Daily Mashriq

علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی۔۔۔ عدالت کے کٹہرے میں

علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی۔۔۔ عدالت کے کٹہرے میں

سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے تنگ نظر طبقے کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود انتھک کوششیں کر کے علی گڑھ میں جدید تعلیمی نصاب سے مزین ایک درس گاہ کی بنیاد رکھی جس نے بعد میں کالج اور پھر یو نیورسٹی کا درجہ حاصل کر لیا۔بھارت میں قائم اس یونیورسٹی میں آج کے تمام جدید علوم کی تعلیم دی جا رہی ہے اور اس وقت نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں اس ادارے کو نمایاں مقام حاصل ہے۔جس طرح کے ہمارے ملک میں اقلیتی کمیو نٹیز کو اپنے ادارے کھولنے اور چلانے کی اجازت ہے اسی طرح بھارت میں بھی اقلیتوں کو اپنے ادارے چلانے کی اجازت ہے اور بھارتی آئین اس بارے مکمل تحفظ دینے کا پابند ہے۔ لیکن جب سے نریندر مودی بر سر اقتدار آئے ہیں ان کی مسلم دشمنی ہر جگہ آشکار ہو رہی ہے'اسی سلسلہ میں اب علی گڑھ یونیورسٹی ان کے نشانہ پر ہے۔

1981ء میں بھارتی پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کیا تھا جس کی رو سے علی گڑھ یونیورسٹی کو ایک مخصوص اقلیتی کمیونٹی یعنی مسلمانوں کے ادارے کا درجہ دیا گیا تھا۔ اسی بل میں بھارت میںقائم اور بہت سے دوسرے اقلیتی اداروں کو مخصوص درجہ دے کر اپنے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔لیکن نہ جانے 35 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد مودی سرکار کوکیا خیال آیا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جانے کی بجائے بھارت کی سپریم کورٹ میں لے گئی ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ مودی نے یہ رٹ صرف مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے خلاف دائر کی ہے جبکہ دیگر اقلیتی اداروں کے بارے میں وہ مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس بارے مودی سرکارکا یہ موقف ہے کہ چونکہ اس وقت کی مرکزی حکومت کا اس یونیورسٹی کوقائم کے کرنے میں بہت بڑا ہاتھ تھا اور یہ کہ اگر اس وقت کی حکومت تعاون نہ کرتی تو سر سید احمد خان کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ یہ ادارہ قائم کر سکتے لہٰذا اس ادارے کی خود مختارانہ حیثیت کو ختم کر کے مرکزی حکومت کے حوالے کیا جائے۔لیکن ایسا کہتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بنارس کی ہندو یو نیورسٹی بھی تو اس وقت کی مرکزی حکومت کے تعاون سے بنی تھی اور اس طرح کے اور بہت سے دوسرے ادارے۔ اسی قسم کی ایک کوشش 1967ء میں بھی کی گئی تھی لیکن اس وقت کانگر یس سرکار نے عدالت میں یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ موقف تسلیم کر لیا تھا کہ یہ ہندوستان کی قدیم درسگاہ ہے اور یہ کہ اس کے قیام میں سر سید احمد خان کی قیادت میں صرف مسلمانوں نے اس کی مالی معاونت کی تھی اور اس جذبہ کو دیکھتے ہوئے اس وقت کی انگریز سرکار نے بطور پالیسی اس کے قیام میں بھر پور تعاون کیا۔ جس کے لئے ہم بجا طور پر آج بھی ان کے مشکور ہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے باعث بہت حد تک مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں مدد ملی۔ شروع ہی سے اس کا نصاب اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ اس میں وسعت کی کافی گنجائش رکھی گئی اور یہ کہ اسے ایک خاص مذہبی طبقے تک محدود نہ رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج علی گڑھ یونیورسٹی میں50 فیصد طلبا و طالبات کی تعداد غیر مسلموں کی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہ تعداد بڑھ جائے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ بھارتی حکومت ماضی اور حال کے مالی تعاون کے نام پر یونیورسٹی پر قبضہ کر لے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا میں بھارتی حکومت کی جانب سے دائر اس مقدمے کی متعدد پیشیاں ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا کہنا ہے کہ علی گڑھ یونیورسٹی بارے پارلیمنٹ کے بل کی موجودگی میں حکومت عدالت میں کیوں آئی ہے؟ اگر حکومت اس تعلیمی ادارے کی بنیادی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ میں پہلے کوئی ترمیم کرنا ہو گی۔ اس نقطہ پر کافی لے دے ہو رہی ہے۔ جبکہ بھارت کے معتدل حلقے مودی سرکار کے اس اقدام کو سراسرمتعصبانہ اور یک طرفہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی کی پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور وہ مذکورہ بل میں بآسانی ترمیم کر سکتی ہے لیکن سپریم کورٹ میں جا کر وہ اپنے ہندوانتہا پسند ووٹرز کو خوش کرنے کے علاوہ میڈیا کی توجہ بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ تاکہ آئندہ انتخابات میں ہندو انتہا پسند ووٹ کی اکثریت بحال رہے۔بھارتی اور عالمی قانونی حلقے مودی سرکار کے اس مقدمے کو سیاسی سٹنٹ کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معزز جج صاحبان کا یہ سوال اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اقلیتی اداروں بارے پارلیمنٹ کے بل کی موجودگی میں سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ علی گڑھ یونیورسٹی کے نام کے ساتھ سینکڑوں برس کی ایک تاریخ جڑی ہوئی ہے جس میں اس وقت کے مسلمانوں نے اس ادارے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جن میں سر سید احمد خان کا نام سر فہرست ہے۔آج بھی علی گڑھ یونیورسٹی بھارت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک معتبر تعلیمی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی جاری کردہ ڈگری کو ایک مقام حاصل ہے۔شاید بھارتی وزیر اعظم جو اپنی مذہبی جنونیت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں مسلمانوں کی قائم کی گئی اس عظیم درسگاہ کا تاریخی تشخص مٹا کر اپنی مخصوص سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔ اس کام میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

متعلقہ خبریں