمان دہشتگرد کی اصطلاح استعمال کرکے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنامی کا اشتہار بنا کر رکھ چھوڑا ہوتا۔ ان واقعات میں امریکہ کیلئے سبق پوشیدہ ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کو کسی ملک اور مذہب کیساتھ جوڑنے کی بجائے اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ انتہا پسندی آج کی دنیا کا عمومی چلن ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ بالی ووڈ میں بیٹھا کوئی ’’چارلی ولسن‘‘ کسی اسلحہ ساز کمپنی کے ماڈل کے طور پر کام تو نہیں کر رہا؟۔ چارلی ولسن وہی کردار ہے جو چترالی ٹوپی اور واسکٹ پہن کر اور گھوڑے کی باگیں تھامے مغرب میں افغان جہاد کو امریکی مفادات کے تحت گلیمرائز کرتا تھا۔ امریکہ کو پاکستانی مدرسوں میں تانک جھانک کرنے، افغانستان کے گھروں میں سن گن لینے اور ایران کی ڈیوڑھی پر دوربینیں نصب کرکے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے اسباب تلاش کرنے کی بجائے اپنے گھر کی بھی کچھ خبر لینی چاہئے۔ دنیا کو دہشتگردی اور انتہا پسندی سے پاک کرتے کرتے کہیں امریکہ خود انہی لہروں کی زد میں تو نہیں آرہا؟۔ دور دیسوں کی آگ بجھاتے بجھاتے وہ اپنے دامن میں ایسی ہی چنگاریوں کو سمیٹے ہوئی تو نہیں؟۔ کہیں اس کی صفوں میں پھر کوئی چارلی ولسن تو موجود نہیں؟۔ جس گن کلچر نے امریکیوں کی زد اجیرن کر دی ہے اس کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں اُٹھائے جاتے؟۔ گن کلچر میں ایک پاکستانی بچی کی جان چلی گئی اور کوئی پوچھے یا نہ پوچھے ہمیں تو قدرت نے یہ سوال پوچھنے کا موقع دے دیا ہے۔

اداریہ