کانٹے بوئے ببول کے تو پھول کہا ں سے آئے

کانٹے بوئے ببول کے تو پھول کہا ں سے آئے

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ بل جو نااہل قرار دیئے گئے کسی شخص کو عوامی نمائندگی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کی سربراہی سے روکنے کیلئے پیش کیا گیا تھا اور جو سینیٹ سے پہلے ہی منظور ہو چکا تھا ، مطلوبہ تعداد پورے نہ ہونے کی بناء پر اور حکومتی ارکان کی بھر پور مخالفت کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا ، یوں جہاں ایک طرف حکومتی بنچوں کو اپنے پارٹی سربراہ میاں نواز شریف کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں کامیابی ملی وہاں چند ہفتوں سے بعض سیاسی رہنمائوں کی جانب سے مسلسل کئے جانے والے اس پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا بھی خارج ہوگئی کہ حکمران جماعت لیگ (ن) میں دراڑ یں پڑ چکی ہیں اور بعض رہنماء تو مبینہ طور پر منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کی تعداد بھی بتارہے تھے ،فی الحال میاں نواز شریف کے سرپر لٹکتی تلوار ہٹ چکی ہے لیکن خطرہ مکمل طور پر ٹلا بھی نہیں کیونکہ سینیٹ سے پاس ہونے والا بل قومی اسمبلی سے مسترد ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے ، بلکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اب مسئلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جائے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت کو شاید وہاں سے اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے میں بہت ہی دقت کا سامنا کرنا پڑے اور بعض چھوٹی جماعتوں کو اپنے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کرنے کیلئے ’’سیاسی رشوت ‘‘ دیتے ہوئے بعض ایسے سمجھوتوں پر مجبور ہونا پڑے جس پر سیاسی فضا میں ’’ہلچل ‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ 

پریت کرے تو کیوں کرے اور کر کے کیوں پچھتائے
کانٹے بوئے ببول کے تو پھول کہا ں سے آئے
میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے اور پھر نظر ثانی اپیل مسترد ہونے کے بعد جہاں وہ اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ، وہیں ان کے مخالفین انہیں ہر صورت میں سیاسی میدان سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف نے پانامہ کے حوالے سے اقامہ پر فیصلہ آنے کے بعد اداروں کے حوالے سے جولب ولہجہ اختیار کیا وہ عمومی طور پر ملکی سیاست میں مقبولیت کے درجے پر فائز نہیں ہو سکا ، اور سیاسی فضا میں تلخی پیدا ہونے کے آثار گہرے ہوتے جارہے تھے ، تاہم بعد میں انہوں نے صرف عدلیہ کو نشانے پر رکھنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بعض سوال اٹھائے اور کہا کہ ڈکٹیٹروں کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے ، آئین سے وفاداری کا حلف لینے کے باوجود پی سی او کے تحت حلف لیا یوں آئین بے توقیر ہوتا رہا ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ 12اکتوبر 1999ء کو ہونے والے ٹیک اوور پر بھی نوٹس لینے کے بجائے اس وقت کے آمر جنرل مشرف کو نہ صرف قانونی اور آئینی جواز دیا گیا بلکہ انہیں آئین میں ترمیم کا حق بھی دے دیا جس کا کسی نے مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔ جہاں تک میاں نواز شریف کی شکایت کا تعلق ہے اس کو غلط ثابت کرنا یقینا ممکن نہیں ہے ، تاہم اگر اسے آدھا سچ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اگر ماضی میں عدلیہ نے مارشل لائوں یا پھر آمروں کے غیر آئینی اقدامات کو نظر یۂ ضرور ت ایجاد کرتے ہوئے ہمیشہ قبولیت کے درجے پر فائز کیا تو بعد میں ان فیصلوں کو پارلیمنٹ نے توثیق کی سند عطا کرنے میں جس وسیع النظری کا ثبوت دیا ، وہ ان سیاستدانوں کیلئے باعث توقیر ہر گز نہیں ہو سکتا جو ان اقدامات کے ذمہ دار تھے ۔ جہاں تک آمروں کو آئین میں ترامیم کا اختیار دینے کے حوالے سے بقول میاں نواز شریف کسی کی جانب سے مطالبہ نہ کرنے کی بات کا تعلق ہے تو کون جانے کہ آئین میں ترمیم کیلئے اس دور کی عدلیہ سے خود آمر نے ہی مطالبہ کیا ہو مگر اس حوالے سے کسی بھی جانب سے اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہ سمجھا گیا ہو ، اس لئے بظاہر تو عدلیہ پر ہی یہ الزام بھی لگ رہا ہے ، تاہم جنرل مشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دینے کے پس پردہ حقائق کیا ہیں اگر متعلقہ ممبران عدلیہ بھی خو د ہی اس سے پردہ اٹھائیں تو شاید حقائق سامنے آسکیں ، ویسے جو دعوے اب تک کئے جارہے ہیں اور جن کی وجہ سے ماضی کی متعلقہ عدلیہ بد نام ہورہی ہے ، اس حوالے سے اگر ضیاء الحق کے و ہ الفاظ یا دکئے جائیں جو موصوف نے آئین کو بے توقیر کرتے ہوئے کہے تھے کہ آئین کی حیثیت کیا ۔ چند صفحوں کا ایک چیتھڑا جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں ، تو شاید ’’بن مانگے ‘‘ ترمیم کا اختیار عطا کرنے کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔
میں کس نظام میں جیتا رہا ہوں اتنے برس
خود اپنے آپ سے نفرت سی ہوگئی ہے مجھے
ویسے جو سوال آجکل میاں نواز شریف اٹھا رہے ہیں ، ان سوالوں کو اگر وہ خود اپنے آپ سے بھی پوچھ لیں تو اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا ۔ کیونکہ بقول شیخ رشید آف راولپنڈی خود میاں صاحب بھی ایک آمر ہی کے گملے میں پروان چڑھے ہیں اور اگر ضیاء الحق ان کی سیاسی پرداخت نہ کرتے تو آج وہ زیادہ سے زیادہ ایک چھوٹے سے صنعتکار ہی ہوتے ، اسی طرح موجودہ دور میں کئی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی سیاسی آبیاری آمروں کے ’’فارم ہائوسز ‘‘ میں کی گئی ہے ، لے دے کر چند ایک سیاسی خانوادے ایسے ہیں جن کے آبائو اجداد کے کریڈٹ پر تحریک آزادی میں قربانیاں رقم ہیں ۔ بہرحال صورتحال کس کروٹ بیٹھتی ہے اور میاں صاحب کا سیاسی مستقبل کیا ہوتا ہے اس کا فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں ہو سکتا ہے ۔

اداریہ