Daily Mashriq


مشکل ہے بہت ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

مشکل ہے بہت ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

اور کی ثقافت طرزمعاشرت اور تاریخی واقعات وشخصیات کے حوالے سے فیس بک پر قائم ایک گروپ کی سرگرمیوں سے میں حتی المقدور اپنا دامن بچانے کی ''بوجوہ'' کوشش کرتا رہتا ہوں، یہ لفظ بوجوہ اپنے اندر ایک جہان معنی رکھتا ہے اور اگر میں اس کی وضاحت شروع کردوں تو شاید بہت سی جبینوں پر بل پڑ جائیں، اس لئے کسی کو ناراض کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ ایک طرف خاموش ہو کر بیٹھ جائے، تاہم کبھی کبھی ایسی مجبوری ضرور آن پڑتی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بندہ اپنی زبان بندی سے رجوع کرلیتا ہے، سو آج بھی جس موضوع پر کالم تحریر کر رہا ہوں چونکہ اس کا تعلق ریڈیو پاکستان کے ہندکو پروگراموں خصوصاً ایک طویل عرصے تک پشاور کے جملہ عوام یعنی پشاور میں رہنے والے ہر زبان وثقافت سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو یکساں متاثر کرنے والے پروگرام قہوہ خانہ کے بارے میں ناقص معلومات پر مبنی گمراہ کن پوسٹ شامل کر کے ریڈیو پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی اس لئے اس صورتحال کی تصحیح اور ریکارڈ کو درست کرنے کی اشد ضرورت کے تحت ہی کالم لکھنے پر مجبور ہوا۔ مرزا رفیع سودا نے کہا تھا

سودا جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش

مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

دراصل تحقیق کے جو تقاضے ہوتے ہیں ان کو ملحوظ رکھنا تو ایک طرف ان کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی حالانکہ ہمارے ایک مستند دانشور دوست سابق ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی اقبال سکندر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے متعلقہ پوسٹ شامل کرنے والوں کو راقم کا نام لیکر مشورہ دیا کہ ریڈیو کے ایک دیرینہ اور سابق کارکن کے حوالے سے بہت حد تک مستند معلومات مشتاق شباب کے پاس ہی ہوسکتی ہیں لیکن کئی بقراطوں نے اپنے اپنے طور پر ناقص اور نامکمل معلومات کے ''خزانے'' لٹانے شروع کر دیئے، یہاں تک کہ ایک صاحب نے کہیں سے چھپی ہوئی کسی کتاب کا ایک صفحہ پوسٹ کر دیا جس میں جو معلومات تھیں وہ انتہائی گمراہ کن، ناقص اور بلاتحقیق کے شائع کی گئی ہیں اور یہی صورتحال تھی جس نے مجھے مجبور کیا کہ اپنی بساط کے مطابق وضاحت کر کے ریکارڈ کو درست کردوں۔

خاطر غزنوی مرحوم بھی ایک طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ رہے، انہوں نے جو کچھ بتایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ50ء کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے ہندکو پروگرام کی ابتداء کی اور اس میں بعض سینئر ادباء فنکاروں کو شامل کیا تاہم چند پروگراموں کے بعد یہ گاڑی نہیں چل سکی اور اس کی وجہ پروگرام میں استعمال ہونے والی زبان کا سوقیانہ پن تھا۔ تاہم قہوہ خانہ کے نام سے جس پروگرام نے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی اس کا آغاز60ء کی دہائی میں ہوا، بنیادی آئیڈیا باسط سلیم صدیقی کا تھا اور سید مظہر گیلانی کو اسے تحریر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی جبکہ اس کے پہلے پروڈیوسر تھے مرزا عزیزالرحمن مرحوم، اس میں صرف تین کردار تھے۔ لالہ فدو، (شیخ شریف)، مرزا صاحب (سید کاظم علی شاہ) اور منیجر صیب (خلیل خان) پروگرام کی مقبولیت کا گراف بلندی پر چڑھتا رہا، تو بہت مدت بعد اس میں خواتین کرداروں کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے مرکزی کردار لالہ فدو کے گھر میں تریمت (بیوی) اور سالی کے علاوہ ایک پڑوسن خالہ بی جان(محمودہ بیگم) کو شامل کر کے مزید دلچسپ بنادیا گیا۔ محمودہ بیگم گل بہار کالونی میں رہتی تھیں اور اللہ نے انہیں ایسی آواز عطا کی تھی کہ ایسی آوازیں کہیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، اوپر سے ہندکو زبان کے محاوروں اور ضرب الامثال کی بھرمار سے خواتین کا پورشن مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھونے لگا اور ہر پندرہ روز بعد لوگ جس بے چینی سے پروگرام کا انتظار کرتے تھے یہ ایک ریکارڈ ہے، شہر بھر میں ریڈیو کی آواز اس قدر اونچی رکھی جاتی کہ پڑوس میں جہاں ریڈیو نہ ہوتا وہ بھی آسانی سے لطف اندوز ہوتے، اس دوران میں پروگرام کے پروڈیوسرز بھی تبدیل ہوتے رہے کہ یہ ریڈیو پاکستان کی نشریات میں ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے اور بطور پروڈیوسر باسط سلیم، سید حمید اصغر شاہ، فقیر حسین ساحر، سردار محمد، سید عبدالجبار اورراقم کے علاوہ سردار علی اس پروگرام کے پیشکاروں میں شامل رہے، لالہ فدو(شیخ شریف)کے انتقال کے بعد ان کی جگہ گل جی کے نام سے ایک کردار تخلیق کر کے مرحوم صدیق انجم سے وہ کردارکروایا گیا جبکہ تریمت چونکہ(بیوہ) تصور کی گئی اس لئے گل جی کی بیوی(تریمت) کا کردار اس دور کی سالی کے حوالے کر دیا گیا اور سابقہ تریمت کو آپا کے کردار میں ڈھالا گیا۔ ساتھ ہی وڈا لالہ کے نام سے ایک اور کردار شامل کیا گیا جو مرحوم ایف آر قریشی کے ذمے تھا، اس دوران جب سید مظہر گیلانی رحلت کر گئے تو پھر سکرپٹ مختلف لوگوں سے لکھوانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور احسان طالب، جوہر میر ، مختار علی نیر کے علاوہ مسعود انور شفقی مختلف ادوار میں مسودہ لکھتے رہے تاہم سب سے زیادہ مسودے مسعودانور شفقی اور مختارعلی نیر نے لکھے ، اسی طرح سالی اور تریمت کے کردار بھی مختلف اوقات میں کئی خواتین ادا کرتی رہیں تاہم ان کی شادیوں کے بعد وہ چھوڑ جاتیں تو نئی فنکارائوں کو کردار حوالے کر دیئے جاتے، آخر میں سالی(تریمت)کا کردار بشریٰ فرخ جبکہ تریمت(آپا گل) کا کردار ثریا جبیں(مرحومہ) ادا کرتی رہیں۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں