Daily Mashriq


اپوزیشن کی افطار بیٹھک

اپوزیشن کی افطار بیٹھک

بلاول بھٹو زرداری کی دعوت افطار میں اپوزیشن جماعتوں کی پہلی بیٹھک میں عید کے بعد احتجاجی تحریک چلانے اور ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس افطار بیٹھک کی سب سے اہم بات مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ ن کے ایک وفد کی شرکت بھی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی اگلی نسل کی قیادتوں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اخبارنویسوں کے سوالات کے جواب بھی دئیے۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی اور عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اس لئے حکومت کو مزید مہلت نہیں دی جاسکتی۔ میثاق جمہوریت سے ووٹ کو عزت ملی اور دو حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی۔ اس محفل کی خاص بات یہ کہ مولانا فضل الرحمان اور حمزہ شہباز کچھ بجھے بجھے دکھائی دئیے۔ مولانا تو حکومت کو ایک دن کیلئے بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں مگر دو بڑی پارلیمانی اپوزیشن جماعتوں کی سو مجبوریاں اور ضرورتیں ہیں کہ وہ حکومت کو پہلے مرحلے پر گرانے پر یا تو قادر نہیں یا کمزور حکومت کو گرا نے کا الزام اپنے سر لینا نہیں چاہتیں اور یوں وہ مولانا کے جذبات کا ساتھ دینے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہیں۔ مولانا کی خاموشی اور تاخیر سے آنے کا یہی سبب ہے۔ مولانا کی خاموشی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نو ماہ سے مولانا دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر چڑھ دوڑنے کی دعوت دیتے رہے مگر دونوں جماعتیں اس کے جواب میں بے اعتنائی کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ یوں افطار بیٹھک میں مولانا کی خاموشی بہ زبان حال یہ داستان سنا رہی تھی کہ

ہم کہتے کہتے ہار گئے اور دنیا نے کچھ بھی نہ سنا

جب دنیا نے اصرار کیا ہم اپنا درد سنا نہ سکے

حمزہ شہباز کی خاموشی بھی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اب میاں نوازشریف کی سیاسی جاں نشینی کا تاج مریم نواز کے سر سج چکا ہے اور اب حمزہ شہباز کو باقی مدت ان کا ''شہباز شریف'' بن کر رہنا پڑے گا۔ مشرف کے دور سے ہی شریف خاندان کی سیاست اور کاروبار کو اگلی نسلوں کی طرف منتقلی میں یہ غیراعلانیہ تقسیم ہوتی ہوئی نظر آرہی تھی کہ کاروبار میاں نوازشریف کے بیٹوں کی اور سیاست حمزہ شہباز کی ذمہ داری ہوگا مگر میاں نوازشریف کے وزیراعظم بنتے ہی مریم نواز کی آمد اور وزیراعظم ہاؤس میں ڈیرہ جمانے سے یہ تقسیم بے معنی ہوتی چلی گئی۔ رفتہ رفتہ مریم نواز آگے بڑھتی چلی گئیں یہاں تک کہ اب مسلمہ جاں نشین سجھی جانے لگی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی اس بیٹھک پر حکومتی افراد اور نمائندوں کا چین بہ جبیں ہونا ناقابل فہم تھا۔ وزیراعظم سے وزراء اور وفاقی وصوبائی وزیروں مشیروں تک ہر کسی نے اس پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا۔ حکومت نے اپنا روایتی راگ الاپتے ہوئے اسے چوروں کا اکٹھ قراردیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے مل بیٹھنے پر اس قدر جذباتی ہونے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اپوزیشن جماعتوں کا اصل کام ہی حکومت کی تنقید ومحاسبہ ہے۔ اپوزیشن حکومت کیلئے کسی قوال کے ہمنوا کی طرح تالیاں نہیں بجا سکتی۔ پھر ملک میں سیاسی محاذ آرائی اور آویزش کا پارہ جس مقام تک بلند ہے اس میں اپوزیشن سے سخت سے سخت لہجے اور قدم کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ اپوزیشن کی یہ بیٹھک دو بڑے فریقوں کا یوٹرن ہی ہے کیونکہ کل تک دو بڑی اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف پوری طرح سرگرم عمل تھی مگر سیاست امکانات اور لچک کی دنیا ہے۔ یہاں کل کا ناخوب آج کا خوب بننے میں دیر نہیں لگتی۔ سیاستدان کو حالات کے مطابق اپنا موقف اپنانے کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مقولہ عام ہے کہ ''سیاست میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی''۔ اس تناظر میں دیکھیں تو اپوزیشن جماعتوں کا ایک جگہ جمع ہونا ان کا حق ہے۔ تاہم اس مرحلے پر سیاسی بیٹھک پر ''منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی'' کا سوال اُٹھتا ہے۔ اپوزیشن فقط احتجاج کرکے حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے یا واقعی حکومت گرانا چاہتی ہے؟۔ اپوزیشن اگر حکومت گرانا چاہے تو اس کے پاس سڑکوں کا رخ کرنے کے سوا بھی بہت سے آپشن ہیں۔ تحریک اعتماد اور استعفوںکا آپشن حکومت کا دھڑن تختہ کر سکتا ہے۔ ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر ان کے سوچنے کا یہ مقام ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟۔ اکثر اوقات کھیل شروع کرنے والے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور میدان کسی نئے اور نادیدہ کھلاڑی کے ہاتھ رہتا ہے۔ پاکستان میں اکثر احتجاج جب پیمانے سے چھلک پڑے تو تیسری طاقت کو حالات کنٹرول کرنے کے نام پر میدان میں آنا پڑا۔ سسٹم کی بساط لپیٹ دی جائے تو سیاستدانوں کی اگلی نسل اقتدار اور ملکی قیادت کی طلب میں قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے تشنہ لبی کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ عمران خان جس مزاج اور ذہنی اُپچ کے انسان ہیں اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ حالات بہت ہی بگڑ گئے تو وہ اپنا پلو جھاڑ کر بنی گالہ چل دیں گے۔ ایسے میں اپوزیشن کو اپنا کنفیوژن دور کرنا چاہئے کہ وہ حکومت کیخلاف کتنی دور تک جانا چاہتا ہیں۔ ان کا مقصد حکومت کو دباؤ میں رکھنا ہی ہے یا وہ اس سے آگے جانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپوزیشن تو محض مہنگائی کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے میدان میں نکلے اور کھیل ہی کھیل میں معاملہ کوئی اور رخ اختیار کرے۔ ملک کے اندر اور باہر جلتی پر تیل ڈالنے والوں کی کمی نہیں۔

متعلقہ خبریں