Daily Mashriq

یہ کہانی ہم سب کے لیے ہے

یہ کہانی ہم سب کے لیے ہے

سردی کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا چلا جارہا ہے بس ایک بارش کا انتظار ہے لوگوں نے نماز استسقاء بھی پڑھ لی ہے ہر روزرحمت باران بقدر حاجت کی دعائیں بھی مانگی جارہی ہیں۔ اللہ پاک کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگنا رائیگاں تو نہیں جاتا کیا عجب کوئی بھولا بھٹکا بادل ہمارے آسمان کی طرف بھی نکل آئے اور چاروں طرف جل تھل ہوجائے۔ ہمیں بچپن کے وہ دن بھلائے نہیں بھولتے جب بارش کی جھڑی لگی ہوتی اور نانی اماں ہمیں سردیوں کی طویل راتوں میں کہانی سنا رہی ہوتیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب لوڈ شیڈنگ کے الفاظ سے ہمارے کان نا آشنا تھے مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نہیں نکلا تھا۔ لوگوں کے پاس وقت ہی وقت تھا کسی عزیز رشتہ دار سے دوچار دن ملاقات نہ ہوتی تو لوگ بے چین ہوجاتے سیل فون نہیں تھا کہ بٹن دبا کر احوال پوچھ لیا لوگ باقاعدہ احوال پرسی کے لیے ایک دوسرے کے ہاں تشریف لے جاتے سادہ سی چائے یا گھرکے پکے ہوئے لذیذ کھانے سے مہمان کی خاطر تواضع کی جاتی ، آج کی طرح کیمیکل ملا دودھ نہیں تھادودھ خالص ہوتا ،اس وقت رنگ والی چائے کی پتی نہیں ہوا کرتی تھی اس لیے چائے بھی خوب ذائقے دار ہوتی سبزیاں خالص تھیں اس لیے ان کا ذائقہ بھی ایسا تھا کہ پیٹ بھر جاتا لیکن کھانے کا عمل جاری رہتا۔اس وقت سب سے بڑی دولت بے فکری تھی کبھی برسوں بعد کسی کے بیمار ہونے کی اطلاع ملتی تو عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھ جاتا لیڈی ریڈنگ ہسپتال شہر کا واحد ہسپتال تھا جہاں صاف ستھرے بستروں پر سفید چادریں بچھی ہوتیں ۔آج جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس سے ہر چھوٹا بڑا پریشان ہے ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے مسائل میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اگر بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ مناسب منصوبہ بندی بھی ہوتی تو آج لوگ اتنے پریشان نہ ہوتے دیہات میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں لوگ بہ امر مجبوری شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیںبات کا آغاز نانی اماں کی کہانی سے ہوا تھا لیکن منتشر ذہن گوناگوں مسائل کا ذکر لے بیٹھا۔ ان کہانیوں میں کتنی ذہانت پوشیدہ ہوتی ہے زندگی کی تشریح کے کتنے خوبصورت حوالے موجود ہوتے ہیں ۔ایک دفعہ کسی بادشاہ کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگر وہ ہمیشہ اس بات سے باخبر رہے کہ کسی کام کے شروع کرنے کا بہترین وقت کون سا ہوتا ہے؟ کن لوگوں کی بات غور سے سننی چاہیے اور کن لوگوں کی باتوں پر توجہ نہیں چاہیے یعنی کون سے لوگ اہم ہوتے ہیں اور کون سے غیر اہم؟اور یہ معلوم ہوجائے کہ سب سے اہم کام کون سا ہوتا ہے تاکہ وہ اسے اسی وقت سرانجام دے سکے؟آپ ذرا سوچئیے ! اگر انسان کو ان باتوں کا علم ہوجائے تو زندگی کتنی آسان ہوسکتی ہے !ملک بھر میں یہ منادی کردی گئی کہ بادشاہ کے پوچھے گئے سوالات کے صحیح جواب دینے والے کا منہ موتیوں سے بھر دیا جائے گا بہت سے دانا آئے اور بادشاہ کے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی لیکن بادشاہ کی تسلی نہیں ہوئی کوئی بھی اسے مطمئن نہیں کرسکا ۔ بادشاہ لوگوں سے مایوس ہوکر ایک درویش کی کٹیا میں پہنچ گیا جو دنیا سے الگ تھلگ ایک جنگل میں رہائش پذیرتھا اور رات دن اللہ کی عبادت میں مصروف رہتا اس روشن ضمیر درویش نے بادشاہ کے تمام سوالات کے جوابات بھی دے دیے اور کسی بھی قسم کا انعام لینے سے انکار کردیا ۔ اس فقیر کے جوابات آج بھی ہم سب کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اس کا جواب یہ تھا کہ آدمی کے لیے سب سے اہم وقت وہی ہوتا ہے وہ جب کسی کا کام کر رہا ہوتا ہے کسی کی خدمت میں مصروف ہوتا ہے اور سب سے اہم آدمی وہی ہوتا ہے جس کی خدمت کی جارہی ہوتی ہے اور سب سے اہم کام وہی نیکی ہوتی ہے وہ جسے سرانجام دے رہا ہوتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارے پاس طاقت ہوتی ہے کچھ کرنے کا اختیار ہوتا ہے! آج ہمیں بھی ان خطوط پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ زندگی ایک امتحان ہے اور ہم سب زندگی کے بہت بڑے ہال میں بیٹھے اپنے اپنے پرچے حل کررہے ہیں ہم نے ایک محدود وقت میں اپنے اپنے پرچے حل کرنے ہیں جو صاحب اختیار ہے اس کا امتحان بھی بڑا ہے اور ذمہ داری بھی!یہ کہانی صرف آج کے صاحبان اقتدار کے لیے نہیں ہے بلکہ ہم سب کے لیے ہے ہم سب کسی نہ کسی درجے میں صاحب اختیار ہیں۔ کیاہم اپنے اختیار اپنی توانائیوں کو بنی نوع انسان کے لیے استعمال کررہے ہیںیا ہماری ذات دوسروں کے لیے بے فائدہ ہے؟ ہمارے ایک مہربان ہر وقت یہ دعا مانگتے ہیں یا اللہ مجھے مخلوق کے لیے وسیلہ بنا دے ! اگر ہم دوسروں کے لیے وسیلہ بن جائیں اور ہماری ذات سے دوسروں کو فیض پہنچنا شروع ہوجائے تو یقین کیجیے زندگی پھولوں کی طرح مہک افزا ہوجاتی ہے !کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم صرف اپنے لیے جی رہے ہیں؟دوسروں پر تنقید کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے اپنے گریبان میں جھانکنا بڑی بات ہے ! بات صرف احساس کی ہے سوچ اور فکر کی ہے اپنے پاس جو فرصت ہے جو اختیار ہے اسے قیمتی بنانے کی ہے۔ہمیں اپنی عمر کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور خیر کے کاموں میں اپنے شب وروز گزارنے چاہئیں۔ جو فرصت اس وقت ہمیں میسر ہے اسے غنیمت سمجھنا چاہیے یہ وقت اس وقت قیمتی ہوجاتا ہے جب ہمارے سامنے موجود شخص یا موجود لوگوں کو ہماری ذات سے فائدہ پہنچتا ہے ۔ 

متعلقہ خبریں