Daily Mashriq


امریکہ فوبیا

امریکہ فوبیا

انتخابات امریکہ میں کیا ہوئے کہ پورے پاکستان میں خاص طور پر نیوز چینلز نے آسمان سر پر اُٹھالیا۔نیوزچینلز پر تبصرے دن رات جاری تھے۔جیسے اپنے ملک میں انتخابات ہورہے ہیں۔ جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو '' ٹرمپ '' کی جیت سے سناٹا چھا گیا۔جیسے پاکستان کے مخالف ترین صدر برسر اقتدار آئے۔ایسی کوئی بات نہیں۔ امریکہ میں صدارت کے منصب کی تبدیلی سے اُن کی خارجہ پالیسیاں یکسر تبدیل نہیں ہوتیں۔چند سال پہلے جب امریکہ کے نئے صدر نے حلف اُٹھایا تو کسی صحافی نے پوچھا کہ اُن کی پالیسیاں ایسٹ ہوں گی یا ویسٹ۔اُس نے جواب دیا کہ نہ ایسٹ نہ ویسٹ امریکہ از دی بسٹ۔اکثر پاکستانی عوام کو یہ غلط فہمی تھی کہ ہیلری کلنٹن جیت جائیں گی۔اُن کی شکست نے سب کو افسردہ کردیا۔جیسے اُن کے ملک کا پسندیدہ لیڈر ہار گیا ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ امریکی انتخابات سے ہم نے کیوں اتنی اُمیدیں وابستہ کررکھی تھیں۔یہ امریکی عوام کا فیصلہ ہے کہ جس کو منتخب کریں۔یہ اُن کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے لئے جو بھی فیصلہ کریں۔وہ اس کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے ہونگے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے امریکہ کے بین الاقوامی تعلقات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوگی۔وہ اس لئے کہ امریکہ میں تما م فیصلے فرد واحد یعنی امریکہ کا صدر نہیں کرتابلکہ دیگر ادارے جو کافی مضبوط ہیںوہ اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔کانگریس، پینٹا گان ،سی ۔آئی ۔اے اور تھنک ٹینک کا ملک کی خارجہ اور داخلی پالیسی بنانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔دونوں سیاسی پارٹیوں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹ میں قومی مسائل پر ہم آہنگی ہوتی ہے۔دونوں سیاسی جماعتیں اکثر ایشوز پر یکساں رد عمل کا اظہار کرتی ہیں۔امریکہ کی ڈیمو کریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کے '' ہیلتھ کیئر بل '' پر کافی اعتراضات ہوئے اور خدشہ ظاہر ہوتا تھا کہ ریپبلکن پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس بل کو یکسر مسترد کیا جائے گا۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ صدر اُوبامہ سے انتخابات کے بعد ملاقات میں اپنا موقف تبدیل کرتا ہوا نظر آیا اور ہیلتھ کیئر بل چند ترامیم کے ساتھ منظور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر اُوبامہ کی حکومت میں اسلحے پر پابندی کے لئے بہت کوششیں کی گئیںلیکن گن مینو فیکچرنگ یونٹس کے مالکان نے حکومت کی ایک نہ مانی اور ان کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ صدر اُوبامہ روپڑے ۔ لیکن یہ بل پاس نہ کراسکے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ اس بل کو پاس کرانے میں کامیاب ہو جائینگے۔یہ امریکہ کے داخلی مسائل ہیں اور داخلی مسائل کو وہ جس طریقے سے حل کرنا چاہیںہم پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔ہمارا ان بلوں سے کیا تعلق ہے۔جہاں تک خارجہ پالیسی کاتعلق ہے تو سوائے ایک دو مسئلوں جن کا تعلق اقوام عالم سے ہے۔اُس میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہنے والے مختلف اقوام کے باشندے ہیں ظاہر ہے کہ کوئی بھی ملک غیر قانونی طور پر مقیم لوگوں کو برداشت نہیں کرسکتا ۔اگر اُن کو نکالنا ہے تو اُس میں پاکستان سمیت میکسیکو،بھارت ،بنگلہ دیش،افغانستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لوگ شامل ہوں گے۔دوسرا مسئلہ ماحولیات کا ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ ماحول کے انٹرنیشنل ایگریمنٹ سے پسپائی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔جس سے عالمی ماحولیات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔اگر امریکہ کسی بھی بین الاقوامی ایگریمنٹ سے علےٰحدگی اختیار کرتا ہے تو یہ ایک عالمی مسئلہ ہے ۔اکیلے پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔اس پر ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جہاں تک افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی اور افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ گزشتہ دس سال سے امریکہ کی لاکھوں افواج کی موجودگی میں اگر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکا تو اکیلے پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکتا۔جبکہ افغانستان کے مسئلے پر بھی امریکہ اور پاکستان کئی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ باہمی عد م اعتمادی کی فضاء قائم ہے۔دوستی اور نفرت کے تعلقات قائم ہیں۔ ہم نے شروع ہی سے امریکہ سے توقعات اور اُمیدیں وابستہ کی ہیں۔لیکن ہمیں وہ مناسب اور سچی دوستی کا جواب نہیں ملا ہے ۔پاکستان کے وزیر اعظم نے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان نئی حکومت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور امریکہ اور پاکستان کے چھ دہائیوں پر محیط تعلقات اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امریکی پالیسیوں کی حمایت کی ہے اور یہ حمایت جاری رہے گی۔گو کہ ان تعلقات میں کئی دفعہ اونچ نیچ آئی ہے لیکن مجموعی طور پر پاکستان امریکی لابی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔خاص طور پر افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کے بعد امریکہ کسی حالت میں بھی پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔جنوبی ایشیا کے اس خطے میں پاکستان جغرافیائی اعتبار سے امریکہ کیلئے خاصی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان نے ماضی میں اس کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستان کو کسی قسم کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ ڈیمو کریٹوں کے دور حکومت میں امریکہ نے پاکستان کیلئے کونسے خزانوں کے منہ کھولے تھے یا پاکستان کی خصوصی حمایت کی تھی۔لہٰذا پاکستان کی اپنی داخلی صورتحال اور سیاسی استحکام کو زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔بجائے اس کے کہ ہم امریکہ کی سیاست سے توقعات وابستہ رکھیں۔

متعلقہ خبریں