اسلام آباد ھرنا ۔۔ چند سوال

اسلام آباد ھرنا ۔۔ چند سوال

سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔ سیکرٹری دفاع‘ سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کو بھی طلب کر لیا ہے۔ دھرنا سترھویں روز بھی جاری ہے۔ دھرنے کے لیڈروں کا ایک مطالبہ حکومت نے تسلیم کر لیا ہے اور راجہ ظفر الحق کی تحقیقاتی رپورٹ عام کردی ہے اور اس کی تفصیل تمام ارکان پارلیمنٹ کو فراہم کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں متذکرہ حلف نامے میں ترمیم کی ذمہ داری محض وزیر قانون زاہد حامد پر ڈالنا درست نہیں ہے۔ یہ مسودہ قانون تقریباً ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کی کمیٹی کے زیرِ غور رہا۔ پہلے اس پر پارلیمنٹ کی 16رکنی کمیٹی نے غور کیا ‘ پھر پارلیمنٹ ہی کی 34رکنی کمیٹی نے اس پر غور کیا‘ اس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ انہیں سطور میں یہ بات ایک سے زیادہ بار کہی جا چکی ہے کہ ساری پارلیمنٹ اس بل کی منظوری کی ذمہ دار ہے کیونکہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کی منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں بل پیش کرنا وزیر قانون کی ذمہ داری ہے ۔یہ پسِ منظر بیان کرنا اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ اس معاملے میں بہت سے سوال تشنہ جواب ہیں جو شاید عدالت عظمیٰ کے زیرِ غور بھی آئیں گے۔ جب احتجاج شروع ہوا تو حکومت کی طرف سے متذکرہ ترمیم کو کلیریکل غلطی کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی گئی اور اس ترمیم کو واپس لینے کا عندیہ دیاگیا۔ کیا راجہ ظفر الحق کی رپورٹ میں یہ بات شامل ہے کہ اگر یہ کلیر یکل غلطی تھی تو کس مرحلے پر موجودہ قانون میں شامل ہوئی؟ کیا ابتدائی مسودہ کی تیاری میں یا اس کے بعد کسی مرحلے میں؟ اگر یہ غلطی مسودے کی ابتدائی تیاری کے وقت شامل ہوئی تو وزارت قانون اور وزیر قانون کی ذمہ داری اس میں زیادہ ہے ‘ اس کے بعد 16رکنی کمیٹی اور 34رکنی کمیٹی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ اور صدر مملکت کی۔ جنہوں نے اس مسودے کے مضمرات اور الفاظ پر کماحقہ غور نہیں کیاجو ان کا فرض منصبی تھا۔ اس غلطی سے آگاہی کے بعد حکومت نے اس میں ایک اور ترمیمی بل پیش کیا جس میں ترمیم والی شق حذف کرکے سابقہ قانون کی شق بحال کی اور پارلیمنٹ نے اسے بھی عجلت کے ساتھ کر لیا۔ اور کہا کہ ہم نے اس ترمیم کی جگہ سابقہ شق بحال کر دی ہے‘ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔ (۲)۔ ختم نبوت سارے مسلمانوںکا حساس معاملہ ہے ۔ اس معاملے میں نیب کے قانون ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھاکہ چوری یا کرپشن کی رقم برآمد کر کے وصول کر لی اور ملزم کو باعزت بری کر دیا۔ کیا زیادتی کرنے کے بعد آئی ایم سوری کہنے سے زیادتی کا ارتکاب ختم ہو جاتا ہے؟ یہ معلوم کیا جانا چاہیے تھا کہ ذمہ داری کس کی تھی۔ اگر یہ ساری پارلیمنٹ اور صدر مملکت سمیت سب کی غلطی تھی تو اس کی نشاندہی کی جانی چاہیے تھی ۔ غلطی کا ارتکاب تو ہوا تھا ۔ نیا ترمیمی بل منظور کرنے کے بعد غلطی کا ازالہ تو ہو گیا لیکن غلطی کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالی گئی۔ راجہ صاحب کی رپورٹ میں پارلیمانی کمیٹی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے اس مسودہ قانون کو پاس کیا تھا لیکن اخبارات میں جو خبر شائع ہوئی ہے اس میں یہ نہیں ہے کہ ساری پارلیمنٹ نے بھی اور صدر مملکت نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔ ان کا مواخذہ کون کرے گا؟ یہ کہنا کہ آئندہ انتخابات میں ووٹر ان کا احتساب کریں گے عدل کا منہ چڑانے کے مترادف ہو گا۔ عام آدمی اگر کوئی غلطی کرے تو پولیس ‘ تھانہ اور کچہری فعال ہو جاتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ کوئی غلطی کرے تو آئندہ انتخابات میں عوام ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں‘ یہ دہرا معیار ہو گا۔ (۳)۔ حکومت کی طرف سے اس احتجاج کے بارے میں نہایت ناسمجھی پر مبنی بیانات آئے۔ ایک وزیر مملکت نے کہا کہ یہ لوگ سیاست چمکانے کے لیے لاشیں اُٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرف بھی واضح اشارہ کیا۔ ایسی باتیں بھی کی گئیں کہ دھرنے والوں کی تعداد نہایت مختصر ہے اور پولیس ایکشن کے ذریعے دھرنا ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ باتیں کھلی اشتعال انگیزی تھیں کیا حکومت دھرنے میں شدت خود چاہتی تھی۔ (۴)۔ عقیدہ ختم نبوت تمام مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے جن کی نمائندگی مختلف دینی جماعتیں ‘ تنظیمیں اور وہ جماعتیں بھی جنہیں دینی نہیں کہا جاتا‘ کرتی ہیں۔ کیا ان تمام جماعتوں اور تنظیموں نے تحریک لبیک سے کوئی رابطہ کیا کہ اس موضوع پر کوئی مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے۔ کیا تحریک لبیک نے دوسری جماعتوں اور تنظیموں سے رابطہ کیا۔ (۵)۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک لبیک کی طرف سے راستہ روکنے اور نازیبا زبان استعمال کرنے کے بارے میں کچھ سوال اٹھائے ہیں ۔ دھرنے والوں کو ان کا جواب دینا ہوگا۔(۶)۔ احتجاج کسی زیادتی‘ کسی ناانصافی یا حق تلفی کی نشاندہی کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ متعلقہ حکام اور ادارے اس کا ازالہ کریں۔ اگر متعلقہ ادارے اور ذمہ دار افراد اس کا ازالہ نہ کریں تو ان کی شکایت عدالتوں سے کی جاتی ہے ، کیا دھرنے والوں نے اس غلطی کے ازالے کے لیے اداروں سے رجوع کیا۔ دھرنے والوں نے خود ہی غلطی کی نشاندہی کی اور خود ہی اس کی سزا بھی تجویز کر دی اور اس پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ ان کا وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر اصرار کس شرعی یا رائج ملکی قانون کے تحت جائز ہے۔ جب سب یہ جانتے ہیں کہ اس غلطی کے ارتکاب میں پارلیمنٹ کے ارکان کی غفلت‘ کوتاہی بھی شامل ہے تو اس کے بارے میں دھرنے والوں کی خاموشی کے کیا معنی ہیں۔ (۶) دھرنے والے ایک ہی سانس میں ختم نبوت کے ارفع عقیدے کا ذکر بھی کرتے ہیں اور اسی سانس میں ایسی نازیبا زبان بھی استعمال کرتے ہیں جس کا ضبط تحریر میں لانا مناسب نہیں اور جن سے عام مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں جب کہ قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اچھے اخلاق کی تلقین ہے ۔کیا دھرنے والے اس کا جواب دیں گے؟ ۔

اداریہ