Daily Mashriq

ماسکو کانفرنس، جہانِ نو ہو رہاہے پیدا

ماسکو کانفرنس، جہانِ نو ہو رہاہے پیدا

دنیا کا سیاسی نقشہ تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔چند برس پہلے تک ایک محور کے گرد گھومتی ہوئی دنیا میں اب خاموشی اور سرعت کے ساتھ ایک اور پول اُبھررہا ہے ۔اس نئی سرگرمی کا مرکزایشیا ہے مگر ایشیا کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے جس کا اثر گردو پیش کے ماحول اور ملکوںپر بھی مرتب ہورہا ہے ۔ ایشیاکا یہ دل افغانستان ہے جومدتوں سے عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کھلی اور درپردہ جنگوں کا میدان بن کر رہ گیا ہے۔اُلجھن یہ رہی ہے کہ افغانستان کے جسدِ لاچار اور مرد بیمار کی مسیحا ئی کے دعوے دار ہی اس کے قاتل اور اس کے قاتل ہی مسیحا ہیں۔ 

افغانستان کے عارضے کے حل کی کنجی کہیں اور تھی اور اس کا حل کہیں اور تلاش کیا جانے لگا۔ اس گہرے تضاد نے افغانستان اور پورے خطے کی مشکلات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ۔افغانستان میں قیام امن کے کچھ فطری کھلاڑی تھے جن کی ہم آہنگی مسائل اور معاملات کو حل کر سکتی تھی مگر اس کی جگہ مصنوعی کھلاڑی پیدا کرنے کے تجربات نے معاملات کو گنجلک بنا دیا گیاصاف اور آسان سی بات یہ تھی کہ پاکستان افغان تنازعے کا ایک فطری کھلاڑی تھا ۔افغانستان میں بدامنی اور انتشار سے نقصان اور خسارے میں رہنے والے ہمسایہ ملکوں میں بھی پاکستان سر فہرست تھا ۔پاکستان وہ ملک تھا افغانستان کی خانہ جنگی بھی جسے منفی اندازمتاثر کرتی تھی اور افغانستان کا امن اور خوش حالی بھی مثبت انداز میں متاثر کر تی تھی ۔اس طرح افغانستان میں امن پاکستان کی اپنی داخلی ضرورت تھا ۔افغانستان کی مسیحائی کے دعوے داروں نے پاکستان کو مسئلے کاحل بنانے کی بجائے یاتو دہشت گردی کا شکار کرکے دوسرا افغانستان بنانے کا راستہ چنا یا پھر مسئلے کے حل کی بجائے ایک مسئلہ بنا کر پیش کیا ۔دور سے بھارت کو افغانستان میں لابٹھایا گیا اور بھارت نے اپنی اس موجودگی کو پاکستان اور چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا ۔پاکستان نے جب بھی اس مسئلے کا ''میڈ ان ایشیا '' اور ''میڈ ان افغانستان '' حل نکالنے کی کوششیں کیں تو انہیں بری طرح سبوتاژ کردیا گیا ۔پاکستان نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے جب بھی طالبان اور کابل کے حکمرانوں کوایک میز کے گرد بٹھانے کی کوشش کی پردۂ غیب سے کوئی واقعہ رونما ہوگیا اور یہ کوششیں آغاز کے ساتھ ہی انجام سے دوچار ہو گئیں۔

صاف نظر آتا تھا کہ ان کا مقصد پاکستان کو مسئلے کا حل بنانے کی بجائے افغان عوام اور حکمرانوں کی نظر میں مسئلہ اور دردِ سر بنائے رکھنا ہے ۔اب پہلی بار اگلے ماہ روس کے دارالحکومت ماسکو میں افغانستان میں قیام امن کے لئے روس ،چین اور پاکستان کی ایک سہ فریقی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے ۔گویاکہ اب علاقے کے تین اہم ملکوں نے افغانستان میں قیام امن کے لئے سات سمندر پار کوششوں کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی علاقائی سلامتی اور حالات کو متاثر کرنے والے اس مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔روس آج بھی افغانستان کے شمالی اتحاد کی تاجک اور ازبک قیادتوں پر اپنا اثر رسوخ رکھتا ہے جبکہ پاکستان پشتون آبادی کی نمائندگی کرنے والے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات کی تاریخ رکھتا ہے۔آج کے جنگ زدہ افغانستان کی دوبڑی زمینی حقیقتیں یہی ہیں ۔ایک طرف مزاحمت کرنے والے پشتون طالبان ہیں تو دوسری طرف کابل حکومت پر گہرا اثر رسوخ رکھنے والا شمالی اتحاد ہے جس کی علامتی نمائندگی افغانستان کے نائب صدر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ بھارت اور افغانستان کے نمائندوں نے ایک سہ فریقی ملاقات میں اس مسئلے کے حل کی ایک نئی کلید تراشنے کی کوشش کی تھی ۔امریکہ کے افغانستان سے کوسوں دور ہے اس کے عالمی دفاعی مفادات تو افغانستان سے وابستہ ہوسکتے ہیں مگر افغانستان میں خانہ جنگی اور خلفشار سے امریکہ کسی طور براہ راست متاثر نہیں ہو سکتا ۔

یہی صورت حال بھارت کی ہے جس کی براہ راست سرحد افغانستان سے نہیں ملتی بلکہ دونوں کی زمینی راہداری اور براہ راست تعلق کے درمیان پاکستان جیسا ملک حائل ہے۔ ماسکو میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس سہ فریقی کانفرنس میں جہاں افغانستان میں قیام امن کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا وہیں افغانستان میں داعش کو قدم جمانے سے روکنے کے لئے بھی سوچ وبچار کی جائے گی ۔پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے ایک معنی خیز جملہ یوں بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان کی خانہ جنگی جیسی صورت حال کو عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکتی ہیں۔یہ وہ راز ہے جو خطے کے تین ملکوں نے پالیا ہے کیونکہ پہلے القاعدہ کے نام پر امریکی افغانستان میں موجود رہے اور اب داعش کے سایوں کے تعاقب کے نام پر اگلی کئی دہائیوں تک یہ کھیل جاری رہ سکتا ہے ۔روس اور پاکستان کا سر د جنگ کا ماضی تلخ ہے اور افغانستان اس تلخی کا نقطہ ٔ عروج رہا ہے ۔اب یہ منظر بدل رہا ہے ۔

پاکستان اور چین تو مضبوط تعلق کی ڈور میں بند ھ ہی چکے ہیںروس بھی عالمی سیاست میں اس جانب متوجہ ہو کر ایک متوازی اور نئے پول کے قیام کی منزل کو قریب سے قریب تر لارہا ہے۔روس بھارت کے ساتھ تمام تر تعلق کے باوجود پاکستان کے حوالے سے بھارت کی زبان بولنے سے انکار کرتا چلا آرہا ہے ۔ پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں پر بھارتی اعتراض کو مسترد کرنے کے بعد برکس اجلاس میں نریندر مودی کی ہاں میں ہاں نہ ملا کر روس نے پاک بھارت معاملات میں آزاد روی اور غیر جانبداری کا تاثر دیا ہے اب نیویارک میں افغان مسئلے کے حل کے لئے امریکہ، بھارت اور افغانستان کی کانفرنس کے جواب میں روس ،چین اورپاکستان کی سہ فریقی کانفرنس دنیا کے نئے مناظر سے ہمکنار اور آشنا ہونے کا پتا دے رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں