Daily Mashriq


اداکار وحید مراد کی 33 ویں برسی آج منائی جارہی ہے،

اداکار وحید مراد کی 33 ویں برسی آج منائی جارہی ہے،

ڈیسک:   چاکلیٹی ہیرو کے نام سے شہرت پانے والے ،نشیلی آنکھیں، کتابی چہرہ اور مرادنہ وجاہت سے بھرپور شخصیت کے حامل وحید مراد جب پردے پر ابھرتے تو مداح پلک جھپکنا بھول جاتے۔ کردار میں ڈوب جانا کسے کہتے ہیں فلمی شائقین کو ان کی اداکاری دیکھ کر معلوم ہوا۔ جذبات اور رومان کو جس طرح وحید مراد نے پیش کیا ویسا کوئی ہم عصر نہ کر پایا۔ انکی شخصیت اور اداکاری کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا، اسی لیے لالی وڈ کے چاکلیٹی ہیرو کہلائے اور آج بھی یہ اعزاز انہی کے پاس ہے۔ عروج کے دور میں وحید مراد کو فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ فلم ہیرا اور پتھر، دیور بھابی، ارمان، انسانیت، دوراہا، نیند ہماری خواب تمہارے، انجمن اور کئی دیگر فلمیں بلاک بسٹر ثابت ہوئیں۔ ان پر فلمائے گئے فلمی گیت آج بھی زبان زد عام ہیں۔ فلمی دنیا کا یہ تابندہ ستارہ 23 نومبر 1983 میں محض 45 برس کی عمر میں دنیا سے منہ موڑ گیا لیکن مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں

1983 میں  وحید مراد کی گاڑی ایک حادثے کا شکار ہوگئی جس سے وحید تو معجزاتی طور پر بچ گئے لیکن حادثہ ان کے چہرے پر ایک بڑا نشان چھوڑ گیا تھا۔ کل تک جو ہدایت کار اور پروڈیوسر انہیں اپنی فلم میں شامل کرنے کے لئے برسوں انتظار کرتے تھے وہ اب ان سے پہلو بچانے لگے تھے۔ اس صورت حال سے وہ اس قدر دلبرداشتہ ہوگئے کہ 23 نومبر 1983 کو وہ اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے اور لاہور میں اپنے والد کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے۔

متعلقہ خبریں