Daily Mashriq


کیا فرشتہ کو انصاف ملے گا؟

کیا فرشتہ کو انصاف ملے گا؟

اسلام آباد میں10سالہ قبائلی بچی فرشتہ کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا جبکہ ملزمان اس کی لاش قریبی جنگل میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے، خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی فرشتہ کی گمشدگی کی درخواست تھانہ چک شہزاد میں15 مئی کو جمع کروائی گئی تھی تاہم پولیس نے اس کی گمشدگی سے متعلق ایف آئی آر درج کرنے میں بھی تاخیر کی۔ بعد میں بھرپور احتجاج کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی لیکن اس دوران تھانہ چک شہزاد کی حدود سے لڑکی کی لاش بھی برآمد ہوگئی۔ اسلام آباد میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی مہمند کی رہائشی10سالہ فرشتہ کو انصاف دلانے کیلئے سوشل میڈیا پر صارفین چیخ اُٹھے، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور حکومتی ادارے حرکت میں آگئے اور ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن پولیس سٹیشن کو معطل کر دیا گیا۔ شہر اقتدار اسلام آباد میں حوا کی دس سالہ بیٹی کا زیادتی کے بعد قتل کا واقعہ وزیراعظم ہاؤس اور وزیرداخلہ کے دفتر سے زیادہ دور نہیں ہوا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو مثالی بنانے کے بعد اسلام آباد پولیس کو مثالی بنانے کی کتنی سعی کی گئی اس حوالے سے حکام کا کوئی دعویٰ ریکارڈ پر نہیں لیکن یہ بات ضرور ریکارڈ پر آچکا ہے کہ متاثرہ خاندان کی ایف آئی آر پانچ دن تک درج نہ ہوئی۔ حکومت نے بھی اس کا بروقت نوٹس نہ لیا، جب لاش سڑک پر رکھ کر لوگوں نے احتجاج شروع کیا اور ''انصاف فرشتہ کیلئے'' سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تب حکام کو بھی احساس ہوا۔ دو مبینہ افراد گرفتار بھی ہوئے، ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن معطل بھی ہوا اور واقعے کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیکر تحقیقات کیلئے کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔ اس قسم کا واقعہ پہلی مرتبہ ہوتا تو صورتحال سے عدم آگہی اور معاملے کی حساسیت کا علم نہ ہونے کا عذرلنگ پیش ہوتا تو کوئی بات تھی۔ اب خدا نخواستہ کوئی بچہ بچی گم جائے، سب سے پہلے دل کو دھچکا اس قسم کے واقعات کے عام ہونے لگتا ہے۔ اب بچوں کی گمشدگی کے واقعات کھیلتے کھیلتے کسی جگہ سو جانے، کسی کے گھر چلے جانے یا غافل ہو کر کسی طرف نکل جانے سے بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اب نہ ماں باپ اپنے بچوں سے اس قدر غفلت کے مرتکب ہوسکتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ اتنا صاف ستھرا رہ گیا ہے کہ غفلت کی گنجائش رہتی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں جب ہر بچہ اپنا بچہ ہی سمجھا جاتا تھا، لڑکیاں سب کی سانجھی ہوا کرتی تھیں، پہلے تو بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ماں باپ کیساتھ ساتھ معاشرہ اور خاص طور پر علاقے کے بزرگ نبھاتے تھے، اب صورت بزرگ بھیڑئیے اور درندے پھرتے ہیں، اب کسی نیک ومہربان اور واقعی میں بزرگ شخص پر بھی چاہتے ہوئے بھی اعتماد ممکن نہیں کہ تجربات سے باربار ثابت ہے کہ اس قسم کے واقعات میں اب سفید ریش کیا، نمازی وپرہیزگار کیا، ملا ومتقی کیا، کسی کا اعتبار نہیں رہا۔ اب کسی بچی کو اپنے دادا کی عمر کے شخص سے شفقت، اپنے والد کی عمر کے شخص سے محبت اور اپنے بھائی کی عمر کے نوجوان سے حفاظت کی امید نہیں بلکہ سبھی سے یکساں طور پر ڈر اور خوف لگا رہنے کا ماحول اور معاشرہ بن گیا ہے۔ دنیا میں اعتماد اور اعتبار ہمت کا باعث امر ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اب یہ دونوں اقدار باقی نہیں رہیں جو کچھ ہم آج معاشرے میں دیکھ رہے ہیں یہ کسی دوسری دنیا سے نہیں آئے، یہ ہمارے ہی ہم وطن اور ہم قبیلہ ہیں جن سے نہ تو آدم زاد محفوظ ہے اور نہ حوا زادیاں، مملکت، ریاست اور حکومت ان کی روک تھام میں ناکام اس لئے ہے کہ یہاں تو انصاف کے حصول کیلئے سوشل میڈیا پر جب حکومت کو لوگ مطعون کرنے لگیں، سڑکوں پر دھرنا اور احتجاج ہو، مسلی ہوئی معصوم کلیوں کا جنازہ جب بیچ چوراہے رکھ کر لوگ احتجاج کرنے لگتے ہیں تب وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو ہوش آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس سطح کی کارروائی ان کی ذمہ داری نہیں، ان کی ذمہ داری یہ تو ہے کہ عمال سرکار کوتوال شہر، تھانیدار ہوشیار بیدار اور ہر دم تیار ہوں مگر خواہ یہ حکومت ہو یا گزشتہ حکومتیں تھانیدار کی غفلت کا نوٹس وزیراعظم، وزیرداخلہ اور وزیراعلیٰ نہ لیں تو وہ حرکت ہی نہیں کرتا، پنجاب کی زینب مظلوم تھی یا مہمند کی فرشتہ پر ظلم وتعدی ہوئی یا جہاں جہاں بھی کمسن بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات ہوئے افسوسناک حد تک ابتدائی کارروائی سے گریز ہی کا تجربہ سامنے آتا ہے۔ شہزاد ٹاؤن کا تھانیدار بھی اسی کا مرتکب ٹھہرایا جائے تو کیا ہوگا، ہوتا کچھ نہیں جھوٹی تسلیاں، دکھاوے کی تحقیقات اور معاملہ ٹھنڈا ہونے پر پھر عہدے پر بحالی اور پھر وہی غفلت۔ پنجاب کی زینب پر ظلم ہوا تو آج کی حکومت کے مقتدرین نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا تو امید ہو چلی تھی کہ ان کی حکومت آئے گی تو اس قسم کے واقعات کی روک تھام کرنے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ کسی تھانیدار اور کوتوال شہر کی جرأت نہیں ہوگی کہ وہ مظلوم خاندان کی فریاد سن کر دادرسی میں تاخیر کرے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، موجودہ حکومت سے عوام کو سہولیات کی عدم فراہمی اور مہنگائی وغیرہ جیسے مسائل سے چھٹکارا دلانے میں ناکامی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے لیکن فرشتہ کو مسلنے پر غفلت کا ارتکاب کرنے والوں سے روایتی طرزعمل کا ارتکاب ناقابل برداشت ہے جس کی عوام کو ہرگز توقع نہ تھی۔ ہم جذباتی طور پر اس واقعے پر سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ تو نہیں کریں گے لیکن فرشتہ کے خاندان کو انصاف دینے میں حکومت سے غیرروایتی انداز کی توقع ضرور رکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ ریاست وحکومت یہ ثابت کرے کہ اس قسم کے عناصرکتنا بھی بااثر اور قابل وکیل کرلیں سزا سے بچ نہیں سکتے تو پھر کم ازکم جنونیوں کو خوف تو ہوگا کہ ان کے جنون کا انجام کیا ہوگا۔ پنجاب میں سرعام سڑک پر پورے خاندان کو گولیوں سے بھوننے والے وردی پوشوںکا فعل شنیع تو کوئی پوشیدہ امر نہیں، ویڈیو میں صاف اور واضح طور پر ظلم نظر آتا تھا بچوں نے بھی گواہی دی مگر انصاف نہ ہوا اور انصاف نہ دیا گیا جس معاشرے میں حاکم انصاف نہ کر سکے اس معاشرے کی کوئی زینب، کوئی خاندان اور کوئی فرشتہ محفوظ نہ ہوگا۔ اب بھی روایتی انداز ہی اپنا یا جائیگا اور ایک اور معصوم کا خون رائیگاں جائے گا ایک مظلوم خاندان زندگی بھر دکھ اٹھا کر مسنون مٹی تلے جا سوئے گا۔ کیا وزیراعظم اور چیف جسٹس اس واقعے کے ذمہ داروں اور غفلت کے مرتکب پولیس اہلکاروں کو عبرتناک سزا دے کر مثال قائم کریں گے؟امید تو نہیں۔

متعلقہ خبریں