Daily Mashriq

عددی اکثریت سے سیاسی معاملات کا حل نکالا جائے

عددی اکثریت سے سیاسی معاملات کا حل نکالا جائے

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی میں عددی اکثریت کے بل بوتے پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے نا اہل قرار دئیے جانے والے رکن قومی اسمبلی کو سیاسی جماعت کا سربراہ بننے سے روکنے کا بل مسترد کردیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے ممبران اسمبلی کی تقسیم کا متوقع خطرہ بھی سامنے نہ آیا اور وہ مبینہ طور پر دبائو میں بھی نہ آئے۔ مسلم لیگی ارکان کا اکٹھ بلا شبہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے لئے باعث اطمینان لمحہ ہونا چاہئے لیکن ایک ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی انتشار اور مد و جزر کی ظاہری کیفیت نہ ہونے کے باوجود بوجوہ سیاسی جماعتوں کو اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر حکمران جماعت مسلم لیگ کا مفاد سیاسی استحکام میں ہے سیاسی جماعتوں کے قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں میں ایک دوسرے سے عدم تعاون کی صورتحال ملک میں سیاسی فضا کے لئے ساز گار امر نہیں۔ حزب اختلاف اگر قومی اسمبلی میں اپنا بل منظور نہ کراسکی تو حکومت کو بھی سینٹ میں دو مرتبہ بل منظور کرانے میں ناکامی کا سامنا ہوچکا ہے اور لگتا نہیں کہ حکومت نا اہلی سے متعلق حکومتی بل کی طرح اس بل کو منظور کرانے میں کامیاب ہوسکے گی۔ ایوان بالا اور ایوان زیریں میں معلق ان معاملات کی سیاسی حکمت کیا ہے اور آیا اس میں بعض سیاسی جماعتوں کی خاموش حمایت اور انڈر سٹینڈنگ موجود ہے یا نہیں اس سے قطع نظر ملکی سیاسی فضاء میں سیاسی جماعتیں تقسیم کا شکار نظر آرہی ہیں جس کا فائدہ غیر جمہوری عناصر کو پہنچے گا خواہ یہ صورتحال ان کے لئے کار گر ہو یا نہ ہو لیکن سیاسی جماعتوں کا سیاسی معاملات میں ڈیڈ لاک اور عدم اتفاق سیاسی فضا کے لئے کوئی نیک شگون امر نہ ہوگا۔ جہاں تک پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کا الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 203 میں ترمیم کا تعلق ہے حکومت کی طرف سے اس کی مخالفت کو حزب اختلاف فرد واحد کو تحفظ دینے اور اس کو نااہلی سے بچانے پر محمول کرتی ہے لیکن وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے ایوان میں اس معاملے میں پانامہ کا معاملہ سامنے آنے سے ڈیڑھ سال قبل حزب اختلاف کے معزز ارکان کا اس معاملے پر اتفاق رائے اور اس شق کے حوالے سے آئینی تاریخ کی وضاحت کرکے اس کا مدلل جواب دیا۔ ان کی اس وضاحت کے بعد کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں ترمیم کو انتخابی اصلاحات کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے نومبر2014ء کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔حکو مت نے حال ہی میں سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری حاصل کرلی تھی جس کے بعد ہی نواز شریف کو دو بارہ مسلم لیگ (ن) کا صدر بننے کا موقع ملااگر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اس وقت نہ چاہتیں تو نواز شریف مسلم لیگ کے صدر کا دوبارہ عہدہ سنبھال ہی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کو یہ بل لانے اور حزب اختلاف کو اس کی منظوری کے لئے تگ و دو کرنی پڑتی جس طرح حزب اختلاف نے اس وقت سینٹ میں حکومتی بل کو دو مرتبہ مسترد کرکے حکومت کو نیچا دکھایا۔ اگر حزب اختلاف مصلحت کا شکار نہ ہوتی یا پھر درون خانہ تقسیم نہ ہوتی تو پھر کسی نا اہل قرار دئیے گئے شخص کا دوبارہ سے پارٹی صدارت سنبھالنے کا موقع ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نا ممکن ہوتا۔ اس بل کی منظوری کے لئے اب حزب اختلاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا عندیہ دے رہی ہے مگر اس صورت میں بھی مسلم لیگ کے پاس سادہ اکثریت موجود ہے جس کی بناء پر اس بل کی منظوری ممکن نظر نہیں آتی۔ سیاست میں مواقع کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور سیاست میں نورا کشتی اور ہیں کواکب کچھ نظر تے ہیں کچھ کے بھی امکانات کی کمی نہیں ہوتی۔ سیاسی دنیا میں اختلافات بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ مذاکرات اور ڈیڈ لاک کی کیفیت سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ سیاست کا حصہ ہوتا ہے سوائے اس کے کہ سیاسی جماعتیں باہم اختلافات کو اس نہج پر لے جائیں کہ بند گلی آجائے اور سیاسی جماعتیں وہاں سے نکل نہ پائیں۔ سیاسی جماعتوں کو سیاسی معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملات ایسے سنگین نہیں کہ سیاسی نظام کو خطرات لاحق ہوں۔ سیاسی جماعتوں کا رویہ پہلے اتفاق اور پھر پینترا بدلنے کا طریقہ کار اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے سیاست کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہے اور عوام میں سیاسی جماعتوں کی قیادت اور سیاست سے بیزاری کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) اگر اس خوف سے نکل آئے کہ نواز شریف کی قیادت کے بغیر ان کی جماعت متحد نہ رہ سکے گی تو اس کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو ایسے طرز عمل سے گریز کرنا چاہئے جو سیاسی روایات کے برعکس ہو بہتر ہوگا کہ حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتیں عددی اکثریت سے معاملات کا فیصلہ کرنے کی بجائے مفاہمت کا راستہ اپنائیں اور سیاسی معاملات کا سیاسی حل نکالنے میں ناکامی کی نوبت نہ آنے دیں۔
ڈیرہ میں چھتیس گھنٹو ں میں دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ
ڈیرہ اسماعیل خان میں 13نومبر سے اب تک تین ایسے افراد جو ایک مذہبی گروہ کے سرگرم رہنما اور بااثر شخصیات نہ ہونے کے باوجود ان کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اس بنا ء پر زیادہ افسوسناک ہیں کہ دشمن عناصر نے عام افراد کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور اب کوئی بھی شخص اپنی چھوٹی سی دکان اور معمولی کاروبار بھی احساس تحفظ کے ساتھ نہیں کر سکتا ۔ گوکہ قابل ذکر اور با اثر افراد کی ٹارگٹ کلنگ بھی یکساں تشویش کا باعث امر ہے لیکن وہ لوگ اپنی نقل و حرکت محدود اور اپنے تحفظ کیلئے محافظین رکھنے کے قابل ہوتے ہیں عام آدمی کے پا س یہ موقع بھی نہیں ہوتا ۔ اس طرح کی صورتحال میں من حیث المجموع عدم تحفظ کا احسا س بڑھ جانا فطری امر بن جا تا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس طرح کے واقعات اچانک رونما ہونے لگے ہیں اور ایک تسلسل کے ساتھ لوگ نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں مگر نامعلوم ٹارگٹ کلر ز کبھی حکام کے ہاتھ نہیں آئے یہ چھلاوے کی مانند افراد کہاں سے نکلتے ہیں کہاں چھپے ہوتے ہیں اور واردات کے بعد فوراً کیسے محفوظ بچ نکلتے ہیں یہ سوالات بار بار اٹھائے گئے مگر نہ تو پولیس کے پاس اس کا کوئی جواب ہے اور نہ ہی پولیس ان کی گرفتاری میں کامیاب ہو پائی ہے ۔ حفظ ما تقدم کے طور پر کوئی اقدامات اگر ہوتے اور پولیس الرٹ ہوتی تو چھتیس گھنٹوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کی یہ دوسری واردات نہ ہوتی ۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں مظلوم لڑکی کے معاملے میں بھی پولیس پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں آئی جی کو اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کا فیصلہ اب کر لینا چاہیئے ۔

اداریہ