Daily Mashriq


ایران سے تجارت، ضرورت بھی مجبوری بھی

ایران سے تجارت، ضرورت بھی مجبوری بھی

دنیا اگر امن کی طرف گامزن ہے بھی تو امن کا ٹھیکیدار کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دے گا، ساری دنیا میں دہشتگردی اور جنگ کے سے حالات رہیں یہی امریکہ اور یہودیوں کی سازش ہے، بالخصوص اسلامی ممالک تو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتے، کبھی کسی بہانے تو کبھی کسی حیلے سے ان پر کارپٹ بمباری کرکے اپنی ناجائز کالونی بنانے پر مجبور کرتا رہتا ہے، ہمارے سامنے یکے بعد دیگرے عراق' افغانستان اور عرب کی تباہی کی مثال موجود ہے، کچھ اسی طرح وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بھی درپے ہے، دہشتگردی کا عذاب تو ہم جھیل ہی رہے ہیں اب وہ ہمیں اپنے مخلص پڑوسی ملکوں سے بھی دور کرنے کے منصوبے بناتا رہتا ہے، یہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چین کے بعد ایران ہمارا مخلص دوست ہے یہی نہیں ہمارا اسلامی بھائی بھی ہے اور ہمارا پڑوسی بھی، پاکستان ایران تعلقات وقت کی ضرورت تو ہیں ہی اب ہماری مجبوری بھی بنتے جارہے ہیں، ہمارے پاس گیس وبجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے نہ تو کوئی واضع اور قابل عمل پلان ہے نہ ہی کوئی راستہ۔ایران کیساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں سردیوں کے موسم میں گیس کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث اکثر گیس کا پریشر کم ہوجاتا ہے اور گیس کی مانگ کھپت کے مقابلے میں بہت کم رہ جاتی ہے، یوں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی طرح عفریت کے بعد گیس کی لوڈشیڈنگ پر بھی مجبورہیں۔ روز روز کی لوڈشیڈنگ نے جہاں چھوٹے کاروبار کا معمول خراب کر دیا ہے وہاں ہماری انڈسٹری بھی تباہ ہورہی ہے، ہر کارخانہ ہر فیکٹری اور ہر انڈسٹری بجلی وگیس کی مرہون منت ہے، بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی سے ہمارا پورے کا پورا سٹرکچر ہی دگرگوں ہورہا ہے، وطن عزیز میں جاری بجلی کے بحران کے خاتمے کیلئے ماضی قریب میں ایران نے دوستی کا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کواس وقت بجلی کے بحران کا سامنا ہے اور ایران کے پاس وافر مقدار میں بجلی موجود ہے، ہمارا اسلامی برادر ملک پاکستان کو فوری بجلی فراہم کرنے کا خواہاں ہے، تجویز ہے کہ ایران کی سرحد سے پاکستان بجلی کی ٹرانسمیشن لائن قائم کرکے قومی نیٹ ورک پہ ڈال سکتا ہے یا پھر ایران پورٹ قاسم پر بجلی گھر بھی تعمیر کرسکتا ہے۔پاکستان کا پڑوسی یہ بات واشگاف الفاظ میں کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کے گوادر پورٹ کے ہرگز ہرگز خلاف نہیں بلکہ ان کی تو خواہش ہے کہ گوادر پورٹ اور چاہ بہادر بندرگاہ کے درمیان بھرپور تعاون ہو، اس پر پاکستان نے ایران کو کسی بھی مشکل وقت میں گوادر بندرگاہ استعمال کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ہمارے پڑوسی نے اپنی فراخدلی اور بھائی چارے کے ثبوت کے طور پر مزید کہا ہے کہ ایران پاکستان سے سبزیاں اور پھل برآمد کرنے کا خواہاں ہے، پاکستانی اور ایرانی تاجروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جانا چاہئے، پاکستان ترکی کیلئے برآمدات ایران کے راستے کرے اور ایران پاکستان کے ٹرانسپورٹروں کو تمام ضروری تعاون فراہم کرے گا، پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں سے بھی تجارت کو فروغ دے سکتا ہے۔ ایران سے گیس کی پائپ لائن بھارت لے جانے کیلئے جو منصوبہ بنا اس پر ہمارے نام نہاد آقا سخت ناراض نظر آتے ہیں ان کی بھرپور خواہش ہے کہ یہ منصوبہ پنپنے نہ پائے۔ اس سلسلہ میں پاکستان پر سخت ترین دباؤ ہے، اس پائپ لائن سے پاکستان بھی استفادہ کر سکتا ہے اور انتہائی ارزاں نرخوں پر گیس حاصل کرنے کیساتھ ساتھ اس منصوبہ سے بھی پاکستان کو بہت فائدہ ہے، اب اگر امریکہ کے دباؤ پر اس منصوبہ پر عمل درآمد رکوایا گیا ہے تو قوم ان رہنماؤں کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی، اس کیساتھ ساتھ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی وجہ سے امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران سے کسی قسم کے تجارتی وسفارتی تعلقات نہ رکھے جائیں حالانکہ گزشتہ دنوں پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی مخالفت کے باوجود مکمل کریں گے اور ایران کیخلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔امریکہ دنیا کا چوہدری بننے کے چکر میں ایران پر مسلسل زور ڈال رہا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام بند کردے اس پر ایران کی بارہا یقین دہانیوں کے باوجود امریکہ کے ارادے اور منصوبے چالاکی اور بدنیتی پر مبنی ہیں، ایران انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ٹیموں کو اپنے جوہری پروگرام کے ہر قسم کے معائنے کروا چکا ہے۔ ایران نے آج سے کئی سال پہلے ہی جوہری پروگرام بند کر رکھا ہے۔ اب کوئی جواز نہیں کہ ایران پر کسی قسم کی پابندی لگائی جائے یا اس پر حملہ کیا جائے۔ ہم یہاں یہ بات بتاتے چلیں کہ یہ ایران کی اس سلسلہ کی پہلی پیشکش نہیں بلکہ ایران تو گزشتہ کئی سالوں سے اس طرح کی پیشکشیں دے رہا ہے مگر امریکہ کی روایتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات روز بہ روز خراب کرائے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری میں یہ تاثر دینے کیلئے کہ ایران ایک خطرناک قوت بننے والا ہے جو نہ صرف عرب ممالک بلکہ ساری دنیا کیلئے خطرہ بن سکتاہے ، موجودہ حالات میں ہم یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کو عراق کی طرح اس معاملہ میں بھی منہ کی کھانی پڑیگی اور خود امریکی عوام اپنے رہنماؤں کی خبر لیں گے۔

متعلقہ خبریں