Daily Mashriq

سی پیک اور پاناما' دنیا بدل رہی ہے

سی پیک اور پاناما' دنیا بدل رہی ہے

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو پرویز مشرف نے اپنی آمرانہ قوت کے استعمال سے جس بے ڈھنگے انداز میں اپنے منصب سے معزول کرنے کی کوشش کی تھی اور پاکستان کی وکلاء برادری نے جس اتحاد و یکجہتی اور ملکی مفادات کے تحفظ اور وطن عزیز کو آمریت کے ناروا مظاہرے سے بچانے کے لئے جو تحریک اٹھائی تھی وہ یقینا پاکستان کی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔ ان دنوں یونیورسٹی میں مختلف تقاریب و مجالس میں' میں نے کئی اساتذہ کرام اور احباب کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ پاکستان تبدیل ہوگیا ہے۔ پاکستان میں ایک چیف جسٹس کی بحالی کے لئے وکلاء نے جس انداز میں مارچ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں آدھی رات کو وزیر اعظم پاکستان نے قوم سے اپنی نوعیت کے منفرد خطاب میں چیف جسٹس کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے اثرات آنے والے وقتوں میں بہت گہرے اور واضح ہوں گے۔ ان ہی مجالس میں بعض احباب کی یہ بات بھی مجھے یاد ہے کہ وہ کہاکرتے تھے کہ یار پاکستان کو کس نے ٹھیک کیا ہے؟ پاکستان کے مسائل اتنی آسانی سے ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ یار یہ چند دنوں کی بات ہے ' لوگ تھک ہار کر دوبارہ اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہو جائیں گے' وغیرہ وغیرہ'۔' اور یہ بات تو شاید گزشتہ چھ دہائیوں سے بہ زبان خلق پھسلتی چلی آرہی ہے کہ'' یار یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے'' لیکن مجھے نہ جانے کیوں ان لمحات میں یہ احساس ہو چلا تھا کہ اب یہ 1960ء اور 1970ء کا پاکستان نہیں ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سرمایہ دارانہ اور بالخصوص جاگیر دارانہ ذہنیت اور سماج اور اس کے مظاہر نے جہاں ترقی کے راستے مسدود کردئیے تھے اور بعد میں بھی بہت بڑی رکاوٹ کے طور پراپنا کردار کبھی سامنے سے اور ظاہراً اور کبھی پس پشت رہ کر ادا کرتے رہے ہیں اور جب محدود جمہوریت قائم ہوئی تو ان غریب عوام کے ووٹ کا بری طرح استحصال کیا۔ وطن عزیز کے کتنے اضلاع' تحصیلیں اور علاقے ایسے تھے جہاں کوئی نہ کوئی ''ان داتا'' بن کر ان کی قسمت کے فیصلوں کے مالک رہے ہیں۔ ان ہی غریب عوام کے شناختی کارڈ یکمشت جمع کرا کر ووٹ ڈلواتے رہے ہیں اور امریکہ و یورپ سے ان غریب عوام کو تعلیم' صحت اور پینے کاصاف پانی اور بعض دیگر بنیادی ضروریات دینے کے لئے کروڑوں ڈالر لے کر اس کا عشر عشیر بھی عوام پر خرچ کرنے کے روادار نہ رہے ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان اربوں ڈالر کا مقروض ہو اور قوم کا ہر مرد و زن' بچہ و بوڑھا لاکھ روپے سے زیادہ کا زیر بار ہو' لیکن ان کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہ ہو۔دوسری طرف یہ حال ہو کہ نلکے کا صاف پانی میسر بھی ہو لیکن وہ مراعات یافتہ طبقہ پھر بھی منرل پانی پیتا ہے' احتیاطاً تاکہ ہر بلا سے محفوظ رہ سکے۔پاکستان کے ''بڑوں'' کی اس طرز حیات اور طرز فکر نے غریب عوام کو بھی انسان سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ (الا ماشاء اللہ)۔ لیکن یہ بھی سنت الٰہی ہے کہ محکوم' مجبور اور مقہور کی آواز ضرور سنی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جب انسانیت جبر کی شکار ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اپنے کسی برگزیدہ بندے کو بندگان خدا کی نجات اور مصائب سے گلو خلاصی کے لئے بھیجتے رہے ہیں۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو یہ سلسلہ نبوت بند ہوا لیکن خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاک پا کے طفیل اس امت میں نیک لوگوں کی آمد کا سلسلہ قیامت تک رہے گا اور یوں لوگوں کو ''بڑوں'' کا بندہ بننے سے نجات کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ 

آج کی دنیا تاریخ کے گزشتہ ادوار سے الگ اور اپنی طرز کی منفرد دنیا ہے۔ آج دنیا میں جتنے بھی ملک ہیں ان میں انسانی مسائل کی یلغار ہے اور اس لئے ہر ملک کے بعض لوگ اپنے عوام کو ان مسائل سے نکالنے کی جدوجہد بھی کرتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں جمہوری اقدار کو اتنا مضبوط کیاگیا ہے اور اس نظام کے ذریعے ادارے بھی مستحکم ہیں۔ لہٰذا وہاں کے مسائل الگ نوعیت کے ہیں۔لیکن پاکستان جیسے ملکوں کے مسائل نہ اتنے ضخیم ہیں اور نہ ہی گمبھیر' بلکہ اگر کوئی اچھے ارادے کا ایک صحت مند ' دیانتدار' امین اور صادق سا شخص عوام کو اپنی ان بنیادی صفات کا باور کرائے تو ضروری مسائل بہت آسانی سے ساتھ حل ہوسکتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ پاکستان میں حالات اب بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔ اس تبدیلی میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔اب کوئی بڑا زیادہ دیر تک کسی کو ''غلام'' نہیں بنا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلے میں پاکستان پر مہربانیاں کی ہیں اس میں دو اہم امور بہت اہم ہیں۔ چین کے مقتدر طبقات میں سی پیک منصوبے کی فکر و خیال کیسے درآئی اور یہ روٹ جو پورے پاکستان کے بیچوں بیچ گزرے گی اقتصادی و دفاعی لحاظ سے بہت بڑا کردار ادا کرے گی۔ عظیم چین کو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کا مضبوط سٹریٹجک شراکت دار بنا دیاہے۔ لہٰذا اب ہمارے آس پاس کے بعض مذموم عزائم رکھنے والے ملکوں کے ارادے اور منصوبے خاک میں ملیں گے' انشاء اللہ۔ کیونکہ اب یہ سی پیک چین کے لئے شہ رگ کی حیثیت اختیار کرے گا اور اس کی حفاظت کے لئے پاکستان کی سالمیت و حفاظت ترجیح اول ہے۔دوسری بڑی تبدیلی پاناما لیکس ہے۔ اس میں کون صحیح ہے کون غلط یہ الگ بات اور اس میں پاکستانی عوام کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں۔ لیکن اب کم از کم یہ بات طے ہو چکی ہوگی جس کی موجودگی میں ''ہمارے بڑے'' کم از کم میگا کرپشن کے منصوبے بنانے سے پہلے ہزار نہ سہی سو بار سوچیں گے۔

متعلقہ خبریں