Daily Mashriq


سیاستدانوں اور ان کے محبان سے مؤدبانہ درخواست

سیاستدانوں اور ان کے محبان سے مؤدبانہ درخواست

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جو اَت سیاسی مسافروں نے اُٹھائی وہ بھلائے نہیں بھولتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ سیاسی مسافر جس بھی جماعت میں جاتے ہیں فوری طور پر مرکزی راہنما کے درجہ پر فائز ہو جاتے ہیں۔ فقیر راحموں انہیں سیاسی خانہ بدوش کہتے ہیں مگر اس طالب علم کو اتفاق نہیں۔ خانہ بدوشوں کے اصول ان سیاسی مہاجرین سے سخت ہوتے ہیں وہ اپنی جاتی اور قبیلہ چھوڑنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ بجا ہے کہ اس ملک میں نظریاتی سیاست بھی ہوئی سقوط مشرقی پاکستان سے قبل اور پھر بعد کے برسوں میں بھی ہم 16اکتوبر 1971ء کے بعد کے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ چند مثالیں اس سے پچھلے برسوں کی بھی ہیں، مثال کے طور پر مخدوم صادق حسین قریشی نے 1970ء کی انتخابی مہم کے دوران ملتان کے نواح میں واقعہ قصبہ قادر پوراں میں ذوالفقار علی بھٹو پر حملہ کروایا تھا پھر ایک دن وہ پیپلز پارٹی کے ہی طفیل پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم کو بھٹو صاحب نے اولین سینیٹ کا ڈپٹی چیئرمین بنوایا تھا، وہ جنرل ضیاء کے دست حق پرست پر بیعت کرکے پنجاب کے گورنر بن گئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین کی حیثیت سے جنرل ضیاء کے ریفرنڈم کیلئے بھرپور مہم چلائی پھر ایک دن وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اس ملک کے وزیراعظم ہوئے۔ جناب نواز شریف عملی سیاست میں اصغر خان کی تحریک استقلال کے راستے داخل ہوئے۔ مولانا کوثر نیازی جماعت اسلامی سے رخصت ہوکر ترقی پسند ہوئے۔ اس وقت کی تحریک انصاف میں آدھے سے زیادہ لوگ ق اور ن لیگ یا پیپلز پارٹی سے آئے ہیں۔ جناب زرداری کے والد حاکم علی زرداری مرحوم پیپلز پارٹی چھوڑ کر این ڈی پی میں گئے۔ بیٹے کی محترمہ بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد پیپلز پارٹی میں لوٹے، خود جناب بھٹو کبھی کنونشن لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ ہمارے سابق شیر پنجاب غلام مصطفی کھر بارہ شادیاں اور تیرہ جماعتیں دیکھ چکے۔ ایک مرحوم دوست شیخ ظہور احمد جس جماعت میں بھی جاتے پنجاب کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری بنائے جاتے۔ اخبارات میں اشتہارات بہت دیتے تھے ہم سے دوستوں نے ان کا نام شیخ اشتہارات احمد رکھ دیا۔ سرائیکی وسیب کے پڑھے لکھے اور نفیس سیاستدان سید فخر امام نے مسلم لیگ وپیپلز پارٹی کے گھاٹ کئی بار بدلے، کبھی آزاد سیاستدان کہلائے۔ ان دنوں تحریک انصاف میں ہیں' تحریک انصاف میں کچھ سابق جماعتئے بھی ہیں جیسے میاں محمود الرشید' صدر مملکت عارف علوی' جنرل مشرف کی جرنیلی جمہوریت آدھی سے زیادہ نون لیگ کھا گئی۔ پیپلز پارٹی کے دھانسو قسم کے سیاستدان راؤ سکندر اقبال (مرحوم) سید فیصل صالح حیات' ڈاکٹر شیر افگن وغیرہ محب وطن ہوئے۔ آفتاب شیرپاؤ ان دنوں اپنی جماعت چلاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بدلنے والے ہمارے یہ لیڈران کرام پچھلی جماعتوں پر تنقید کرتے وقت رتی برابر بھی نہیں شرماتے۔ ہمارے ایک پشاوری دوست ارباب خضر حیات پارٹیاں بدلنے میں خیبر پختونخوا کے مصطفی کھر کہلاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بدلنے والے ان خواتین وحضرات کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔کیا ہی اچھا ہو کہ کسی دن سیاسی جماعتوں کے درمیان اس امر پر اتفاق ہو جائے کہ ہوا کا رخ دیکھ کر پارٹی بدلنے والے کو پانچ سال تک پارٹی امیدوار نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن یہ ہوگا اس لئے نہیں کہ دستیاب سیاسی جماعتوں کے ملکیتی حقوق اشرافیہ کے پاس ہیں۔ نفرت کی یہ سیاست بھٹو دور سے شروع ہوئی جماعت اسلامی اس کی بانی ہے مگر اسے چار چاند مسلم لیگ نواز نے لگائے اور اب تو تحریک انصاف نے اسے جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے۔ آپ بغور دیکھ لیجئے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے ٹوٹے ہوئے انصافیوں میں شدت پسندی زیادہ دکھائی دے گی۔ سوشل میڈیا پر زندہ ثبوت ہر پل موجود ہوتے ہیں۔ میرے چند بھانجے بھتیجے اور عزیز ان دنوں تبدیلی لشکر کا حصہ ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی جماعت پیپلز پارٹی کیلئے جو کہتے لکھتے ہیں اس پر اکثر شرمندہ ہوتا ہوں۔ ہم نے یہ المیہ بھی دیکھا کہ چودھری قمر زمان کائرہ کے صاحبزادے کی حادثاتی موت کا اس نسل نے ٹھٹھ اُڑایا۔ لوگ کہتے ہیں سوشل میڈیا بے لگام ہے' جی نہیں سوشل میڈیا چلانے والے بے لگام ہیں ورنہ یہ میڈیم تو فروغ علم اور عصری جانکاری کاذریعہ ہے۔

اکثر اس بات پر پریشان ہوتا ہوں کہ ہمارے سماج کے نچلے طبقے سیاسی اختلاف کو نفرت اور دشمنی میں کیسے بدل لیتے ہیں۔ کیا انہیں دکھائی نہیں دیتا کہ جن لیڈروں کی خاطر وہ رشتوں کو روندتے' دین کو خراب کرتے اور نفرتوں کو بڑھاوا دیتے ہیں وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ ضرورت کے وقت خاموشی سے پارٹی بدل لیتے ہیں۔ 45برسوں سے صحافتی عمل سے منسلک ہوں مجھے نہیں یاد کہ کبھی کسی لیڈر نے جماعت بدلنے یا پارٹی نے نئے اتحاد میں جانے کیلئے کارکنوں اور ہمدردوں سے مشاورت کی ہو۔ پچھلے 35 برسوں سے کالم و اداریہ نویسی کرتے اس طالب علم نے ہمیشہ یہ عرض کیا کہ معاشرہ دکھ سکھ کی سانجھ پر پھلتا پھولتا ہے۔ ہماری دیواریں مشترکہ شہر قصبے اور ٹاؤن ہی نہیں قبرستان بھی سانجھے ہیں۔ پھر ہم کاہے کو نفرتیں پالتے ہیں؟ خدا کیلئے ہم فرقہ پرستی کے عذاب بھگت آئے بلکہ بھگت رہے ہیں سیاسی جماعتوں کی محبت کو اندھی تقلید میں تبدیل نہ کیجئے۔ سیاستدان نجات دہندہ نہیں بن سکتے ان کا خمیر اسی سماج سے اٹھا ہے لیکن یہ تب ہوگا جب سیاستدان بھی اپنے پیروکاروں اورہمدردوں کو یہ سمجھائیں گے کہ سیاسی نظریات ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ ہوں۔ لیڈر ہو یا کارکن وہمدرد جماعت اور نظریہ تبدیل کرنا سب کا حق ہے مگر یہ درست نہیں کہ نئی وفاداری کو ثابت کرنے کیلئے پرانے تعلق پر سنگ باری کی جائے۔ یہ ہمارا ملک ہے یعنی ہم سب کا اس کے اچھے اور روشن مستقبل کیلئے سبھی کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہاں کوئی غدار نہیں سبھی محب وطن ہیں۔

متعلقہ خبریں