Daily Mashriq

نشوا کے والدین، ہسپتال انتظامیہ کے درمیان مقدمہ واپس لینے کا معاہدہ طے

نشوا کے والدین، ہسپتال انتظامیہ کے درمیان مقدمہ واپس لینے کا معاہدہ طے

کراچی: غلط انجکشن لگنے کے باعث جاں بحق کم سن نشوا کے والدین نے دارالصحت ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ 3 نکاتی معاہدے کے بعد ہسپتال کے خلاف مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔تحریری مصالحت نامے پر 18 مئی کو نشوا کے والدین قیصر علی اور شمائلہ قیصر اور دارالصحت ہسپتال کے چیئرمین امیر ولی الدین چشتی اور وائس چیئرمین سید علی فرحان نے دستخط کیے۔

معاہدے کی رو سے نشوا کے والد دارالصحت ہسپتال کے خلاف دائر مقدمہ واپس لیں گے اور کسی بھی قسم کے ہرجانے کے دعویدار اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک فریق دوم (دارالصحت ہسپتال کے چیئرمین اور وائس چیئرمین) معاہدے کی دیگر شقوں کی پابندی کریں گے۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ معاہدے کی دیگر شقوں میں شامل ہے کہ دارالصحت ہسپتال میں نشوا کے نام پر بچوں کا انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) قائم کیا جائے گا، جس میں مستحق اور ضرورت مند والدین کے بچوں کا مفت علاج ہوگا۔

معاہدے کے مطابق ہسپتال حکام ’نشوا فنڈ‘ میں سالانہ 50 لاکھ روپے ضرورت مند والدین کے بچوں کے علاج کے لیے مختص کریں گے۔

معاہدے کی رو سے دارالصحت ہسپتال ’نشوا اسکالرشپ‘ کے تحت ہر سال ایک میڈیکل طلبہ و طالبات کے لیے فل اسکالرشپ فراہم کرنے کا پابند ہوگا اور نشوا کے والدین میرٹ پر آنے والے طالبعلم کا انتخاب کریں گے۔

علاوہ ازیں معاہدے میں کہا گیا کہ ہسپتال، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرے گا اور ’متعلقہ حکام کی ہدایت کے مطابق ضروری اقدامات اٹھائے گا‘۔

اس ضمن میں واضح کیا گیا کہ متاثرہ خاندان شاہ فیصل پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کی پیروی نہیں کرے گا۔

معاہدے میں مزید وضاحت کی گئی کہ ’اگر پولیس کی تحقیقات ہسپتال کی نرس ثوبیہ اور نرسنگ اسسٹنٹ معیز کے خلاف مقدمے کا باعث بنی تو نشوا کے اہلخانہ اس سے دستبردار ہو جائیں گے‘۔

تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ متاثرہ خاندان نے پولیس کو تحقیقات روکنے کی باقاعدہ درخواست دی یا نہیں۔

معاہدے سے متعلق بتایا گیا کہ ’مصالحتی معاہدے میں کہا گیا کہ اگر ہسپتال نے معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کی تو نشوا کے والدین دوبارہ کیس کھلوانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں‘۔

بعد ازاں نشوا کے والد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’واقعے سے معلوم ہوا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کام نہیں کرتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال حکام کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ کیس چلائیں گے۔

خیال رہے کہ نشوا کو پیٹ میں تکلیف کے باعث 7 اپریل کو کراچی کے دارالصحت ہسپتال لایا گیا تھا۔

15 مئی کو نشوا ہلاکت کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیئے گئے تین رکنی میڈیکل بورڈ نے اپنی فرانزک رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ پوٹاشیم کلورائیڈ کا انجکشن نبض میں لگانے کی وجہ سے نشوا کے مختلف اعضا ناکارہ ہوئے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جسم کے مختلف اعضا ناکارہ ہونے کے باعث بچی کو دل کا دورہ پڑا۔

جس کے بعد نشوا کو تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر دی گئی اور پھر وینٹی لیٹر پر رکھ دیا گیا، جہاں وہ 2 ہفتے بعد انتقال کر گئی۔

واقعے کے بعد ہسپتال سیل کردیا گیا اور ہسپتال کے مالک عامر چشتی اور وائس چیئرمین سید علی فرحان کو انتظامیہ اور طبی عملے کے 6 مفرور اور 4 زیر حراست ملزمان کے ہمراہ نامزد کیا گیا۔

ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 322، 337 اور 34 کے تحت بچی کے والد قیصر علی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں