Daily Mashriq


آرمی چیف کی سبکدوشی و تقرری

آرمی چیف کی سبکدوشی و تقرری

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے مدت ملازمت پوری ہونے سے پہلے رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے بھی چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکا اللہ سے الوداعی ملاقات کی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے لاہور گریژن میں فوج اور رینجرز کے اہلکاروں اور افسران کی ایک بڑی تعداد سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کیا۔ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا ہے کہ امن و استحکام حاصل کرنا معمولی ہدف نہیں تھا تاہم قربانیوں اور مشترکہ قومی عزم سے کامیابیاں ملیں۔شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب ان کے بڑے کارناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے قبل مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے پوری شد و مد سے کہا گیا تھا کہ عسکری قیادت کسی ایسے آپریشن سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ شمالی وزیرستان جیسے مشکل اور دشوار گزار علاقے میں فوج کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہاں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے ہیں جنہیں ختم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ جنرل راحیل شریف نے تمام مخالفانہ آوازوں سے سے صرف نظر کرتے ہوئے ملکی سلاامتی اور بقا کے مقصد کو اولیت دی اور بھرپور قوت سے آپریشن ضرب عضب کیاگیا جس میں جنرل راحیل شریف کی بہترین تربیت' مہارت اور جنگی حکمت عملی کے باعث فوج کو کامیابی ملی۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی نے جنرل راحیل کو شہرت بخشی اور پوری دنیا میں پاک فوج کی بہادری اور جنگی مہارت کا ڈنکا بجنے لگا۔یاد رہے کہ جنرل راحیل شریف نے 29نومبر 2013ء کو بری فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا اور فوج کے 15ویں سربراہ ہیں۔رواں برس جنوری میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے اور وقت پر ریٹائر ڈہوں گے۔جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے۔ میں ایکسٹینشن پر یقین نہیں رکھتا۔خیال رہے کہ حالیہ دنوں ملک میں ایک بار پھر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں ممکنہ توسیع یا فوج کے نئے سربراہ کے حوالے سے مختلف حلقوں میں باتیں ہو رہی تھیں جس میں مقامی میڈیا میں حکومت کے وزرا سے متعدد بار ممکنہ توسیع یا نئے آرمی چیف کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے۔بہر حال اب آرمی چیف کی باضابطہ الوداعی ملاقاتوں کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ ہی منظر نامے پر موضوع سخن ہے۔ حکومت نے اس کا فیصلہ کر رکھا ہوگا صرف نام سامنے آنا باقی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر تقرری اور سبکدوشی کوئی غیر معمولی عمل نہیں لیکن ہمارے ہاں فوجی قیادت کی سبکدوشی و تقرری کو خواہ مخواہ میں جس طرح بحث و مباحثہ کاموضوع بنایا جاتاہے اس کی وجہ سے کئی قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت کو ایک معمول کے کام کی انجام دہی میں بھی مشکلات اور پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری وزیر اعظم کی صوابدید ہے اور بعض اوقات جونیئر اور غیر متوقع نام کی منظوری بھی دی جاتی ہے جس پر خود فوج کے اندر بہت سے جرنیل سپرسیڈ ہونے پر ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں۔ آرمی چیف کی تقرری کو معمول کاعمل بنانے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے سینئر جرنیل کو آرمی چیف مقرر کیا جائے اور یہ امر پہلے سے طے شدہ اور مسلمہ ہوتا ہے کہ نہ تو حکومت کو کسی قسم کا فیصلہ کرنے کی ضرورت پڑے اور نہ ہی فوج میں قیادت اور تقرری کے معاملے پر سروس کے آخری ایام میں کسی کو نا انصافی کی شکایت ہو۔ اس وقت آئندہ چیف آف آرمی سٹاف کے لئے چار جرنیلوں کے نام سامنے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق چاروں جرنیل ایک ہی پیج اور ایک ہی وقت کمیشن حاصل کرچکے ہیں۔ ان چاروں میں سے تقرری سے کسی سپرسیڈ ہونے کی شکایت نہیں ہوگی۔ جہاں تک جنرل راحیل شریف کے بطور آرمی چیف خدمات کا تعلق ہے وطن عزیز میں دو دو نشان حیدر کے حامل خاندان کے اس فرد نے بطور جنرل جتنی عزت و تکریم اور شہرت پائی اور جس طرح انہوں نے اپنے کردار و عمل کو پیشہ ورانہ امور پر مرکوز کرکے اپنی سروس پوری کرنے والے ہیں اور بروقت توسیع نہ لینے اور مدت ملازمت پر سبکدوشی کااعلان کرکے اور اب اس پر پورا اترنے جا رہے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور آئندہ کے لئے ہر آنے والے آرمی چیف کو انہوں نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جس پر چلنے والے سپہ سالار کو ہر کوئی اچھے نام سے یاد کرے گا۔ جنرل راحیل شریف عسکری اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کی جو تاریخ رقم کرکے جا رہے ہیں اس طرح کی کامیابی ایسے پر خلوص اور پیشہ ور سپہ سالار ہی کومیسر آسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں