Daily Mashriq

ہمارے بچپن کا رمضان

ہمارے بچپن کا رمضان

آج لوگوں کو بڑی سہولتیں حاصل ہیں جن کی وجہ سے رمضان کے روزے رکھنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن ایک بات ذہن میں رہے رمضان کے روزے سہولتوں کی وجہ سے نہیں رکھے جاتے جو نہیں رکھتے وہ تو ٹھنڈے کمروں اور ٹھنڈی گاڑیوں میں بھی نہیں رکھتے اور رکھنے والے شدید گرمی میں محنت بھی کرتے ہیں اورروزے بھی رکھتے ہیں، یہ تو توفیق الٰہی کی بات ہے۔ ایک زمانہ تھا جب گھروں میں فریج نہیں تھے، بازار سے برف لانی پڑتی تھی، برف کی دکانوں پر کتنا ہجوم ہوتا تھا پورے پشاور میں دو تین برف کے کارخانے تھے، مقررہ وقت پر دکانوں پر برف پہنچائی جاتی، برف کی آمد سے پہلے ہی برف کی دکانوں پر لوگوں کا وہ اژدھام ہوتا کہ خدا کی پناہ! کسی بوڑھے یا بچے کا برف خریدنا تو بڑے دور کی بات ہے وہ تو اس ہجوم میں کھڑے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ مضبوط جوان ہی برف کی خریداری کر سکتے تھے، وہ دھینگا مشتی ہوتی کہ دیکھنے والے توبہ توبہ کرتے۔ منہ میں روزہ شدید گرمی کا موسم برف خریدتے خریدتے لوگ آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے۔ برف کی دکانوں پر برف کی خریداری کے دوران ایک دو مرتبہ چاقو چل گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہہ زور جوان زمین پر گر کر تڑپنے لگے۔ روزہ داروں کے خون سے زمین سرخ ہوگئی۔ سہ پہر تین چار بجے لوگ برف خرید کر لے آتے شام پونے آٹھ بجے افطاری کا وقت ہوتا برف کو بوریوں میں لپیٹ کر گھروں میں ٹھنڈی جگہ پر رکھا جاتا، پھر شربت سے روزہ افطار کیا جاتا، اتنا شربت پی لیا جاتا کہ پھر کھانا بالکل نہ کھایا جاتا، بس شربت اور ٹھنڈے پانی کی بہار ہوتی اکثر روزہ دار تراویح سے فارغ ہوتے ہی کمپنی باغ (خالد بن ولید باغ) یا جناح پارک کی طرف نکل جاتے، چار گھنٹے کی رات ہوتی، سحری کے وقت واپس گھر لوٹتے۔ سحری کھا کر نماز فجر پڑھنے کے بعد لوگ سو جاتے۔ آج کے مقابلے میں انہیں یہ سہولت ضرور حاصل تھی کہ اس زمانے میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوا کرتی تھی، پنکھا چل رہا ہے اور بچے بڑے آرام سے سو رہے ہیں، اب تو راتوں کا سونا بھی مقدر والوں کے نصیب میں ہے، ادھر آنکھ لگتی ہے اور ادھر بجلی رخصت ہو جاتی ہے، اب ہر بندہ جنریٹر یا یو پی ایس کا اضافی بوجھ تو برداشت نہیں کرسکتا بہرحال رمضان کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اللہ پاک روزہ داروں کو صبر دے دیتا ہے اور پھر سرکار کی طرف سے یہ نوید بھی سنائی جا رہی ہے کہ سحری اور افطار کے وقت لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی غرض جتنے منہ اتنی باتیں، ہر شخص اپنے حالات اور سوچ کے مطابق رائے زنی کرتا ہے، ہمیں یاد ہے پچھلے سال رمضان سے چند روز پہلے ہمارے ایک پڑوسی بڑے گھبرائے ہوئے لہجے میں ہم سے کہنے لگے کہ جی بڑی شدید گرمی ہے اوپر سے روزے بھی آرہے ہیں اللہ خیر کرے۔ ہم نے ان کی بات سن کر بڑے زور کا قہقہہ لگایا اور ان سے کہا اللہ کے بندے اتنی گھبراہٹ! اللہ پر بھروسہ رکھو تم دیکھنا رمضان میں موسم اچھا ہو جائے گا اور روزے بڑے مزے سے گزریں گے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ پہلے ایک دو روزے تو اچھی خاصی گرمی میں رکھنے پڑے لیکن تیسرے دن بادل آئے اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں۔ ایسی رت بدلی کہ لوگوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ہمارے سامنے وہی پڑوسی صاحب آگئے۔ ہم نے انہیں دیکھتے ہی کہا کیوں جناب روزے کیسے گزر رہے ہیں تو وہ کھسیانے ہو کر کہنے لگے۔ واقعی اللہ پاک بڑا مہربان ہے موسم کتنا اچھا ہوگیا ہے۔ چند دن پہلے اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ رمضان کی آمد آمد ہے، گرمی بھی شدید ہے اور لوڈشیڈنگ بھی عروج پر ہے، پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ موسم بھی خوشگوار ہوگیا اور رات کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی نوید سنا دی گئی اور اب پہلے کے مقابلے میں لوڈشیڈنگ قدرے کم کر دی گئی ہے، اسی طرح سحری اور افطار کے وقت بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی! رمضان المبارک میں سب کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، کم آمدنی والے لوگ بھی اللہ کے فضل وکرم سے ہر نعمت کا مزا چکھتے ہیں، سب کے دستر خوان بھرے ہوتے ہیں۔ اللہ پاک نے جن لوگوں پر زکواة فرض کی ہوئی ہے اور وہ مستحقین میں پوری پوری زکواة رمضان المبارک سے پہلے ہی تقسیم کر دیتے ہیں تو ہمارے بہت سے بہن بھائیوں کے روزے سہولت سے گزر جاتے ہیں، دراصل یہ دنیا امتحان گاہ ہے یہاں جس کے پاس مال ودولت کی بہتات ہے وہ بھی امتحان میں ہے اور جس کے پاس نپاتلا رزق ہے وہ بھی امتحان میں ہے جسے اللہ کی نعمتیں حاصل ہیں وہ بانٹ کر کھاتا ہے یا صرف اپنے حال میں مست ہے اور اسے دوسروں کی کوئی فکر نہیں ہے، اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا پڑوسی کس حال میں ہے، وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے عزیز اقربا زندگی کی گاڑی کتنی مشکل سے کھینچ رہے ہیں، صدقہ وخیرات سے مال ودولت میں اضافہ ہوتا ہے دنیا کی تکالیف اور مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں نبی پاکۖ بہت زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے اس مقدس مہینے میں ہر نیک عمل کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس مہینے میں آپۖ خاص طور پر صحابہ کرام کو بہت زیادہ سخاوت کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آج جو صاحب اختیار ہیں ان پر اس حوالے سے بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مہینے میں عام مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کی کوشش کریں! صورتحال یہ ہے کہ چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں