Daily Mashriq

فاٹا میں ٹریفک قوانین کے نفاذ میں پیشرفت

فاٹا میں ٹریفک قوانین کے نفاذ میں پیشرفت

شہری علاقوں کی طرح قبائلی علاقوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر حادثات میں اضافہ اور ٹریفک کی بد نظمی پر قابوپانے کیلئے مہمند ایجنسی میں ٹریفک قوانین کی پابندی کرانے کا نظام متعارف کرانا احسن اقدام ہے ۔ اس اقدام سے یہاں کی پولیٹیکل انتظامیہ نے جہاں دیگر ایجنسیوں پر سبقت حاصل کر لی ہے وہاں انہوں نے ایک نمونہ پیش کرکے دکھایا ہے جس کی دیگر قبائلی ایجنسیوں کی انتظامیہ کو تقلید کرنی چاہیئے ۔ قبائلی علاقوں میں’’ فری سٹائل ٹریفک ‘‘ کے عادی افراد جب بندوبستی علاقوں میں آتے ہیں تو وہ ٹریفک قوانین سے عدم واقفیت اور عادت نہ ہونے کے باعث ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹوں کا باعث بنتے ہیں اور حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔ قبائلی بھائیوں کو ان کے علاقوں میں ٹریفک قوانین سے متعارف کرایا جائے تو اس سے شہری ٹریفک میں بھی بہتری آئے گی اور وہاں پر ٹریفک حادثات میں کمی اور بلاوجہ رش بننے کے عمل میں کمی آئے گی ۔ قبائلی علاقہ جات کو بندوبستی علاقے میں ضم کرنے کے بعد شہری قوانین کا نفاذ ہونے جارہا ہے اس لئے بھی جتنا جلد ممکن ہو قبائلی بھائیوں کو شہری قوانین اور معاملات سے پیشگی آگاہی کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
ریٹائرڈ اور شہدا ء کے بچوں کی بھرتی کا مسئلہ
صوبائی حکومت کی طرف سے تمام محکموں میں کلاس تھری سے لیکر سکیل پانچ تک کی خالی آسامیوں پر ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کی بھرتی کیلئے فہرستوں کی طلبی دیر آید درست آید کے مصداق معاملہ ہے ۔ امر واقع یہ ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں سمیت شہدا کے بچوں کو بھرتی کا حق نہ ملنے پر عدالتوں سے رجوع کرنے کی نوبت آتی رہی ہے او ر عدالتوں کے احکامات پر ان کو بھرتی کیا گیا ہے ۔ قانون کے مطابق ایک سال کے اندر بھرتی ہونی چاہیئے مگر متوفیاں اور شہداء کے بچے اب بھی موجود ہیں جن کو ان کا حق نہیں مل پایا ہے ۔ ہمارے تئیں ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کے ساتھ ساتھ شہداء کے بچوں کی بھی فہرست طلب کی جائے اور ان کو بھرتی کیا جائے۔ چونکہ شہداء کی اکثریت کا تعلق پولیس کے محکمے سے ہے لہٰذا پولیس کے محکمے سے اس سلسلے میں خاص طور پر رپورٹ طلب کی جائے اور جو حقدار رہ گئے ہوں ان کو ان کا جائزحق دیا جائے ۔ سرکاری محکموں کا م کرنے والوں کو ہی اگر ان کا حق نہ ملے اور وہ عدالتوں سے رجوع کرنے اور احتجاج پر مجبور ہونے لگیں تو عام آدمی کے بچوں کو سرکاری ملازمت میرٹ پر ملنے کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی ۔ صوبائی حکومت کو فہرستیں ملنے کے بعد کلاس تھری سے لے کر سکیل پانچ تک کی خالی آسامیوں پر ہی ملازمین کے بچوں کی بھرتی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیئے بلکہ سرکاری ملازمین اور شہدا کے بچوں کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ان کو بہتر گریڈوں میں بھی بھرتیوں کی گنجائش کا جائزہ لینا چاہیئے ۔ ضروری نہیں کہ کلاس تھری سے لے کر سکیل پانچ تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کے بچے اسی گریڈ میں ہی بھرتی ہو جائیں ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ صوبائی حکومت اس سلسلے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور حقدار افراد کے بچوں کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق آسامیوں پر بھرتی کیا جائے گا ۔

اداریہ