Daily Mashriq

بلاضرورت ڈالر کی عدم خریداری،قومی فریضہ

بلاضرورت ڈالر کی عدم خریداری،قومی فریضہ

دریں اثنا خیبر پختونخوا حکومت سوشل میڈیا پر شروع ڈالر بائیکاٹ مہم کا حصہ بن گئی ہے۔ ڈالر بائیکاٹ مہم میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی بھی شامل ہوگئے ہیں جنہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈالر بائیکاٹ کی مہم میں اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بائیکاٹ کا مقصد ڈالرائزیشن سے پاکستانی کرنسی اور ملکی معیشت کو تباہ کن اثرات سے بچانا ہے، پاکستانی ڈالر خریدنے اور اسے جمع کرنے سے اجتناب کریں، مفتی تقی عثمانی کا یہ بیان قابل صد توجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں نفع کمانے کیلئے ڈالر خریدنا ملک کیساتھ بے وفائی اور ذخیرہ اندوزی کی بنا پر گناہ ہے۔ ان کا فتویٰ ہے کہ قیمت بڑھنے پر بیچنے کی نیت سے ڈالر خریدنا ذخیرہ اندوزی ہے جو کہ شرعاً گناہ ہے جس پر روایت میں لعنت آئی ہے۔ صرف ممتاز عالم دین اور سپیکر کے پی اسمبلی ہی نہیں یہ پوری قوم کی آواز ہے لیکن اس کے باوجود بعض عاقبت نااندیش قسم کے عناصر ڈالروں کی خریداری اور ڈالر مارکیٹ سے غائب کرنے کے عمل میں شریک ہیں۔ اس میںسیاسی عناصر کی سیاسی وجوہات کی بناء پر شمولیت خارج ازامکان نہیں۔ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں جب نیکیوں کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے ایسے میںنیکیاں کرنے کی بجائے اگر کوئی ارتکاب گناہ کرے تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے۔ وطن عزیز کے ہر باسی خواہ اس کا تعلق جس دین ومذہب سے ہو یہ اس پر اس مٹی کا قرض ہے کہ وہ اس کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ جاری وقت میں پاکستان جس معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ خواہ کوئی حکومت کا حامی ہو یا سخت مخالف اس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کو معاشی طور پر بہتر کرنے کیلئے جو بھی ممکن ہو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ایسا نہ کرسکیں تو کم ازکم ملکی معیشت کے مفادات کے منافی اقدام سے گریز تو کیا جا سکتا ہے۔ بلاضرورت ڈالر کی خریداری نہ کر کے اور اپنے پاس موجود ڈالر مارکیٹ میں فروخت کر کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنا ناممکن نہیں۔ پاکستانیوں نے ہر مشکل وقت میں قومی جذبات کا عملی مظاہرہ کر کے ملک کے تحفظ کی ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اب ڈالر کے حوالے سے بھی قومی ذمہ داری کا مظاہرہ وقت کی ضرورت ہے۔

شجرکاری بارے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات

آلودگی میں کمی لانے کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت اہم ہے۔ عدالت نے ہر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر تعمیر کرنے والے شہریوں کیلئے دو درخت لگانا لازمی قرار دینے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے محکمہ ماحولیات کو ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے فیکٹری مالکان کیخلاف کارروائی کا بھی حکم دیدیا۔ فاضل جج نے حکم دیا ہے کہ درخت نہ لگانے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نقشے پاس نہ کئے جائیں۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ایک اہم مسئلے پر احکامات کی تعمیل ہر شہری کا اخلاقی اور قانونی فرض ہے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلین ٹری سونامی کے پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ پودے لگانا خود حکومت کی اولین ترجیح بھی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی جہاں پیروی کی ضرورت ہے وہاں اگر اس حکم کے پورے ملک میں نفاذ کیلئے اگر قانون سازی کی جائے جج کی سفارشات اور احکامات کی روشنی میں قانون سازی کر کے پورے ملک میں رائج کیا جائے تو حق ادا ہوگا۔ آلودگی کی روک تھام ہر شہر ی کی ذمہ داری ہے اس ضمن میں ترغیب دلانے اور شعور وآگہی پیدا کرنے کی بھرپور قومی مہم بھی شروع ہونی چاہئے تاکہ موسم برسات میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں۔

متعلقہ خبریں