Daily Mashriq

سی پیک پر بار بار کی بیان بازی

سی پیک پر بار بار کی بیان بازی

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اقتصادی راہداری روٹ کو متنازعہ نہ بنائے۔ دوسری جانب سپیکر خیبر پختونخوا اسد قیصر نے لندن میں بیان دیا ہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ کے حوالے سے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہر سطح پر احتجاج سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ سی پیک کو متنازعہ نہ بنانے پر تو پوری قوم کا اتفاق ہے اسے متنازعہ بنانے کا نہ تو صوبے کو الزام دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی وفاق سے یہ توقع وابستہ کی جاسکتی ہے کہ وہ سی پیک کو متنازعہ بنا رہا ہے۔ البتہ مغربی روٹ کے حوالے سے کچھ تحفظات اور اختلافات ضرور ہیں جن کو اقتصادی راہداری روٹ کو متنازعہ بنانے کا عمل قرار نہیں دیا جاسکتا ۔البتہ یہ ضرور ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور وفاقی حکومت نے اس معاملے کو طے کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا مظاہرہ ضرورکیا ہے جس سے اس حوالے سے عوام میں بے چینی پھیلنا فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ایسا تکنیکی نکتہ موجود ہے جس پر کسی لمبی بحث و مباحثہ کی ضرورت ہو۔ اس کے باوجود اس معاملے پر دونوں حکومتوں کی بار بار ملاقاتوں اور بریفنگ کے باوجود بھی پرنالہ وہیں کا وہیں گرنا اس امر پر دال ہے کہ سی پیک کا مسئلہ واقعتاً مسئلہ کم مگر سیاست زدہ ضرور ہے۔ اس ضمن میں کسی امر پر اتفاق کے بعد معاملے طے ہونے کی نوبت بھی اس لئے نہیں آتی کہ اس موضوع کو بند کردیا جائے۔ صوبائی حکومت اور عوامی نمائندے کچھ دن توقف کے بعد سی پیک کا معاملہ پھر چھیڑنے لگتے ہیں۔ معاملہ سنگین ہونے پر وفاق صوبے سے رابطہ کرلیتا ہے یوں کچھ عرصے کے لئے موضوع بدل جاتا ہے مگر ایک مرتبہ پھر احتجاج کی دھمکیاں دے کر اور نا انصافی کا رونا رو کر اسے تازہ کرلیا جاتاہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں عدالت سے رجوع کرنے کے بعد صوبائی حکومت کو اپنا مقدمہ عدالت میں برحق ثابت کرنے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہئے اور اقتصادی روٹ کے تنازعے کا عدالت سے فیصلہ آنے کا انتظار کرلینا چاہئے۔ عوام اب صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت دونوں کے رویوں سے نالاں ہوچکے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس موضوع کو بیان بازی کے ذریعے زندہ رکھنے کی بجائے ملک و قوم اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں اس کا قابل قبول حل تلاش کرلیا جائے۔

سرکاری ملازمین کی امانت رہنے دیجئے

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات کے لئے سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈ اور پنشن فنڈ سے سترہ ارب روپے کی خطیر رقم قرض لینے کی بار بار کوشش کی فنڈز مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مخالفت اصولی اور درست اقدام ہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ ابھی مالی سال کی نصف سے زیادہ مدت باقی ہے مگر صوبائی حکومت کو اتنی خطیر رقم قرضے کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے ۔ بہر حال یہ الگ سوال ہے اس کی سب سے بڑی وجہ شاید وہ غیر حقیقت پسندانہ دعوے ہی تھے جو بجٹ مرتب کرتے وقت کئے گئے تھے مگر اب ان کے لئے وسائل دستیاب نہیں جن کے ذریعے ان وعدوں کی لاج رکھی جاسکے۔ کیا صوبائی حکومت مالی بحران کا شکار ہے اور وہ اس قدر مشکلات میں گھری ہے کہ جی پی فنڈ اور پنشن فنڈ جو ملازمین کی امانت اور جمع پونجی ہے اس سے قرض لیا جائے۔ ہمارے تئیں متعلقہ بورڈ کو اس کی ہر گز اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور خود صوبائی حکومت کو بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس کے نتیجے میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز مشکلات کاشکار ہو جائیں۔ اگر صوبائی حکومت یر قرض لیتی ہے اور اپنے مدت اقتدار کے اندر واپس نہیں کرتی تو آئندہ آنے والی حکومت اس سے سراسر انکار کردے گی جس کے بعد سرکاری ملازمین رقم نہ ملنے کے باعث سخت مشکل سے دو چار ہوں گے جس سے بچنے کے لئے اس فنڈز سے کسی طور بھی کوئی قرضہ جاری نہ کیا جائے۔

خواتین نمائندوں کی ناکامی

خواتین کے مسائل کا عدم حل اور خواتین سے متعلق معاملات کا سامنے نہ آنا اور ان پر عدم توجہ کی ذمہ داری جہاں من حیث المجموع ارتکاب غفلت ہے لیکن اگر صحیح معنوں میں جائزہ لیا جائے تو اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ان کے نمائندوں کی موجودگی کے باوجود مسائل کا جوں کا توں رہنا خواتین اراکین اسمبلی کی نا اہلی اور غفلت کا مظہر ہے۔ مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین کی اکثریت سیاسی طور پر تربیت یافتہ خواتین کی نہیں بلکہ جماعتی اکابرین نے کسی میرٹ کے بغیر ان کاچنائو اقرباء پروری اور دیگر وجوہات کی بناء پر کیا ہے ایسی خواتین سے اسمبلی میں فعال کردار ادا کرنے کی توقع عبث ہے۔ ویسے بھی مردوں کے معاشرے میں خواتین کتنی بھی با اختیار اور مقتدر نہ ہوں صنفی بنیادوں پر ان کے مسائل میں کمی لانا مشکل ہوگا کجا کہ ایسی خواتین نمائندوں سے توقع رکھی جائے جن کی ترجیح ہی خواتین کے مسائل و مشکلات نہ ہوں اگر ایسا ہوتا تو یہ عالم تو نہ ہوتا۔

متعلقہ خبریں